قومی

BJP responds to Rahul Gandhi claims on CEC Appointment: بی جے پی اور کانگریس میں الیکشن کمشنروں کی تقرری پر سیاسی جنگ، راہل گاندھی کے دعوے کو بی جے پی نے کردیا خارج

نئی دہلی بی جے پی نے الیکشن کمشنروں کی تقرری کے عمل سے متعلق کانگریس لیڈرراہل گاندھی کے دعوے پرپلٹ وارکیا ہے۔ یہ تنازعہ راہل گاندھی کے اس بیان کے بعد شروع ہوا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ماضی میں الیکشن کمشنروں کو ایک ایسی کمیٹی منتخب کرتی ہے، جس میں چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) اوراپوزیشن لیڈر شامل ہوتے تھے۔ 9 دسمبر 2025 کوایکس پرشائع ایک پوسٹ میں بی جے پی نے راہل گاندھی کو سیدھا چیلنج دیتے ہوئے پوچھا کہ وہ کانگریس حکومتوں کے دوران چیف جسٹس یا اپوزیشن لیڈرکی حصہ داری والی کمیٹی کے ذریعہ سے تقرری کئے گئے ایک بھی الیکشن کمشنرکا نام بتائیں۔

بی جے پی کے مطابق، یہ کمیٹی پرمبنی نظام صرف عارضی تھا، جب تک نیا قانون نافذ نہیں ہوجاتا۔ پارٹی بتاتی ہے کہ تاریخی طورپروزیراعظم نے براہ راست الیکشن کمشنرکا تقررکیا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ تاریخی طورپروزیراعظم ہی الیکشن کمشنروں کی راست تقرری کرتے رہے ہیں۔ بی جے پی نے دعویٰ کیا کہ متحدہ ترقی پسند اتحاد (یوپی اے) کے دوراقتدارمیں کانگریس نے کسی کالجیم طرزکے انتخاب کے عمل کی پیروی نہیں کی۔ پارٹی نے 2005 میں نوین چاولہ کی تقرری کی مثال پیش کی اوراس فیصلے کے لئے راست طورپرسونیا گاندھی کوذمہ دارٹھہراتے ہوئے ان کی تقرری پرسوال اٹھایا۔

بی جے پی نے یہ بھی الزام لگایا کہ 2012 میں 2014 کے لوک سبھا الیکشن سے ٹھیک پہلے جب نئے چیف الیکشن کمشنر(سی ای سی) کی تقرری ہونی تھی، تب سینئربی جے پی لیڈرایل کے اڈوانی نے کانگریس کوکالجیم سسٹم اپنانے کا مشورہ دیا تھا۔ حالانکہ کانگریس نے مبینہ طورپراس مشورے کوخارج کردیا اوروی ایس سمپت کوراست طورپرچیف الیکشن کمشنر کی تقرری کی، جسے اس وقت کی صدرپرتبھا پاٹل نے فوری منظوری دے دی۔ بی جے پی نے اپنے پوسٹ میں کہا کہ اس وقت تقرری عمل میں اپوزیشن پارٹیوں سے کوئی تبادلہ خیال نہیں کیا گیا تھا۔

چیف الیکشن کمشنرکے انتخاب پربی جے پی کا زور

بی جے پی نے موجودہ نظام کے ساتھ موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ نظام کے تحت اپوزیشن لیڈرباضابطہ طورپراس کمیٹی کا لازمی حصہ ہے جو چیف الیکشن کمشنر(سی ای سی) کا انتخاب کرتی ہے۔ پارٹی نے راہل گاندھی کے بیانات کو”ڈرامہ” قراردیا اوردلیل دی کہ کانگریس لیڈرتاریخی حقائق کومسخ کررہے ہیں، جبکہ انہیں نئے سی ای سی کے انتخاب کے تعمیری عمل میں تعاون کرنا چاہئے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Nisar Ahmad

Recent Posts

JMI Student Union Elections Will Held In 2027: جامعہ ملیہ اسلامیہ میں 2027 میں ہوں گے طلبہ یونین کے انتخابات، یونیورسٹی کا بڑا فیصلہ

طلبہ کی تحریک کے درمیان انتظامیہ نے جاری کیا حکم، 15 مئی 2027 تک طلبہ…

44 minutes ago

Indian Shooter Asian Games Gold Medal: راہی سرنوبت: این سی سی سے آغاز، عالمی سطح پر کی تاریخ رقم، ہندوستان کی بنیں گولڈن گرل

36ویں سالگرہ پر ہندوستان کی اسٹار نشانے باز کی متاثر کن کہانی، کامن ویلتھ گیمز،…

1 hour ago

Cuba US Sanctions: کیوبا کے حق میں بھارت کا اہم موقف، امریکی پابندیاں ختم کرنے کی قرارداد کی حمایت میں 130 ممالک نےدیا  ووٹ

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکہ کی اقتصادی اور تجارتی پابندیاں ختم کرنے کی…

2 hours ago

Diljit Dosanjh Concert: دلجیت دوسانجھ کے کنسرٹ کے لیے دہلی میٹرو کی خصوصی تیاری، 30 اکتوبر کو رات 12 بجے تک چلیں گی ٹرینیں

جواہر لعل نہرو اسٹیڈیم میں ’اورا انڈیا ٹور 2026‘ کے دوران 70 ہزار سے زائد…

2 hours ago

Saharanpur Lighting: سہارنپور میں آسمانی بجلی گرنے سے مسجد کے مینار کا گنبد تباہ، جل گئے کئی الیکٹرانک آلات

اتر پردیش کے گنگوہ علاقے کے گاؤں گجران میں واقع مسجد پر آسمانی بجلی گرنے…

4 hours ago