(تصویر: ٹی این آئی ای)
سیاسی کشمکش اور سنسنی خیز حالات کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی نے نینی تال ضلع پنچایت کی چیئرپرسن کی اہم نشست صرف ایک ووٹ کے معمولی فرق سے جیت لی۔ بی جے پی امیدوار دیپا ڈارم وال کو کامیاب قرار دیا گیا، جب کہ بی جے پی کی ہی دیوکی بشٹ نائب چیئرپرسن منتخب ہوئیں۔ الیکشن دفتر کے مطابق 27 میں سے صرف 22 اراکین نے ووٹنگ میں حصہ لیا۔ دیپا ڈارم وال نے 11 ووٹ حاصل کیے، جب کہ کانگریس امیدوار پشپا نیگی کو 10 ووٹ ملے۔ ایک ووٹ کو کالعدم قرار دیا گیا، جس کے بعد بی جے پی امیدوار نے محض ایک ووٹ سے کامیابی حاصل کی۔
دریں اثنا اس انتخاب کے دوران کانگریس کی جانب سے سنگین الزامات لگائے گئے۔ دی نیو انڈین ایکسپریس نے ایک کانگریس لیڈر کے حوالے سے بتایا کہ ’’ہمارے پانچ ضلع پنچایت ممبران کو اغوا کیا گیا تاکہ وہ ووٹنگ میں حصہ نہ لے سکیں۔‘‘ کانگریس نے اس معاملے پر نینی تال ہائی کورٹ سے بھی رجوع کیا ہے اور معاملہ عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔ دوسری جانب ووٹنگ میں حصہ نہ لینے والے پانچ اراکین نے بعد میں ایک ویڈیو میں دعویٰ کیا کہ وہ ’’صرف سیر و تفریح‘‘ پر تھے اور اسی وجہ سے ووٹ نہیں دے سکے۔
نتائج کے اعلان کے بعد بی جے پی کارکنان نے دیپا ڈارم وال اور دیوکی بشٹ کو ہار پہنائے اور بھرپور جشن منایا۔ انتخابی عملہ نے دونوں کامیاب امیدواروں کو سرکاری اسناد بھی دے دیں۔ دیپا ڈارم وال نے جیت حاصل کرنے کے بعد کہا کہ ’’یہ جیت عوام اور پارٹی کارکنوں کی محنت کا نتیجہ ہے۔ میں تمام اراکین کی شکر گزار ہوں اور یقین دلاتی ہوں کہ ضلع کی ترقی کے لیے پوری ایمانداری سے کام کروں گی۔‘‘ تاہم کانگریس اب بھی انتخابی عمل کو چیلنج کر رہی ہے اور اپنی قانونی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
معطل کیے گئے کانسٹیبل کی شناخت ہنومنتھا کے نام سے ہوئی ہے۔ یہ واقعہ کمالاپورہ…
ممتا بنرجی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں مودی اور شاہ…
ویڈیو میں کئی افراد کرسیوں پر بیٹھے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ وہاں پولیس کے…
ہفتہ کی صبح سی جے پی کے احتجاج سے قبل دہلی پولیس نے بڑی کارروائی…
راہل گاندھی نے کہا کہ وہ 2004 میں سیاست میں آئے تھے اور اس وقت…
احتجاج کرتے ہوئے کسانوں نے کہا کہ جمہوریت میں اپنے مطالبات حکومت کے سامنے رکھنا…