قومی

Bhagalpur Assembly Election 2025: بھاگلپور اسمبلی سیٹ پر بی جے پی اور کانگریس کے درمیان سیاسی جنگ، یہاں سے مسلسل تین بار جیت درج کر چکے اجیت شرما

پٹنہ: بھاگلپور، گنگا ندی کے جنوبی کنارے پر واقع بہار کا تیسرا سب سے بڑا شہر ہے، جو تاریخی اور صنعتی لحاظ سے اپنی خاص پہچان رکھتا ہے۔ قدیم زمانے میں اسے چمپا نگری کے نام سے جانا جاتا تھا۔ بھاگلپور اسمبلی سیٹ، جو شہر اور اس کے آس پاس کے علاقوں کو شامل کرتی ہے، ثقافتی اور سیاسی اعتبار سے بھی بے حد اہم ہے۔

’سلک سٹی‘ کے نام سے مشہور ہے بھاگلپور

بھاگلپور کو بھارت کا ’سلک سٹی‘ کہا جاتا ہے، کیونکہ یہاں کی بھاگلپوری سلک اپنی نرم بناوٹ اور اعلیٰ معیار کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ یہاں ساڑیاں، شالیں، کُرتے اور دیگر ملبوسات بڑے پیمانے پر تیار کیے جاتے ہیں۔ اسی صنعت کی بدولت یہاں مارواڑی برادری کی بھی خاصی تعداد پائی جاتی ہے۔

بھاگلپور میں موجود ہیں کئی اہم تعلیمی ادارے

بھاگلپور میں کئی اہم تعلیمی ادارے موجود ہیں، جن میں جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج، بہار زرعی یونیورسٹی اور حال ہی میں قائم ہونے والا انڈین انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی (IIIT) شامل ہیں۔ پٹنہ کے بعد بھاگلپور بہار کا واحد شہر ہے جہاں تین بڑے تعلیمی ادارے ہیں۔

یہاں واقع تلکا مانجھی بھاگلپور یونیورسٹی بہار کی معروف یونیورسٹیوں میں شمار ہوتی ہے۔ تلکا مانجھی، جو پہاڑیہ آدیواسی برادری کے پہلے مجاہدِ آزادی مانے جاتے ہیں، نے 1780 میں برطانوی حکومت کے خلاف مسلح بغاوت کی تھی۔

مذہبی لحاظ سے بھاگلپور کی خاص اہمیت

مذہبی لحاظ سے بھی بھاگلپور کی اہمیت خاص ہے۔ مہارشی مہی پرم ہنس آشرم (کپپا گھاٹ) یہاں واقع ہے، جو عقیدت مندوں اور سیاحوں کے لیے ایک بڑا مرکز ہے۔ یہاں کی قدیم غار کو مہابھارت کے زمانے سے جوڑا جاتا ہے۔

بھاگلپور اسمبلی کا سیاسی سفر بتاتا ہے کہ 1951 سے اب تک ہونے والے 18 انتخابات میں کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا ہی دبدبہ رہا ہے۔ کانگریس نے 8 بار اور بی جے پی نے 6 بار کامیابی حاصل کی ہے۔ جن سنگھ نے تین بار اور جنتا پارٹی نے ایک بار یہ سیٹ جیتی۔

1990 اور 2000 کی دہائی میں یہ نشست بی جے پی کا گڑھ مانی جاتی تھی، جب سابق مرکزی وزیر اشونی چوبے نے 1995 سے 2010 تک لگاتار پانچ بار بطور ایم ایل اے نمائندگی کی۔ حالانکہ 2014 کے ضمنی انتخاب میں کانگریس نے یہاں قبضہ جما لیا۔ کانگریس کے سینئر لیڈر اجیت شرما نے 2020 کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کے روہت پانڈے کو سخت مقابلے میں شکست دے کر لگاتار تیسری جیت درج کی۔

بھاگلپور اسمبلی سیٹ کی آبادیاتی تنوع اس کی سب سے بڑی خصوصیت ہے۔ یہاں مسلم ووٹروں کی تعداد سب سے زیادہ ہے، جبکہ ویش، برہمن، بھومیہار، کائستھ، راجپوت اور درج فہرست ذاتوں کے ووٹر بھی فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔ یہی سماجی تنوع علاقے کی سیاست کو مزید دلچسپ بنا دیتا ہے۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

LPG Subsidy New Rules: ایل پی جی گیس بکنگ میں تبدیلی، یکم اکتوبر سے نئے اصول نافذ، سبسڈی کے لیے کرنا ہوگا یہ کام

یکم اکتوبر سے سبسڈی والے گھریلو ایل پی جی ری فل کی بکنگ کے لیے…

4 hours ago

JDU Internal Rift: جے ڈی یو میں اننت سنگھ اور نیرج کمار آمنے سامنے، پٹنہ گریجویٹ نشست پر بڑھا تنازع

اننت سنگھ نے نیرج کمار کے خلاف کھل کر محاذ کھولا، آزاد امیدوار انوج سنگھ…

5 hours ago

Andaman Tourism Vision: انڈمان کے سیاحتی شعبے کو نئی سمت دینے کی تیاری، قدرتی آفات سے بچاؤ کے لیے تیار ہوگا وژن ڈاکیومنٹ

لیفٹیننٹ گورنر ڈاکٹر دنیش شرما نے کہا کہ انڈمان نکوبار میں نئے سیاحتی مراکز تیار…

5 hours ago

Bharat Express Urdu Conclave: پاکستان نے گرچہ اردو کو اپنی زبان بنایا، لیکن اس کی جائے پیدائش اور اس کا خمیر ہندوستانی ہے: کرن رجیجو

بھارت ایکسپریس کے اردو صحافت کانکلیو میں مرکزی وزیر کرن رجیجو نے اردو کو محبت…

5 hours ago

Prime Minister Narendra Modi: ملک کو اپنے کھلاڑیوں پر فخر ہے، وہ بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے شاندار کامیابی حاصل کریں: پی ایم مودی

وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ آئچی-ناگویا میں…

5 hours ago