قومی

Joint Press Conference: برازیل کو بھارت سے بڑی امیدیں، مل کر کام کریں گے تو مزید مضبوط ہوں گے: صدر لولا دا سلوا

نئی دہلی: برازیل کے صدر لولا دا سلوا نے کہا ہے کہ برازیل کو بھارت سے بہت زیادہ توقعات وابستہ ہیں اور اگر بھارت اور برازیل مل کر کام کریں تو دونوں ممالک عالمی سطح پر مزید مضبوط بن سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران بھارت کے بڑھتے عالمی اثر و رسوخ پر روشنی ڈالی اور کشمیر حملے کا بھی ذکر کیا۔

صدر لولا نے بھارت آمد پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کا چھٹا بھارت دورہ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی ملاقات انتہائی نتیجہ خیز رہی۔ ان کے مطابق یہ صرف گلوبل ساؤتھ کی دو بڑی جمہوریتوں کی ملاقات نہیں بلکہ ایک ڈیجیٹل سپر پاور اور قابلِ تجدید توانائی کی سپر پاور کے درمیان شراکت داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور برازیل امن اور کثیرالجہتی نظام کے حامی ممالک ہیں۔

انہوں نے یاد دلایا کہ گزشتہ سال جولائی میں برازیلیا میں وزیر اعظم مودی کے دورے کے دوران دفاع، خوراک، توانائی، ڈیجیٹل تبدیلی اور صنعتی تعاون سمیت کئی اہم شعبوں میں دوطرفہ معاہدوں کو نئی سمت دی گئی تھی۔ لولا کے مطابق دونوں ممالک ثقافتی تنوع سے بھرپور بڑے ممالک ہیں اور عالمی امن کے فروغ کے لیے یکساں سوچ رکھتے ہیں۔

صدر لولا نے بدلتی ہوئی عالمی جغرافیائی سیاست کے تناظر میں بھارت اور برازیل کی آواز کو نہایت اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ غیر یقینی عالمی ماحول میں اسٹریٹجک مذاکرات کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک اقوام متحدہ، عالمی تجارتی تنظیم اور جی-20 جیسے عالمی اداروں میں منصفانہ اور قانون پر مبنی عالمی نظام کے قیام کے لیے شراکت دار ہیں۔

انہوں نے BRICS سربراہی اجلاس میں وزیر اعظم مودی کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 21ویں صدی کے تقاضوں کے مطابق عالمی اداروں میں اصلاحات ناگزیر ہیں، خاص طور پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں۔ لولا نے کہا کہ برازیل اور بھارت اس کی مستقل رکنیت کے قدرتی امیدوار ہیں۔

اقوام متحدہ میں اصلاحات کے حوالے سے انہوں نے جی4 گروپ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ برازیل، بھارت، جاپان اور جرمنی گزشتہ دو دہائیوں سے سلامتی کونسل کی توسیع کے لیے کوشش کر رہے ہیں اور مستقبل میں اس سمت پیش رفت ضرور ہوگی۔

پہلگام حملے پر بات کرتے ہوئے صدر لولا نے کہا کہ برازیل ہمیشہ کشمیر میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کی مذمت کرتا آیا ہے۔ ان کے مطابق دہشت گردی کو کسی مذہب یا قومیت سے جوڑنا درست نہیں اور بین الاقوامی قانون کا احترام ضروری ہے۔

اس سے قبل نئی دہلی کے حیدرآباد ہاؤس میں وزیر اعظم مودی اور صدر لولا کے درمیان دوطرفہ ملاقات ہوئی، جس میں ڈیجیٹل شراکت داری، ریئر ارتھ اور اہم معدنیات کے شعبے میں تعاون اور اسٹیل سپلائی چین سے متعلق تین مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔ دونوں ممالک نے آئندہ پانچ برسوں میں باہمی تجارت کو 20 ارب ڈالر سے زیادہ تک پہنچانے کا ہدف بھی مقرر کیا ہے۔

بھارت کے سرکاری دورے پر آئے صدر لولا کا صدارتی محل میں باضابطہ استقبال کیا گیا، جہاں انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا اور صدر دروپدی مرمو اور وزیر اعظم مودی نے ان کا خیرمقدم کیا۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

JNU Students on Indefinite Hunger Strike: جے این یو میں طلبہ کی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال، یہ ہیں اہم مطالبات

طلبہ کا الزام ہے کہ بھوک ہڑتال کے دوران JNU کے وائس چانسلر نے چیف…

49 minutes ago

Jantar Mantar Protest: جنتر منتر پر اپوزیشن کے احتجاج کے پیش نظر سکیورٹی سخت، دفعہ 163نافذ

سکیورٹی انتظامات کے تحت جنتر منتر کے آس پاس کے حساس مقامات پر اضافی پولیس…

1 hour ago

Navi Mumbai Airport: نوی ممبئی ایئرپورٹ سے اب سفر ہوگا انتہائی آسان، اڈانی گروپ نے شروع کیں ای-شیوائی بسیں

موسم سرما کے شیڈول سے قبل نوی ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے لیے مناسب کرائے والی…

11 hours ago