قومی

Additional excise duty on tobacco products: مرکز کا تمباکو مصنوعات پر اضافی ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کا فیصلہ، یکم فروری سے ہوگا نافذ العمل

نئی دہلی: وزارت خزانہ نے سگریٹ اور دیگر تمباکو مصنوعات پر ایکسائز ڈیوٹی میں بڑی تبدیلی کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے، جو یکم فروری 2026 سے نافذ العمل ہوگا۔ بدھ کے روز جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، حکومت نے سگریٹ پر ان کی لمبائی اور قسم کے لحاظ سے فی ایک ہزار سگریٹ 2,050 روپے سے 8,500 روپے تک اضافی ایکسائز ڈیوٹی عائد کی ہے۔

جی ایس ٹی کے علاوہ عائد ہوگی نئی ڈیوٹی

یہ اضافی ایکسائز ڈیوٹی تمباکو اور اس سے ملتی جلتی مصنوعات پر پہلے سے عائد 40 فیصد گڈز اینڈ سروسز ٹیکس (جی ایس ٹی) کے علاوہ ہوگی۔ یہ اضافہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب حال ہی میں پارلیمنٹ نے تمباکو مصنوعات اور ان کی تیاری پر ایکسائز ڈیوٹی بڑھانے سے متعلق ایک بل منظور کیا ہے۔

سینٹرل ایکسائز (ترمیمی) بل 2025

حال ہی میں پارلیمنٹ سے منظور ہونے والے سینٹرل ایکسائز (ترمیمی) بل، 2025 کا مقصد جی ایس ٹی کمپنسیشن سیس کی مدت ختم ہونے کے بعد تمباکو اور متعلقہ مصنوعات پر ایکسائز ڈیوٹی میں نظرِ ثانی کرنا ہے۔ وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے کہا تھا کہ اس ڈیوٹی سے حاصل ہونے والی آمدنی ڈیویژیبل پول میں جائے گی اور اس کا 41 فیصد حصہ ریاستوں میں دوبارہ تقسیم کیا جائے گا۔ انہوں نے پارلیمنٹ میں کہا: ’’کئی ارکان نے کہا کہ یہ سیس ہے، لیکن ایکسائز سیس نہیں ہے۔ جی ایس ٹی سے پہلے بھی ایکسائز ڈیوٹی موجود تھی۔ کمپنسیشن سیس اب مرکز کے پاس واپس آ رہا ہے، جسے ایکسائز ڈیوٹی کے طور پر وصول کیا جائے گا اور 41 فیصد کے تناسب سے ریاستوں میں تقسیم کیا جائے گا۔‘‘

صحت عامہ کے خدشات اور ٹیکس میں اضافہ

وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ دنیا کے کئی ممالک میں تمباکو پر ٹیکس سالانہ بنیاد پر بڑھایا جاتا ہے، جبکہ کچھ ممالک اسے مہنگائی سے جوڑتے ہیں۔ انہوں نے کہا: ’’بھارت میں بھی جی ایس ٹی سے پہلے تمباکو کی شرحوں میں ہر سال اضافہ کیا جاتا تھا۔ اس کی بنیادی وجہ صحت سے متعلق خدشات تھے، کیونکہ قیمتوں اور ٹیکس میں اضافہ لوگوں کو اس عادت سے باز رکھنے کے لیے کیا جاتا تھا۔‘‘

تمباکو کی کاشت میں کمی

نرملا سیتارمن کے مطابق، حکومت کی مختلف پالیسیوں اور اقدامات کے باعث 2018 سے 2021-22 کے درمیان تمباکو کی کاشت کے تحت آنے والا 1.12 لاکھ ایکڑ (45,323 ہیکٹیئر) رقبہ دیگر فصلوں کی طرف منتقل ہوا ہے۔ یہ رقبہ گنا، مونگ پھلی، آئل پام، کپاس، مرچ، مکئی، پیاز، دالوں اور ہلدی جیسی فصلوں میں منتقل کیا گیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

China Gold Reserves Reaches 2410 Tons: چین آخر کیا چال چل رہا ہے؟ 23 ماہ سے مسلسل سونا خرید رہا ہے

چین مسلسل 23 ماہ سے سونے کی خریداری کر رہا ہے، جس سے اس کے…

40 minutes ago

Jio now sets its sights on the US and Germany: جیو کی نظریں اب امریکہ اور جرمنی پر: 12 شراکت داریوں کے ذریعے 150 کروڑ صارفین تک پہنچنے کی امید

ہندوستان کی ثابت شدہ ٹیکنالوجی اب دنیا تک پہنچنے کے لیے تیار، ترقی یافتہ ممالک…

2 hours ago