قومی

Waqf Amendment Act 2025: وقف ترمیمی قانون کے خلاف بی جے پی کو اتحادی پارٹیوں کی مخالفت کا سامنا، این ڈی اے کے لیڈران بھی پہنچ گئے سپریم کورٹ، جانئے پوری تفصیل

منی پورمیں بی جے پی کی اتحادی پارٹی نیشنل پیپلزپارٹی (این پی پی) کے رکن اسمبلی شیخ نورالحسن نے وقف ترمیمی قانون کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے، جب بی جے پی کی کسی اتحادی پارٹی کے لیڈرنے وقف قانون کی مخالفت میں عرضی داخل کی ہے۔ اس سے پہلے جے ڈی یولیڈرپرویزصدیقی بھی سپریم کورٹ میں عرضی داخل کرچکے ہیں۔

نورالحسن کی عرضی میں درج فہرست ذات کے لوگوں کی زمین کو وقف کرنے پرلگی پابندی کی مخالفت کی گئی ہے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ اگرکوئی درج فہرست قبائل کا کوئی فرد اسلام قبول کرتا ہے تواسے اپنی جائیداد کو وقف کرنے سے روکنا غلط ہے۔ درخواست گزارنے وقف املاک میں وراثت کے قانون کی دفعات کوبرقراررکھنے کوبھی غلط قراردیا ہے۔ عرضی میں صرف اس شخص کو وقف حقوق دینے کی مخالفت کی گئی ہے جو کم ازکم 5 سال سے مسلمان ہے۔

سپریم کورٹ میں داخل کی جاچکی ہیں 20 سے زیادہ عرضیاں

وقف ترمیمی قانون کے خلاف اب تک 20 سے زیادہ عرضیاں سپریم کورٹ میں داخل ہوچکی ہیں۔ کچھ مسلم تنظیموں اورلوگوں کوچھوڑدیں توان عرضیوں میں سے زیادہ اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈران کی ہے۔ اب بی جے پی کی اتحادی 2 پارٹیوں کے لیڈران بھی قانون کے خلاف سپریم کورٹ پہنچ چکے ہیں۔ 16 اپریل کوچیف جسٹس سنجیوکھنہ کی صدارت والی تین ججوں کی بینچ معاملے پرسماعت کرے گی۔ دوسری طرف مغربی بنگال کی تیز طرار رکن پارلیمنٹ اور ترنمول کانگریس لیڈر مہوا موئترا نے بھی وقف ترمیمی ایکٹ کو سپریم کورٹ میں چیلنج پیش کیا ہے۔ 9 اپریل کو سپریم کورٹ میں داخل عرضی میں انھوں نے کہا کہ متنازعہ وقف ترمیم میں نہ صرف سنگین خامیاں ہیں، بلکہ آئین میں موجود کئی بنیادی حقوق کی بھی شدید خلاف ورزی کی گئی ہے۔ عرضی کے مطابق جے پی سی کے سربراہ نے وقف ترمیمی بل پر جے پی سی کی مسودہ رپورٹ پر غور کرنے، اختیار کرنے کے مرحلہ میں اور پارلیمنٹ کے سامنے اس رپورٹ کو پیش کرنے کے مرحلہ میں پارلیمانی اصولوں و روایات کی خلاف ورزی کی ہے۔

اس سے قبل اترپردیش کے سنبھل سے سماجوادی پارٹی رکن پارلیمنٹ ضیاء الرحمن برق، اے آئی ایم آئی ایم لیڈراوررکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی، عام آدمی پارٹی کے لیڈراور اوکھلا کے رکن اسمبلی امانت اللہ خان، ایسوسی ایشن فاردی پروٹیکشن آف سول رائٹس، جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی، آل کیرالہ جمعیۃ علماء، انجم قادری، طیب خان سلمانی، محمد شفیع، محمد فضل الرحیم اورآر جے ڈی لیڈرمنوج کمار جھا نے بھی اس معاملے پر عدالت عظمیٰ کا رخ کیا ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ، جمعیۃ علماء ہند، ڈی ایم کے اور کانگریس رکن پارلیمنٹ عمران پرتاپ گڑھی اورمحمد جاوید بھی اس معاملے میں اہم عرضی دہندگان میں شامل ہیں۔

بھارت ایکپسریس اردو۔

Nisar Ahmad

Recent Posts

INDIA Bloc Meeting: انڈیا بلاک کے لیڈر پھر ہوں گے ایک پلیٹ فارم پر! 30 ستمبر کو میٹنگ، CEC گیانیش کمار کے خلاف حکمتِ عملی پر ہوگی بحث

SIR اور الیکشن کمیشن کے معاملے پر اپوزیشن جماعتیں ایک بار پھر ایک پلیٹ فارم…

18 minutes ago

Milk Price Hike: مہنگائی کی زوردار مار! ٹونڈ ملک سے دہی تک سب کچھ مہنگا، جانیے تازہ ریٹ

جس دودھ کے بغیر دن کی شروعات مشکل ہے، اب اسی کے لیے جیب مزید…

1 hour ago

SIR Controversy: ایس آئی آر پر این ڈی اے میں پھوٹ کے آثار! بی جے پی کے 3 بڑے اتحادی الیکشن کمیشن کے سامنے، مانگی وضاحت

چراغ پاسوان کی ایل جے پی (رام ولاس)، اپیندر کشواہا کی آر ایل ایم اور…

2 hours ago

Amit Shah Tribute: وزیر داخلہ امت شاہ کا خراج عقیدت: تیسرے پاتشاہ شری گرو امرداس جی کے جوتی جوت دیوس پر پیش کیا نمن

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے سکھ مذہب کے تیسرے گرو، شری گرو امرداس جی…

2 hours ago