قومی

SC in Action on Delhi Air Pollution: آلودگی پر سپریم کورٹ سخت، دہلی کے 300 کلومیٹر دائرے سے ہٹیں گے کوئلہ پلانٹس؟ مرکز اور ریاستوں کو نوٹس جاری

دہلی این سی آر میں فضائی آلودگی سے متعلق دائر مختلف عرضیوں پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ آف انڈیا نے مرکزی حکومت اور ملک کی تمام ریاستی حکومتوں کو مختلف نکات پر نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا ہے۔ چیف جسٹس سوریا کانت اور جسٹس جوئمالیہ باگچی پر مشتمل بنچ نے یہ نوٹس جاری کیا۔ عدالت نے مرکز سے یہ وضاحت بھی مانگی ہے کہ دہلی سے 300 کلومیٹر کے دائرے میں قائم کیے جانے والے نئے کوئلہ پر مبنی پاور پلانٹس کو دہلی این سی آر سے باہر منتقل کرنے کی تجویز پر حکومت کا کیا مؤقف ہے۔ اس کے علاوہ سپریم کورٹ آف انڈیا نے اتر پردیش، راجستھان اور ہریانہ کی حکومتوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ کوئلہ پر مبنی صنعتوں کے حوالے سے عوامی نوٹس جاری کریں۔ عدالت نے ریاستوں سے یہ بھی پوچھا ہے کہ ان صنعتوں کو دہلی این سی آر کے دائرے سے باہر کیسے منتقل کیا جا سکتا ہے۔ عدالت نے وزارت ماحولیات جنگلات و موسمیاتی تبدیلی، وزارت پیٹرولیم و قدرتی گیس اور وزارت بجلی سے اس تجویز پر جواب طلب کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ دہلی سے 300 کلومیٹر کے دائرے میں آئندہ کسی بھی کوئلہ پر مبنی تھرمل پاور پلانٹ کی اجازت نہ دی جائے۔ عدالت نے ان وزارتوں کو مشترکہ تجویز پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ این سی آر میں ان صنعتوں کی نشاندہی کی جائے جو مکمل طور پر کوئلے پر منحصر ہیں اور یہ طے کیا جائے کہ انہیں متبادل ایندھن کے طور پر کون سا فیول فراہم کیا جا سکتا ہے۔ اپنے حکم میں عدالت نے واضح کیا کہ دہلی این سی آر میں گاڑیوں کی بڑھتی تعداد اور ان سے ہونے والا اخراج فضائی آلودگی کی بڑی وجوہات میں شامل ہے۔ اس پہلو پر آئندہ سماعت میں تفصیلی غور کیا جائے گا۔ عدالت اس معاملے پر 12 مارچ کو تفصیلی سماعت کرے گی۔

ریاستوں نے مخالفت کی تو حکم جاری کریں گے: سی جے آئی سوریا  کانت

چیف جسٹس سوریا کانت نے کہا کہ اگلی سماعت میں یہ بھی دیکھا جائے گا کہ موجودہ قوانین جیسے بی ایس-6 معیار، آلودگی جانچ نظام اور گریڈیڈ رسپانس ایکشن پلان (GRAP) مؤثر طریقے سے نافذ ہو رہے ہیں یا نہیں۔ عدالت کے معاونِ خصوصی (امیکس کیوری) نے تجویز دی کہ تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ میٹنگ کی جانی چاہیے کیونکہ بعض ریاستیں اس منصوبے کی مخالفت کر سکتی ہیں۔

اس پر چیف جسٹس سوریا کانت نے واضح کیا کہ اگر وزارتیں مشترکہ تجویز پیش کرتی ہیں اور ریاستیں اس کی مخالفت کرتی ہیں تو عدالت مناسب حکم جاری کرے گی۔ گزشتہ سماعت میں بھی عدالت نے ایک ماہر ادارہ تشکیل دینے کی بات کہی تھی جو آلودگی کی اصل وجوہات کی نشاندہی کرے اور یہ بتائے کہ سب سے زیادہ آلودگی کن عوامل سے پیدا ہو رہی ہے، تاکہ عوام کو بھی اس کی درست معلومات حاصل ہو سکیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Asian Games 2026: ایشین گیمز 2026، پی ایم مودی اور صدر جمہوریہ نے تمغہ جیتنے والے بھارتی کھلاڑیوں کو دی مبارکباد

باکسنگ میں لو لینا بورگوہین، پروین ہڈا اور انکش پنگھال نے گولڈ جیتا، ریسلنگ میں…

27 minutes ago

IRCTC Case: آئی آر سی ٹی سی منی لانڈرنگ کیس میں لالو خاندان کی مشکلیں بڑھیں، لالو، رابڑی اور تیجسوی کی کل عدالت میں پیشی

IRCTC منی لانڈرنگ کیس میں لالو پرساد یادو، رابڑی دیوی اور تیجسوی یادو ہفتہ کو…

50 minutes ago

Raja Warring met Rahul Gandhi: پنجاب کانگریس میں بڑی تبدیلی، امریندر سنگھ راجہ وڈنگ نے راہل گاندھی کو سونپا استعفیٰ

امریندر سنگھ راجہ وڈنگ نے پنجاب کانگریس کے صدر کے عہدے سے باضابطہ استعفیٰ دے…

1 hour ago

The Altruistic Saint of Indian Politics: ہندوستانی سیاست کے بے لوث درویش لال بہادر شاستری

لال بہادر شاستری نے اقتدار کی بلند ترین منزل پر پہنچ کر بھی عام آدمی…

2 hours ago