تہران: ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر خطرناک مرحلے میں داخل ہوتی نظر آ رہی ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے سخت بیانات اور کھلی دھمکیوں کے تبادلے نے مشرقِ وسطیٰ میں بے چینی بڑھا دی ہے۔ ایک طرف امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ امریکہ ہر ممکن طریقے سے ایران سے نمٹنے کے لیے تیار ہے، تاہم وہ بات چیت کو ترجیح دیتے ہیں، جبکہ دوسری جانب ایران مسلسل خبردار کر رہا ہے کہ کسی بھی حملے کا بھرپور اور سخت جواب دیا جائے گا۔ اسی پس منظر میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکہ کو ایک سخت اور واضح پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکہ نے ایران پر حملہ کیا تو اس کے نتائج محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے خطے میں جنگ بھڑک اٹھے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ کوئی ایسا تنازع نہیں ہوگا جو آسانی سے ختم ہو جائے، بلکہ اس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔
اتوار کو جاری اپنے بیان میں آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ امریکہ کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ ایران جنگ کا آغاز کرنے والا ملک نہیں ہے، لیکن اگر اس پر جنگ مسلط کی گئی تو ایران نہ صرف اپنا دفاع کرے گا بلکہ حملہ آور کو سخت نقصان بھی پہنچائے گا۔ انہوں نے کہا، ”ہم کسی ملک پر حملہ نہیں چاہتے، مگر جو کوئی ہمیں نقصان پہنچانے یا ہمیں دھمکانے کی کوشش کرے گا، اسے منہ توڑ جواب دیا جائے گا“۔ ایرانی سپریم لیڈر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک اور متنازعٰ دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت اب ایران کے بجائے وینزویلا سے تیل خریدے گا۔ ٹرمپ کے اس بیان کو ایران کے خلاف امریکی دباؤ کی پالیسی سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے، تاہم اس حوالے سے بھارت کی جانب سے اب تک کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
خطے میں بڑھتے تناؤ کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔ قطر کی وزارتِ خارجہ کے مطابق وزیرِ اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی نے ایران کے اعلیٰ حکام سے رابطہ کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی سے ملاقات کے دوران خطے میں کشیدگی کم کرنے کی تمام کوششوں کے لیے قطر کی حمایت کا اعادہ کیا گیا۔ دوسری جانب ایران کی عسکری قیادت نے بھی سخت لہجہ اختیار کر لیا ہے۔ ایک روز قبل تہران میں ایک قومی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی آرمی چیف میجر جنرل امیر حاتمی نے کہا کہ ایرانی فوج مکمل دفاعی اور جنگی تیاری میں ہے۔ انہوں نے کہا، ”آج اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج دشمن کی ہر حرکت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور ہماری انگلی ٹریگر پر ہے“۔
امیر حاتمی نے خبردار کیا کہ اگر دشمن نے کوئی غلطی کی تو اس سے نہ صرف امریکہ بلکہ اسرائیل اور پورے خطے کی سلامتی خطرے میں پڑ جائے گی۔ انہوں نے ان پڑوسی ممالک کے مؤقف کا خیرمقدم بھی کیا جنہوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف اپنے علاقے یا فضائی حدود استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ واقعی مسئلے کا حل چاہتا ہے تو اسے دھمکیوں کے بجائے احترام اور برابری کی بنیاد پر بات چیت کرنی ہوگی۔ خامنہ ای اور ایرانی عسکری قیادت کے سخت بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان تناؤ آنے والے دنوں میں مزید شدت اختیار کر سکتا ہے، جس کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بوکارو میں میچ کے دوران 37 سالہ کھلاڑی کجرا مرمو دوسرے کھلاڑی سے ٹکرانے کے…
کیرالہ کے سابق چیف سیکریٹری جیجی تھامسن کے دعوے کے بعد کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل…
سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی مجوزہ عوامی ریلی سے قبل سیاسی کشیدگی دیکھنے کو…
ریاستی دارالحکومت لکھنؤ میں آندھی اور بارش نے کئی برسوں کے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔…
کانگریس رکن پارلیمنٹ نے کہا- ہم اپنی پارٹی کے وفادار ہیں، اتحاد پر فیصلہ پارٹی…
چیف الیکشن کمشنر (CEC) گیانیش کمار سے متعلق جاری تنازع کے درمیان الیکشن کمیشن نے…