اوٹاوا/نئی دہلی: مارک کارنی 26 فروری سے 7 مارچ تک بھارت، آسٹریلیا اور جاپان کے دورے پر روانہ ہوں گے۔ ان کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس دورے کا مرکز تجارت، توانائی، ٹیکنالوجی اور دفاع کے شعبوں میں کاروباری مواقع کو فروغ دینا ہوگا۔ بیان کے مطابق وزیراعظم کارنی سب سے پہلے ممبئی جائیں گے، اس کے بعد نئی دہلی میں نریندر مودی سے ملاقات کریں گے۔ دونوں رہنما کینیڈا-بھارت تعلقات کو وسعت دینے اور تجارت، توانائی، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت (اے آئی)، ہنرمندی، ثقافت اور دفاع کے شعبوں میں نئی اور باوقار شراکت داری قائم کرنے پر گفتگو کریں گے۔ کارنی بھارتی و کینیڈین کاروباری رہنماؤں سے بھی ملاقات کریں گے تاکہ سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کیے جا سکیں۔ یہ دورہ کارنی کا وزارت عظمیٰ سنبھالنے کے بعد بھارت کا پہلا دورہ ہوگا۔ انہوں نے سابق وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کے بعد عہدہ سنبھالا ہے۔
ہند-کینیڈا تجارتی تعلقات
کینیڈین حکومت کے مطابق 2024 میں بھارت کینیڈا کا اشیا و خدمات کے شعبے میں ساتواں بڑا تجارتی شراکت دار تھا اور دو طرفہ تجارت کا حجم تقریباً 31 ارب امریکی ڈالر رہا۔ 2025 کے جی 20 قائدین اجلاس کے دوران نئی دہلی اور اوٹاوا نے جامع اقتصادی شراکت داری معاہدہ (سی ای پی اے) پر باضابطہ مذاکرات شروع کرنے پر اتفاق کیا تھا، جس کا مقصد 2030 تک دو طرفہ تجارت کو بڑھا کر 70 ارب ڈالر تک پہنچانا ہے۔ کارنی کے دفتر کے بیان میں کہا گیا ہے کہ غیر یقینی عالمی حالات کے درمیان کینیڈا اپنی معیشت کو مضبوط، خودمختار اور مستحکم بنانے پر توجہ دے رہا ہے، تجارت کو متنوع بنا رہا ہے اور عالمی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
آسٹریلیا اور جاپان کا دورہ
بھارت کے بعد کارنی سڈنی اور کینبرا جائیں گے جہاں وہ آسٹریلوی وزیر اعظم انتھونی البانیز سے ملاقات کریں گے۔ اس دوران دفاع اور بحری سلامتی، اہم معدنیات، تجارت اور جدید ٹیکنالوجی خصوصاً اے آئی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بات چیت ہوگی۔ وہ آسٹریلیا کی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب بھی کریں گے، جو تقریباً دو دہائیوں میں کسی کینیڈین وزیر اعظم کا پہلا خطاب ہوگا۔ جاپان کے شہر ٹوکیو میں کارنی جاپانی وزیر اعظم تاکائیچی سانائے سے ملاقات کریں گے۔ اس ملاقات میں صاف توانائی، جدید مینوفیکچرنگ، اہم معدنیات اور غذائی تحفظ کے شعبوں میں سرمایہ کاری اور شراکت داری کو مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ دونوں رہنما آزاد اور کھلے ہند-بحرالکاہل خطے کے لیے سلامتی و دفاعی تعاون پر بھی بات کریں گے۔ بیان میں کارنی کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ بدلتی ہوئی دنیا میں کینیڈا ان شعبوں میں سرمایہ کاری کر رہا ہے جہاں اس کی مضبوطی ہے، تجارت کو متنوع بنا رہا ہے اور عالمی سطح پر نئے روابط استوار کر کے اپنے شہریوں اور کاروبار کے لیے نئے مواقع پیدا کر رہا ہے۔ بھارت کو دنیا کی تیزی سے ابھرتی ہوئی بڑی معیشت اور عالمی تجارت و ٹیکنالوجی کا اہم مرکز قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون مستقبل میں اقتصادی اور اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مستحکم کرے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
وزیر اعظم نریندر مودی کے 25 سالہ عوامی خدمت کے سفر کے موقع پر 17…
یورپی کمیشن کی صدر نے سعودی عرب کے خلاف حوثی حملے کی مذمت کرتے ہوئے…
سیریز کا آخری مقابلہ 17 ستمبر کو اسی میدان پر کھیلا جائے گا۔ ٹاس ہار…
وزارت خارجہ نے کہا، وزیر اعظم نریندر مودی نے شی جن پنگ سے ملاقات میں…
یو پی آئی، ڈیٹا پروٹیکشن قانون اور سیمی کنڈکٹر مشن کے ذریعے بھارت ڈیجیٹل خودمختاری…
نئے کسٹمز معاہدے سے کلیئرنس میں تاخیر کم ہونے کی امید، اے ای او پروگرام…