قومی

بنگال میں ٹی ایم سی لیڈران پر انڈے پھینکنے پرکلکتہ ہائی کورٹ نے لگائی پھٹکار، حکومت سے مانگی تفصیلی رپورٹ

مغربی بنگال میں اقتدارکی تبدیلی کے بعد عوامی احتجاج کا ایک نیا اندازسامنے آیا ہے، جسے ‘ایگ تھیریپی’ کا نام دیا جا رہا ہے۔ ناراض عوام سیاسی شخصیات پران کے قریب پہنچتے ہی انڈے پھینک رہے ہیں۔ اب یہ معاملہ عدالت تک پہنچ گیا ہے۔ کلکتہ ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کوہدایت دی ہے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے گائیڈ لائن تیارکئے جائیں۔ عدالت نے اس سلسلے میں ریاستی حکومت سے تفصیلی رپورٹ بھی طلب کی ہے۔ عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اس طرح کے واقعات کوروکنے کے لئے ریاستی حکومت اورپولیس انتظامیہ کوسخت اقدامات کرنے ہوں گے۔

بی جے پی کے اقتدارمیں آنے کے بعد ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے لیڈران پرانڈے پھینکنے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، جس کے خلاف ٹی ایم سی لیڈران نے عدالت سے رجوع کیا۔ اسی درخواست پرسماعت کرتے ہوئے عدالت نے ریاستی حکومت سے ان معاملات پررپورٹ طلب کی اورہدایت دی کہ ایسے واقعات میں ملوث افراد کی شناخت کرکے ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ اس سے قبل ٹی ایم سی کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے بھی خبردارکیا تھا کہ ایسے حملوں میں ملوث افراد کوعدالت کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

ابھیشیک بنرجی پرحملے سے ہوئی تھی شروعات

انڈے پھینکنے کے سلسلے کی شروعات ترنمول کانگریس کے جنرل سکریٹری اوررکن پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی پرحملے سے ہوئی تھی۔ اقتدارکی تبدیلی کے بعد وہ ایک جاں بحق پارٹی کارکن کے اہل خانہ سے ملاقات کے لئے جاتے وقت ان پرانڈوں سے حملہ کیا گیا۔ ان کے کپڑے پھاڑدیئے گئے، وہ کسی طرح ہیلمیٹ پہن کرموقع سے نکلے۔ پھریہی حادثہ ریاست کے الگ الگ حصوں میں ترنمول کانگریس کے لیڈران کے ساتھ پیش آیا۔ اس ہنگامے میں ان کے کپڑے بھی پھاڑدیئے گئے اوروہ کسی طرح ہیلمٹ پہن کروہاں سے نکلنے میں کامیاب ہوئے۔

سبیہ ساچی دتہ پربھی انڈے پھینکے گئے، جب انہیں عدالت میں پیش کیا گیا۔ کنال گھوش پربھی کالی گھاٹ میں سابق وزیراعلیٰ کی رہائش گاہ کے سامنے انڈوں سے حملہ کیا گیا۔ اسی معاملے پرمنگل کوسماعت کے دوران قائم مقام چیف جسٹس تپوبرت چکرورتی نے ریاستی حکومت سے کہا کہ ہمیں معاشرے میں بیداری پیدا کرنا ضروری ہے۔ عدالت نے سوال کیا کہ حکومت نے اب تک اس سلسلے میں کیا اقدامات کئے ہیں؟ اگرصرف ایک یا دو افراد کوگرفتار کرلیا جائے توکیا مسئلہ حل ہوجائے گا؟

لیڈران پرانڈے پھینکنے کے واقعات پرعدالت برہم

جسٹس پارتھ سارتھی چٹرجی نے کہا کہ تمام افراد کی سلامتی کویقینی بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اس پرایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ حکومت پہلے ہی واضح کرچکی ہے کہ کسی کو بھی قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی، تاہم اگرکوئی شکایت موصول نہ ہوتوکارروائی کیسے کی جا سکتی ہے؟ دوسری جانب وکیل کلیان بنرجی نے الزام لگایا کہ پولیس خود ایسے واقعات میں ملوث ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس ہجوم کے ذریعے تشدد (ماب لنچنگ) کوفروغ دے رہی ہے، ایسے میں عوام کیا کریں؟ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عدالت فوری طورپرعبوری حکم جاری کرے کیونکہ ایسے حملے ہوائی اڈوں جیسے حساس مقامات پربھی ہورہے ہیں، بلکہ بعض وزراء بھی لوگوں کوانڈے پھینکنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔ دونوں فریق کے دلائل سننے کے بعد کلکتہ ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کوانڈے پھینکنے کے واقعات کی روک تھام کے لئے گائیڈ لائن تیارکرنے کا حکم دیا اوراس سلسلے میں تفصیلی رپورٹ بھی طلب کرلی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو-

Nisar Ahmad

Recent Posts

National Ayurveda Day 2026: ’دنیا کے لیے پائیدار صحت کا ماڈل ہے بھارت کا آیوروید‘، قومی آیوروید دن پر امت شاہ نے کیا کہا؟

قومی آیوروید دن کے موقع پر مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ نے ملک…

24 minutes ago

Ayushman Bharat 8 Years: ’دنیا کی سب سے بڑی ہیلتھ اسکیم‘، آیوشمان بھارت کے 8 سال مکمل ہونے پر پی ایم مودی نے کیا کہا؟

مرکزی حکومت کی اہم اور دنیا کی سب سے بڑی صحت بیمہ اسکیم ’آیوشمان بھارت‘…

37 minutes ago

Gold Flake Cigarettes Get Costlier: گولڈ فلیک سگریٹ ہوئی مہنگی، جانئے 10 اور 20 سگریٹ والے پیکٹ کی نئی قیمت

سگریٹ کی قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ رواں سال نافذ کیا گیا نیا…

2 hours ago