نئی دہلی: مرکزی وزیرِ داخلہ امت شاہ نے منگل کو ایف سی آر اے 2.0 پورٹل اور ای۔او سی آئی (Overseas Citizen of India) نظام کا افتتاح کیا۔ وزارتِ داخلہ کے مطابق ایف سی آر اے 2.0 پورٹل کو غیر ملکی عطیات (ضابطہ) ایکٹ (FCRA) کے تحت ضابطوں پر عمل درآمد کو آسان بنانے اور نگرانی و نفاذ کے نظام کو مزید مضبوط کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اس نئے پورٹل کے ذریعے رجسٹریشن، تجدید، سالانہ گوشواروں اور دیگر تمام خدمات کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنا دیا گیا ہے۔ وزارت کے مطابق ملک میں اس وقت تقریباً 14 ہزار 500 فعال ایف سی آر اے تنظیمیں ہیں، جن سے ہر سال 15 ہزار سے 20 ہزار درخواستیں اور تقریباً 17 ہزار سالانہ گوشوارے موصول ہوتے ہیں۔ قومی سرکاری کلاؤڈ ’میگھ راج‘ پر قائم اس پورٹل میں مربوط ڈیش بورڈ، آدھار پر مبنی تصدیق، ای۔سائن سہولت اور او سی آر کی مدد سے دستاویزات کے تجزیے جیسی جدید سہولتیں شامل کی گئی ہیں۔
ای۔او سی آئی نظام سے خدمات مکمل آن لائن
وزارتِ داخلہ کے مطابق نئے ای۔او سی آئی نظام کے تحت درخواست دہندگان اب مکمل عمل آن لائن انجام دے سکیں گے، جس میں درخواست جمع کرانا، ضروری دستاویزات اپ لوڈ کرنا اور منظوری کے بعد ڈیجیٹل او سی آئی کارڈ حاصل کرنا شامل ہے۔ پہلے سے او سی آئی کارڈ رکھنے والے افراد بھی بیشتر معاملات میں نئی درخواست یا جسمانی تصدیق کے بغیر اپنا ڈیجیٹل ای۔او سی آئی کارڈ حاصل کر سکیں گے۔ نئے نظام کے تحت 20 سال کی عمر کے بعد نیا پاسپورٹ حاصل کرنے پر او سی آئی بک لیٹ دوبارہ جاری کرانے کی شرط ختم کر دی گئی ہے، تاہم کارڈ ہولڈرز کو نیا پاسپورٹ جاری ہونے کے بعد اس کی تفصیلات آن لائن اپ ڈیٹ کرنا ہوں گی۔ اوورسیز سٹیزن آف انڈیا (OCI) اسکیم کا آغاز اگست 2005 میں کیا گیا تھا۔ اس کے تحت 26 جنوری 1950 یا اس کے بعد بھارت کے شہری رہنے والے یا اس تاریخ کو بھارتی شہریت کے اہل افراد کو، سوائے پاکستان، بنگلہ دیش یا مرکز کی جانب سے مطلع کردہ دیگر ممالک کے سابق یا موجودہ شہریوں کے، او سی آئی کے طور پر رجسٹر ہونے کی سہولت دی جاتی ہے۔
ایف سی آر اے قواعد میں نئی ترامیم
ایف سی آر اے 2.0 پورٹل کا آغاز ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب وزارتِ داخلہ نے حال ہی میں غیر ملکی عطیات (ضابطہ) ترمیمی قواعد، 2026 نافذ کیے ہیں۔ ان ترامیم کے تحت مذہبی سرگرمیوں کے زمرے میں قابلِ اجازت کاموں کی تفصیلی فہرست جاری کی گئی ہے، جس میں مندروں، مساجد، گرجا گھروں، گردواروں، خانقاہوں، یہودی عبادت گاہوں اور دیگر مذہبی مقامات کی تعمیر، مرمت اور دیکھ بھال شامل ہے۔ قواعد کے مطابق مذہبی صحائف کی حفاظت، اشاعت، ترجمہ، ڈیجیٹلائزیشن، مذہبی فلسفے اور تاریخ کے مطالعے سے متعلق اداروں کی معاونت، زائرین کے لیے بنیادی سہولتوں کی فراہمی، دھرم شالاؤں، لنگر اور اجتماعی طعام کے انتظامات بھی قابلِ اجازت سرگرمیوں میں شامل ہوں گے۔ اس کے علاوہ مذہبی تعلیم، اخلاقی تربیت، ستسنگ، مذہبی خطابات، مراقبہ، روحانی موسیقی، مذہبی فنون اور مقامی و قبائلی مذہبی روایات کے تحفظ کی اجازت دی گئی ہے، تاہم مذہب کی تبلیغ یا تبدیلیٔ مذہب (Proselytisation) سے متعلق سرگرمیوں کو واضح طور پر ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ ترمیمی قواعد میں ’کلیدی عہدیدار‘ (Key Functionary) کی نئی تعریف بھی شامل کی گئی ہے۔ قواعد کے مطابق غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) کو نئی قسط حاصل کرنے سے پہلے پہلے سے موصول شدہ غیر ملکی فنڈز کا کم از کم 75 فیصد استعمال کرنا لازمی ہوگا۔ اس کے ساتھ فنڈز کے استعمال سے متعلق مزید نگرانی اور تعمیل کے ضوابط بھی متعارف کرائے گئے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
مرکزی حکومت کی اہم اور دنیا کی سب سے بڑی صحت بیمہ اسکیم ’آیوشمان بھارت‘…
وزیراعظم مودی نے اپنے پیغام میں قومی شاعر کی عظیم شخصیت کو یاد کرتے ہوئے…
جسٹس دتا نے کہا کہ اگرچہ دونوں ججوں کا نتیجہ مختلف ہے، لیکن ان کا…
سگریٹ کی قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ رواں سال نافذ کیا گیا نیا…
قاضی توقیر سے گفتگو کے دوران گلّو نے اپنی زندگی کے اس مشکل دور کو…
۔شعیب جمائی نے دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے…