قومی

President Murmu wrote a letter to SC: ’’کیا صدر اور گورنروں کو عدالت کے سامنے جواب دہ بنایا جا سکتا ہے؟‘‘، صدر دروپدی مرمو نے سپریم کورٹ کو لکھا خط

تمل ناڈو کیس میں سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے کے ایک ماہ بعد، جس نے صدر اور گورنروں کے لیے مقننہ کے ذریعے منظور کیے گئے بلوں کو منظور کرنے کے لیے ایک ڈیڈلائن مقرر کی تھی، صدر دروپدی مرمو نے سپریم کورٹ کو خط لکھا ہے اور پوچھا ہے کہ کیا گورنروں پر ٹائم لائن کی پابندی عائد کی جا سکتی ہے؟

صدر مرمو نے آئین کی دفعہ 143 کے تحت سپریم کورٹ کی رائے طلب کی ہے۔ آئین کی یہ دفعہ صدر کو قانونی مسائل یا عوامی اہمیت کے معاملات پر عدالت سے مشورہ کرنے کا اختیار دیتی ہے۔ صدر مرمو نے سپریم کورٹ کو خط لکھتے ہوئے پوچھا ہے کہ ’’کیا گورنر آئین ہند کی دفعہ 200 کے تحت اپنے سامنے بل پیش کیے جانے کے دوران دستیاب تمام اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے وزراء کی کونسل کے ذریعہ فراہم کردہ امداد اور مشورے کا پابند ہے؟‘‘

صدر مرمو نے مزید پوچھا کہ کیا گورنر کے خلاف عدالت میں مقدمہ چلایا جائے گا؟ انھوں نے آئین کی دفعہ361 کا حوالہ دیا، جس میں کہا گیا ہے کہ صدر یا گورنر اپنے عہدے کے اختیارات اور فرائض کے استعمال کے لیے کسی عدالت کے سامنے جواب دہ نہیں ہوں گے۔ صدر مرمو نے لکھا ہے کہ میں اس معاملے میں سپریم کورٹ کی رائے جاننا چاہتی ہوں۔

جسٹس جے بی پاردی والا اور جسٹس آر مہادیون کی بنچ نے سنایا تھا فیصلہ

واضح رہے کہ اپریل میں جسٹس جے بی پاردی والا اور جسٹس آر مہادیون کی بنچ نے تمل ناڈو میں ڈی ایم کے حکومت اور گورنر آر این روی کے درمیان تنازعے کے سبب تعطل کا شکار بلوں کو حل کرنے کے لیے عدالت کے خصوصی اختیارات کا استعمال کیا تھا۔ عدالت نے کہا کہ گورنر کا 10 بلوں کو منظور کرنے سے انکار ’’غیر قانونی‘‘ تھا اور اس نے صدر اور گورنرز کو مقننہ کی طرف سے دوسری مرتبہ منظور شدہ بلوں کو منظوری دینے کے لیے تین ماہ کی ڈیڈ لائن مقرر کی۔

فیصلے میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ صدر کو آئینی معاملات پر عدالتوں سے مشورہ کرنا چاہیے۔ لہٰذا صدر مرمو نے اس فیصلے کے حوالے سے سپریم کورٹ کی رائے طلب کی ہے۔اب یہ سپریم کورٹ کا اختیار ہے کہ آیا وہ صدر کی طرف سے اٹھائے گئے اس مسئلے کو دیکھنے کے لیے ایک آئینی بنچ تشکیل دیتی ہے یا اپنے پہلے فیصلے کو دہراتی ہے۔ واضح رہے کہ صدر کا خط ایسے وقت میں گیا ہے، جب سپریم کورٹ کو چیف جسٹس آف انڈیا بی آر گوائی کی شکل میں ایک نیا سربراہ ملا ہے، جنھوں نے کل ہی سی جے آئی کا حلف لیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Ghulam Mohammad

Recent Posts

US-Greenland: گرین لینڈ پر امریکا کا قبضہ ، ٹرمپ کے دھورے  خواب ہوئے پورے، روس اور چین کو بڑے جھٹکے

امریکی حکام کے مطابق روس اور چین جیسے ممالک کی گرین لینڈ میں حساس سرمایہ…

1 hour ago

?Will India Face a 100% Tariff: بھارت پر لگ سکتا ہے 100 فیصد ٹیرف؟ ٹرمپ نے نئے قانون پر دستخط کیے

قانون میں امریکا کے یورپی اتحادیوں کو بعض پابندیوں سے بچانے کے لیے بھی گنجائش…

2 hours ago

Delhi – NCR Weather Today: دہلی -این سی آرمیں پر چھائے رہیں گے بادل، ہلکی بارش کے امکانات، حبس کرے گا پریشان

محکمۂ موسمیات کے مطابق اب مانسون کمزور پڑ رہا ہے، جس کے باعث بارش میں…

2 hours ago

JUSTICE B.R. GAVAI ADDRESS: باوقار زندگی کے بغیر حقوق بے معنی، جسٹس بی آر گوائی کا 9ویں این سی چاگلہ لیکچر سے خطاب

سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس بھوشن رام کرشن گوائی نے کہا کہ محض سیاسی…

11 hours ago

Jayant Chaudhary meets PM Modi: وزیراعظم نریندر مودی سے اہل خانہ کے ساتھ ملے جینت چودھری، اتحاد کا دیا پیغام

مرکزی وزیر اور راشٹریہ لوک دل (آر ایل ڈی) کے صدر جینت چودھری نے جمعہ…

12 hours ago