قومی

SC questions AMU VC’s appointment: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی پہلی خاتون وائس چانسلر کی تقرری پر سپریم کورٹ نے اٹھائے سنگین سوال، شوہر کی شمولیت نے شکوک پیدا کیے، عدالت نے شفافیت پر دیا زور

نئی دہلی: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) میں پہلی خاتون وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون کی تقرری کو لے کر سپریم کورٹ نے سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ عدالت عظمیٰ نے واضح طور پر کہا کہ ان کے شوہر اور اس وقت کے قائم مقام وائس چانسلر پروفیسر محمد گلریز کو تقرری کے عمل سے الگ رہنا چاہیے تھا۔ چیف جسٹس بی آر گوئی کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ کسی بھی انتخاب یا تقرری کے عمل میں شفافیت نہ صرف ضروری ہے بلکہ ایسا نظر آنا بھی چاہیے کہ پورا عمل غیر جانب داری کے ساتھ ہوا ہے۔

سپریم کورٹ کی سخت ریمارکس

چیف جسٹس بی آر گوئی، جسٹس کے ونود چندرن اور جسٹس این وی انجاریا پر مشتمل بینچ نے کہا کہ شوہر کی موجودگی اور شرکت اس وقت مناسب نہیں تھی جب اہلیہ کے نام پر غور کیا جا رہا تھا۔ چیف جسٹس گوئی نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ’’جب ہم ججوں کے تقرر کے لیے کالجیم میں بیٹھتے ہیں اور کسی ایسے وکیل کا نام زیرغور ہوتا ہے جو ہمارے ماتحت تھے یا ان سے کسی طرح کا قریبی تعلق رہا ہے تو ہم خود کو اس میٹنگ سے الگ کر لیتے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’یہاں بھی ایسا ہی ہونا چاہیے تھا تاکہ کوئی شک و شبہ باقی نہ رہتا۔‘‘

ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج

پروفیسر مظفرعروج ربانی اور چانکیہ نیشنل لا یونیورسٹی کے چانسلر پروفیسر فیضان مصطفیٰ نے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی ہے۔ ہائی کورٹ نے اگرچہ محمد گلریز کی شمولیت پر عدم اطمینان ظاہر کیا تھا، لیکن تقرری کو درست قرار دیا تھا۔ اس فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے سینئر ایڈووکیٹ کپل سبل نے عدالت عظمیٰ میں دلائل دیے کہ اگر شوہر ووٹنگ اور اجلاس میں شامل نہ ہوتے تو پروفیسر نعیمہ خاتون کا نام پانچ رکنی پینل میں شامل ہی نہیں ہوتا۔

کپل سبل کے دلائل

کپل سبل نے بتایا کہ ایگزیکٹو کونسل کی ووٹنگ کے ذریعے نعیمہ خاتون کا نام جان بوجھ کر پینل میں ڈالا گیا، جس میں پروفیسر فیضان مصطفیٰ، قیوم حسین، مظفر عروج ربانی اور فرقان قمر بھی امیدوار تھے۔ ووٹنگ کے دوران مظفر عروج ربانی کو 61 ووٹ ملے جب کہ مصطفیٰ اور نعیمہ خاتون کو 50-50 ووٹ ملے۔ یہ تین نام اے ایم یو کورٹ (سینیٹ) کے ذریعے صدر جمہوریہ کو بھیجے گئے، جن میں سے صدر نے نعیمہ خاتون کو وائس چانسلر مقرر کیا۔

عدالت میں شکوک و شبہات

سماعت کے دوران چیف جسٹس گوئی نے کہا کہ ’’یقیناً یہ معاملہ شک وشبہ پیدا کرتا ہے۔ اگر بیوی کا نام زیر غور ہو تو شوہر کو اجلاس میں شامل نہیں ہونا چاہیے تھا۔‘‘

جسٹس چندرن نے سماعت سے خود کیا الگ

اس پورے معاملے میں ایک دلچسپ بات دیکھنے کو ملی جب جسٹس کے این چندرن نے سماعت سے خود کو الگ کرتے ہوئے کہا کہ وہ پہلے بہ طور چیف جسٹس پٹنہ ہائی کورٹ، فیضان مصطفیٰ کو چانکیہ نیشنل لا یونیورسٹی کا وائس چانسلر مقرر کر چکے ہیں، اس لیے وہ اب اس مقدمے کی سماعت نہیں کرنا چاہتے۔ دراصل انہوں نے چیف جسٹس بی آر گوئی کے اس موقف کی حمایت کی جس میں انہوں نے کہا تھا کی کسی بھی قریبی کے سلیکشن کے معاملات سے خود کو الگ کرنا ہی بہتر ہوتا ہے۔

مرکز کا موقف

سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت کے سامنے کہا کہ اگرچہ بہتر یہی تھا کہ پروفیسر گلریز اجلاس سے الگ رہتے، لیکن ’’ڈاکٹرین آف نیسیسٹی‘‘ (Doctrine of Necessity) کے تحت بعض اوقات قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے موجودگی ضروری ہوتی ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اس سے تقرری کے عمل کی سالمیت پر کوئی اثر نہیں پڑتا، کیونکہ آخرکار صدر جمہوریہ نے ہی تین ناموں میں سے نعیمہ خاتون کو منتخب کیا۔ ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایشوریا بھاٹی نے بھی دلیل دی کہ تقرری کا پورا عمل مکمل طور پر قواعد و ضوابط کے مطابق کیا گیا اور الہ آباد ہائی کورٹ نے بھی اسے برقرار رکھا تھا۔

نتیجہ اور آئندہ سماعت

اگرچہ عدالت نے پروفیسر نعیمہ خاتون کی تقرری پر براہ راست فیصلہ دینے سے گریز کیا مگر واضح کیا کہ ایسے حساس معاملات میں شفافیت سب سے پہلی شرط ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ’’امور نہ صرف درست ہونے چاہئے بلکہ ایسا نظر بھی آنا چاہئے کہ وہ درست ہیں۔‘‘ کیس کی مزید سماعت آئندہ تاریخ تک کے لیے ملتوی کردی گئی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Adani Power: اڈانی پاور اور ڈروک گرین پاور بھوٹان میں 770 میگاواٹ کا ہائیڈرو پاور منصوبہ قائم کریں گے

یہ ہائیڈرو پاور منصوبہ وسطی بھوٹان کے جھیمگانگ ضلع میں چامکھرچھو دریا پر قائم کیا…

35 minutes ago

JNU Students on Indefinite Hunger Strike: جے این یو میں طلبہ کی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال، یہ ہیں اہم مطالبات

طلبہ کا الزام ہے کہ بھوک ہڑتال کے دوران JNU کے وائس چانسلر نے چیف…

3 hours ago