قومی

BMC Election 2026: بی ایم سی انتخابات سے قبل کانگریس نے شیوسینا یو بی ٹی کو قرار دیا دھوکے باز، بی جے پی کو بھی گھیرا

مہاراشٹر کے برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (BMC Election 2026) سے قبل سیاسی منظرنامہ تیزی سے تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ اس بار شیوسینا (یو بی ٹی) سے الگ ہو کر کانگریس کی جانب سے ایک بڑا بیان سامنے آیا ہے۔ ممبئی کانگریس کے نائب صدر اکھیلیش یادو نے شیوسینا (یو بی ٹی) اور بی جے پی پر سخت حملہ کرتے ہوئے شمالی ہند کے لوگوں کے خلاف دیے جا رہے بیانات کی شدید مذمت کی ہے۔

شمالی ہند کے لوگوں نے بھی خون بہایا ہے: اکھیلیش یادو

ممبئی کانگریس کے نائب صدر اکھیلیش یادو نے شیوسینا (یو بی ٹی) اور بی جے پی پر شمالی ہند کے باشندوں کی توہین کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات میں شیوسینا (یو بی ٹی) کی بھرپور مدد کی اور اس نئی پارٹی کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا، مگر اس کے بدلے میں شیوسینا (یو بی ٹی) نے شمالی ہند کے لوگوں کی پیٹھ میں خنجر گھونپتے ہوئے مہاراشٹر نونرمان سینا (MNS) کے ساتھ اتحاد کر لیا۔ اکھیلیش یادو نے مزید کہا،’’شمالی ہند کا سماج خوددار سماج ہے۔ ممبئی کی ترقی میں ہمارے بزرگوں کا پسینہ اور خون بھی شامل ہے۔ کانگریس نے شیوسینا (یو بی ٹی) کو لوک سبھا اور اسمبلی میں سہارا دیا، مگر انہوں نے شمالی ہند کے لوگوں کے ساتھ دھوکہ کیا۔ اسی وجہ سے اس بار ہم نے شیوسینا (یو بی ٹی) کے ساتھ اپنا اتحاد توڑ لیا ہے۔‘‘

بی جے پی کو بھی آڑے ہاتھوں لیا

کانگریس لیڈر اکھیلیش یادو نے ایم این ایس اور بی جے پی دونوں پر شمالی ہند کے لوگوں کی توہین کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ ایم این ایس نے شمالی ہند کے لوگوں کی توہین کی ہے اور بی جے پی کی حکومت نے ایم این ایس کی حمایت کی ہے۔ میں تمام شمالی ہند کے بھائیوں سے اپیل کرتا ہوں کہ اب اپنے اپمان کا بدلہ لینے کا وقت آ گیا ہے۔ شیوسینا (یو بی ٹی)، شیوسینا (ایک ناتھ شندے) اور بی جے پی کو سبق سکھانے کا وقت آ گیا ہے۔ اگر ہمیں اپنے خودداری کی حفاظت کرنی ہے تو ان جماعتوں کو ایک بھی ووٹ نہیں دینا چاہیے۔

سیاسی اثرات اور انتخابی منظرنامہ

کانگریس لیڈر کے اس بیان کے بعد ٹھاکرے برادران کے خلاف شمالی ہند کی سیاست مزید تیز ہونے کے آثار نظر آ رہے ہیں، جبکہ بی جے پی کو بھی شمالی ہند مخالف پارٹی کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ایسے میں BMC Election 2026 میں کس کو فائدہ ہوگا، یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا۔ ایک طرف مراٹھی اسمتا کے مسئلے پر ٹھاکرے برادران ہیں، تو دوسری جانب بی جے پی اور شیوسینا (ایک ناتھ شندے) اپنی ترقیاتی پالیسیوں کو عوام کے سامنے رکھ رہی ہیں۔ وہیں کانگریس نے بھی اپنا مؤقف واضح کر دیا ہے، جس کے بعد ممبئی کی سیاست میں مقابلہ مزید دلچسپ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Supreme Court on Traffic Challan: ٹریفک چالان کی ادائیگی میں نہ کریں تاخیر، بجلی کے بل میں بھی شامل ہوسکتی ہے بقایا رقم؟ سپریم کورٹ نے دی تجویز

سپریم کورٹ نے کہا کہ صرف ای-چالان جاری کرنا کافی نہیں، بقایا جرمانوں کی وصولی…

7 minutes ago

UP Election Muslim Vote Bank: اکھلیش کے پی ڈی اے فارمولے میں اویسی کی انٹری؟ 150 نشستوں پر اے آئی ایم آئی ایم کی تیاری، مسلم ووٹ پر بڑھا مقابلہ

سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو اپنے پی ڈی اے فارمولے کے ذریعے پسماندہ،…

11 minutes ago

Mahendra Bhatt Met PM Modi: اتراکھنڈ بی جے پی صدر مہندر بھٹ نے اہلِ خانہ کے ساتھ پی ایم مودی سے کی ملاقات، بیٹے کی شادی کا دیا دعوت نامہ

مہندر بھٹ اہلیہ، بیٹے اور بیٹی کے ہمراہ وزیر اعظم کی رہائش گاہ پہنچے، بیٹے…

37 minutes ago

Massive Protest Against Gyanesh Kumar: گیانیش کمار کے خلاف کانگریس کا محاذ، دہلی، یوپی سمیت ملک بھر میں احتجاج

چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف کانگریس نے پیر کو ملک گیر احتجاج کیا۔…

43 minutes ago