نئی دہلی: عوامی امتحانات میں پیپر لیک اور نقل جیسے جرائم پر سخت کارروائی کے مقصد سے مرکزی حکومت آج پیر کو پارلیمنٹ میں اہم ترمیمی بل پیش کرے گی۔ “پبلک ایگزامینیشن (غیر منصفانہ ذرائع کی روک تھام) ترمیمی بل 2026” کے تحت سوالیہ پرچہ لیک کرنے اور امتحانی بے ضابطگیوں میں ملوث افراد کے لیے زیادہ سے زیادہ 10 سال قید اور 10 کروڑ روپے تک جرمانے کی تجویز دی گئی ہے۔ مرکزی وزیر جتیندر سنگھ دوپہر تقریباً 12 بجے لوک سبھا میں یہ بل پیش کریں گے۔لوک سبھا میں اس بل پر این ڈی اے کی جانب سے مختلف اتحادی جماعتوں کے پانچ اہم ارکان اپنی بات رکھیں گے۔ ان میں اپنا دل کی انوپریہ پٹیل، شیو سینا کے شریکانت شندے، لوک جن شکتی پارٹی کے ارون بھارتی، این سی پی سی آئی کی سایونی گھوش اور ٹی ڈی پی کے کرشنا دیورایولو شامل ہیں، جو حکومت کا مؤقف پیش کرتے ہوئے مجوزہ قانون کی حمایت کریں گے۔
دوسری جانب اپوزیشن نے واضح کیا ہے کہ وہ حکومت کو اس معاملے پر گھیرنے کا سلسلہ جاری رکھے گی۔ اگرچہ کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور حکومت کی جانب سے اپنی دیگر اہم مانگیں تسلیم کیے جانے کے بعد ہفتہ کے روز جنتر منتر پر جاری احتجاج ختم کرنے کا اعلان کر دیا تھا، کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے اپنا احتجاج جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ جنتر منتر پر مظاہرین کے خلاف پیلیٹ گن کے استعمال کا معاملہ اب بھی ان کے احتجاج کا اہم موضوع رہے گا۔بل کی کاپی کے مطابق، اگر کوئی شخص امتحانات میں سوالیہ پرچہ لیک کرنے یا دیگر غیر قانونی ذرائع استعمال کرنے کا قصوروار پایا جاتا ہے تو اسے کم از کم پانچ سال اور زیادہ سے زیادہ دس سال قید کی سزا سنائی جا سکے گی، جبکہ اس پر 50 لاکھ روپے تک جرمانہ بھی عائد کیا جا سکے گا۔ اسی طرح اگر جرم منظم گروہ یا نیٹ ورک کے ذریعے انجام دیا گیا ہو تو کم از کم سات سال قید اور 10 کروڑ روپے تک جرمانے کی سزا تجویز کی گئی ہے۔
مجوزہ قانون میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایسے تمام مقدمات کی تحقیقات دو ماہ کے اندر مکمل کرنا لازمی ہوں گی۔ تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو خصوصی فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کی ہدایت دی جائے گی تاکہ ان مقدمات کی تیز رفتار سماعت ممکن ہو سکے۔ چارج شیٹ داخل ہونے کے بعد عدالت کو تین ماہ کے اندر مقدمے کا فیصلہ کرنے کی کوشش کرنا ہوگی۔قابل ذکر ہے کہ حکومت نے قومی اہلیت و داخلہ امتحان (نیٹ) کے پیپر لیک معاملے پر طلبہ کے احتجاج میں شدت آنے کے بعد اس سخت قانون کا اعلان کیا تھا۔ نیٹ تنازعے پر اپوزیشن کے شدید احتجاج کے باعث پارلیمنٹ کے موجودہ اجلاس کے پہلے ہفتے کی کارروائی بھی متاثر رہی تھی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس قانون کا مقصد امتحانی نظام میں شفافیت، دیانت داری اور عوامی اعتماد کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
راہل گاندھی نے کہا کہ وہ 2004 میں سیاست میں آئے تھے اور اس وقت…
احتجاج کرتے ہوئے کسانوں نے کہا کہ جمہوریت میں اپنے مطالبات حکومت کے سامنے رکھنا…
کولکاتا کے رہنے والے انیش سرکار نے 2 نومبر 2024 کو محض 3 سال، 9…
دہلی پولیس نے جنتر منتر پر سی جے پی کے احتجاج سے پہلے یوٹیوبر دھرو…
گوتم گمبھیر نے نوجوان تیز گیند باز مایانک یادو کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا…
ڈبلیو ایچ او کے مطابق، کئی ممالک کمیونٹی کی سطح پر ذہنی صحت کی خدمات…