نئی دہلی: پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس میں پیر، 2 فروری کا دن انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ لوک سبھا میں صدرِ جمہوریہ کے خطاب پر شکریہ کی تحریک پر بحث کا آغاز ہونے جا رہا ہے۔ دوپہر 12 بجے شروع ہونے والی اس بحث کے دوران حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سخت سیاسی نوک جھونک کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ اس بحث کی شروعات بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے مرکزی وزیر سروانند سونووال کریں گے۔ لوک سبھا میں صدر کے خطاب پر یہ بحث تین دن تک جاری رہے گی۔ ذرائع کے مطابق، اس دوران اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی بھی ایوان میں اپنی بات رکھ سکتے ہیں۔ بحث کے اختتام پر 4 فروری کو وزیر اعظم نریندر مودی لوک سبھا میں اپوزیشن کے سوالات اور اعتراضات کا جواب دیں گے، جبکہ راجیہ سبھا میں وزیر اعظم کی جانب سے جواب 5 فروری کو دیا جائے گا۔
پیر کو لوک سبھا میں شکریہ کی تحریک پر بحث کے لیے مجموعی طور پر 18 گھنٹے کا وقت مختص کیا گیا ہے۔ بی جے پی کی جانب سے سروانند سونووال کے بعد تیجسوی سوریہ ایوان میں پارٹی کا مؤقف پیش کریں گے۔ حکومت کی کوشش رہے گی کہ صدر کے خطاب میں پیش کی گئی پالیسیوں، ترقیاتی منصوبوں اور وژن کو مضبوط انداز میں ایوان کے سامنے رکھا جائے۔
اسی روز راجیہ سبھا میں بھی صدر کے خطاب پر بحث دوپہر 2 بجے سے شروع ہوگی۔ وہاں بی جے پی کی طرف سے بحث کی شروعات سدانند ماسٹر کریں گے، جبکہ میگھا وشروام کلکرنی، جے پی نڈا، سدھانشو ترویدی سمیت کئی سینئر لیڈر حکومت کا مؤقف پیش کریں گے۔ دونوں ایوانوں میں حکومت کی حکمت عملی صدر کے خطاب کو ترقی اور استحکام کے روڈ میپ کے طور پر پیش کرنے کی ہوگی۔ ادھر اپوزیشن جماعتیں اس بحث کو حکومت کو گھیرنے کے ایک بڑے موقع کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق، منگل کو ہونے والی آل پارٹی میٹنگ میں اپوزیشن نے مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی ایکٹ (ایم جی نریگا) کی بحالی، انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی (ایس آئی آر) اور یو جی سی سے متعلق تنازعات سمیت کئی اہم مسائل اٹھانے کا عندیہ دیا ہے۔
لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی پیر کو صدر کے خطاب پر بحث کے دوران مودی حکومت کی معاشی، سماجی اور انتخابی پالیسیوں پر حملہ آور ہو سکتے ہیں۔ کانگریس کے چیف وہپ محمد جاوید نے کہا ہے کہ پارٹی چاہتی ہے کہ اس اہم بحث کے دوران راہل گاندھی اپنی بات رکھیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کانگریس کے کئی اراکین بحث میں حصہ لینا چاہتے ہیں، تاہم پارٹی کو محدود وقت کے پیش نظر مقررین کے ناموں کو حتمی شکل دینی ہوگی۔ لوک سبھا اسپیکر کی جانب سے 2 فروری سے شروع ہونے والی اس بحث کے لیے کل 18 گھنٹے کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق، یہ بحث آنے والے دنوں میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان پارلیمانی ماحول کی سمت طے کرے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو-
ہرارے اسپورٹس کلب میں کھیلے گئے مقابلے میں آسٹریلیا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 50…
جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے زمین سے متعلق منی لانڈرنگ کیس میں کارروائی روکنے کی درخواست…
ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی کی جانب سے نندی گرام میں کانگریس امیدوار کی…
جلیل اختر کو 19 جون کو پولیس نے حراست میں لیا تھا، عدالت نے سرکاری…
ٹرانسپورٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ قوانین پر عمل یقینی بنانا ضروری ہے، لیکن ضابطے…
بھارت ایکسپریس نیوز نیٹ ورک کے اردو صحافت کانکلیو میں سابق مرکزی وزیرشاہنوازحسین اور سابق…