آرجے ڈی لیڈر تیجسوی یادو۔ (فائل فوٹو)
پٹنہ: بہار اسمبلی انتخابات میں ملی شرمناک شکست کے بعد راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) نے پیر کے روز ایک اہم جائزہ میٹنگ طلب کی۔ اس میٹنگ میں آر جے ڈی کے سربراہ لالو پرساد یادو، سابق نائب وزیراعلیٰ تیجسوی یادو، تمام نومنتخب ارکانِ اسمبلی اور ہارنے والے امیدوار شامل ہوئے۔ ذرائع کے مطابق پارٹی ابھی تک این ڈی اے کی بھاری جیت کو پوری طرح قبول نہیں کر پائی ہے اور قانونی راستے سے نتائج کو چیلنج کرنے کے امکانات تلاش کر رہی ہے۔
’’بغیر کسی ہیر پھیر کے ایسا ہونا ناممکن‘‘
پربتّہ کے سابق ایم ایل اے سنجیو کمار نے میٹنگ کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے سخت ناراضگی ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ نتیجہ واقعی حیران کن ہے اور بغیر کسی ہیر پھیر کے ایسا ہونا ناممکن ہے۔ انہوں نے این ڈی اے کی جیت کو ’’ترقی‘‘ کی وجہ بتانے کے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا، ’’لوگ کہہ رہے ہیں یہ نتیش کمار کی ترقی کی جیت ہے۔ وہ تو برسوں سے ترقی کر رہے تھے، پھر اتنی بڑی جیت کبھی کیوں نہیں ملی؟ میں نے بھی اپنے علاقے میں بہت ترقی کروائی، پھر بھی ہار گیا۔”
انتخابات سے پہلے ہی 65 سیٹوں کی فہرست
انہوں نے سیدھے طور پر کہا کہ یہ جیت صرف ترقی کی وجہ سے نہیں ہے۔ ای وی ایم میں گڑبڑی کے الزام کو دہراتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ انتخابات سے پہلے ہی 65 سیٹوں کی ایک فہرست تیار کی گئی تھی۔ میری سیٹ بھی اس میں تھی۔ وہ فہرست ایک افسر کے پاس تھی، میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے۔ ان 65 سیٹوں کو نشانہ بنایا گیا۔
ہمارے امیدوار بہت کم ووٹوں سے کیوں ہارے؟
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کئی جگہوں پر آر جے ڈی کے امیدوار بہت کم ووٹوں سے کیوں ہارے؟ آر جے ڈی کے کئی منتخب ارکان کی 50 ہزار سے زیادہ ووٹوں کے فرق سے جیت کی امید تھی، لیکن وہ صرف 10–11 ہزار ووٹوں سے ہی جیت پائے۔ انہوں نے کہا کہ آر جے ڈی کا مجموعی ووٹ شیئر واضح کرتا ہے کہ آخری مرحلے تک پارٹی کو عوامی حمایت مضبوط رہی۔
ویریندر نے لگایا ای وی ایم میں دھاندلی کا الزام
منیر کے ایم ایل اے بھائی ویریندر نے بھی یہی الزامات لگائے۔ انہوں نے کہا کہ ای وی ایم میں دھاندلی ہوئی ہے اور ہمیں اس کے خلاف لڑنا ہوگا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ پوسٹل بیلیٹ کی گنتی میں آر جے ڈی امیدوار آگے تھے، لیکن ای وی ایم کی گنتی شروع ہوتے ہی نتیجہ پلٹ گیا۔ انہوں نے کہا، ’’ہم بیلیٹ پیپر کی وجہ سے جیتے، ای وی ایم کی وجہ سے ہارے۔ ہم اس کا تجزیہ کر رہے ہیں اور ہمارے لیے قانونی راستے کھلے ہیں۔ ایسا نتیجہ حیران کن ہے۔”
شیوانی شکلا کو بھی حلقے کے نتائج پر تشویش
لال گنج سے آر جے ڈی امیدوار شیوانی شکلا نے بھی اپنے حلقے کے نتائج پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے ایک آزاد امیدوار کو مبینہ طور پر ایک بھی ووٹ نہ ملنے کی مثال دیتے ہوئے اسے انتہائی تشویشناک قرار دیا اور کہا کہ ایسے میں سوال تو اٹھیں گے۔ آر جے ڈی قیادت آنے والے دنوں میں دوبارہ میٹنگ کرکے اپنے اگلے قدم کا فیصلہ کرے گی، جس میں الیکشن کمیشن یا عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کا امکان بھی شامل ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
اتر پردیش میں پیر کی دیر رات بڑا انتظامی ردوبدل کیا گیا۔ حکومت نے 34…
دہلی کے دیش بندھو گپتا روڈ تھانہ علاقے کے کشن گنج میں 7 سالہ بچی…
صدر جمہوریہ مختلف زمروں کے فاتحین کو دیں گی قومی فلم ایوارڈ، تقریب میں بالی…
فلم ’ہنومان انش‘ کی کامیابی کے بعد پروڈیوسر انوپریا ناگر ایودھیا پہنچیں، جہاں انہوں نے…
’ہندی میری جان 2026‘ کے دوسرے ایڈیشن میں 22 ستمبر کو انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر…
راؤز ایونیو کورٹ کے پرانے حکم کو منسوخ کرکے معاملہ دوبارہ مجسٹریٹ عدالت بھیجا گیا،…