قومی

لوک سبھا میں اب ہوں گے 850 اراکین پارلیمنٹ، مرکزی حکومت نے تیار کیا پلان، خواتین ریزرویشن بل میں ہوگا یہ التزام

نئی دہلی: حکومت نے ناری شکتی وندن ایکٹ کونافذ کرنے کے لئے 16 سے 18 اپریل تک پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلایا ہے۔ اس سیشن میں حکومت تین اہم بل پیش کرے گی، جو2029 کے لوک سبھا انتخابات سے لوک سبھا اورریاستی قانون سازاسمبلیوں میں خواتین کے لئے 33 فیصد ریزرویشن کونافذ کرے گی۔ آئین (131 ویں ترمیم) بل، 2026 لوک سبھا میں پارلیمانی امورکے وزیر مملکت ارجن رام میگھوال پیش کریں گے۔ یہ اہم آئینی ترمیم ملک کے بدلتے ہوئے آبادیاتی ڈھانچے، ریاستوں کے درمیان آبادی کے عدم توازن، شہری کاری اورجمہوری نمائندگی کومزید جامع اورمتوازن بنانے کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔
بل کا پس منظر
آئین کے آرٹیکل 82 اور170 ہرمردم شماری کے بعد لوک سبھا اورریاستی قانون سازاسمبلیوں میں سیٹوں کی دوبارہ تقسیم کرنے کا التزام کرتے ہیں۔ تاہم، 1971 کی مردم شماری کی بنیاد پرنشستوں کی الاٹمنٹ کوآئین (84ویں ترمیم) ایکٹ، 2001 کے ذریعہ 2026 کے بعد پہلی مردم شماری تک ملتوی کردیا گیا۔ سیٹوں کی تعداد میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ فی الحال، ملک کی آبادی کے ڈھانچے میں نمایاں تبدیلیاں، ریاستوں کے درمیان آبادی میں اضافہ میں عدم برابری، اندرونی نقل مکانی اورتیزی سے شہری کاری نے بہت سے حلقوں میں نمائندگی کے توازن کودرہم برہم کردیا ہے۔ اس کوذہن میں رکھتے ہوئے یہ بل لایا گیا ہے۔
لوک سبھا کی تشکیل میں اہم تبدیلیاں
بل کے تحت لوک سبھا کی تشکیل میں اہم ترامیم مجوزہ ہیں۔ لوک سبھا میں اراکین کی کل تعداد کوبڑھا کر850 تک بڑھانے کی تجویز ہے۔ 815 اراکین کوریاستوں سے منتخب کرنے کا فارمولہ ہے۔ جبکہ مرکزکے زیرانتظام ریاستوں سے 35 اراکین منتخب ہوں گے۔  اس اضافے کا مقصد ملک کی موجودہ آبادی کے مطابق نمائندگی کو یقینی بنانا ہے۔
عوامی آبادی کی نئی تعریف
اس بل میں واضح کیا گیا ہے کہ آبادی کا مطلب پارلیمنٹ کے ذریعہ قانون کے ذریعہ طے شدہ مردم شماری سے ہوگا، جسے پارلیمنٹ قانون کے ذریعہ مقررکرے گی اور جس کے باضابطہ اعدادوشمار شائع ہوچکے ہوں گے۔ یہ شق صدرارتی الیکشن (آرٹیکل 55)، لوک سبھا (آرٹیکل 81)، ریاستی قانون سازاسمبلیوں (آرٹیکل 170) اورریزرویشن کی دفعات (آرٹیکل 330 اور 332) پر یکساں طورپرلاگوہوگی۔
حد بندی کے عمل میں اصلاحات
سیٹیں مختص کرنے اورانتخابی حلقوں کودوبارہ ترتیب دینے کا کام اب واضح طورپرحد بندی کمیشن کوسونپا جائے گا۔ ہرمردم شماری کے بعد کے انتظام کوختم کرکے اس عمل کومزید لچکدار اوربروقت بنایا گیا ہے۔ سال 2026 کے بعد اگلی مردم شماری کا انتظارکرنے کی شرط ختم کردی گئی ہے۔ یہ دوبارہ ڈرائنگ کے عمل کوتیزتراورزیادہ موثربنائے گا۔ خواتین کے ریزرویشن کو پورا کیا جائے گا۔ یہ بل آئین (106ویں ترمیم) ایکٹ، 2023 (ناری شکتی وندن ایکٹ) کے نفاذ کوتیزکرنے کے لئے پیش کیا گیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو-

Nisar Ahmad

Recent Posts

Adani Ahmedabad Marathon: اڈانی احمد آباد میراتھن کے 10ویں ایڈیشن کی آفیشل جرسی جاری

اڈانی احمد آباد مریاتھن کے 10ویں ایڈیشن کی آفشل جرسی جاری کر دی گئی۔ احمد…

58 minutes ago

Saint Trilochan Darshan Das: روحانیت اور یوگا کا تاریخی سنگم، ہریدوار میں سنت تریلوچن درشن داس اور سوامی رام دیو کی جذباتی ملاقات

پتنجلی یوگ پیٹھ پہنچنے پر سوامی رام دیو جی نے انتہائی احترام اور سادگی کے…

1 hour ago

SP Workers Protest in Delhi: اعظم خان کی حمایت میں دہلی میں ایس پی کارکنوں کا احتجاج، کہا- ’سازش کے تحت درج ہوئے 350 مقدمات

احتجاج کے دوران سماج وادی پارٹی کے لیڈران پی ایم کے نام ایک میمورنڈم بھی…

2 hours ago