قومی

Bihar CM Samrat Choudhary Meets PM Modi: وزیراعلیٰ بننے کے بعد پہلی بار سمراٹ چودھری کی وزیر اعظم مودی سے ملاقات، ’’خوشحال بہار‘‘ کے وژن پر تفصیلی گفتگو

بہار کے نئے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلی بار نئی دہلی پہنچ کر وزیر اعظم نریندر مودی سے شائستگی ملاقات کی۔ منگل کو ہونے والی اس ملاقات کو سیاسی طور پر اہم مانا جا رہا ہے، کیونکہ نئی حکومت کی تشکیل کے بعد ریاستی سطح پر تیزی سے بدلتی سیاسی سرگرمیوں کے درمیان یہ رابطہ مستقبل کی حکمت عملی کے حوالے سے اہم سمجھا جا رہا ہے۔ سمراٹ چودھری کی وزیر اعلیٰ بننے کے بعد یہ پہلی دہلی یاترا تھی۔ وزیر اعظم سے ملاقات کے دوران دونوں لیڈروں کے درمیان بہار کی ترقی، بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی، سرمایہ کاری کے امکانات اور ’’خوشحال بہار‘‘ کے وژن پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نے ریاست میں ترقیاتی منصوبوں کو تیز کرنے اور مرکزی اسکیموں کے مؤثر نفاذ پر بھی زور دیا۔

وزیر اعظم کے دفتر کی جانب سے اس ملاقات کی معلومات سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بھی شیئر کی گئیں۔ اس کے ساتھ ملاقات کی تصاویر بھی جاری کی گئیں، جن میں دونوں لیڈروں کو خوشگوار ماحول میں گفتگو کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ ملاقات نہ صرف رسمی نوعیت کی تھی بلکہ اس کے ذریعے مستقبل کی حکمت عملی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے بعد سمراٹ چودھری نے بھی سوشل میڈیا پر اپنی رائے ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم سے انہیں ’’وکست بھارت اور خوشحال بہار‘‘ کے وژن کو آگے بڑھانے کے لیے رہنمائی ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی رہنمائی اور تعاون سے بہار میں ترقیاتی رفتار کو مزید تیز کیا جا سکے گا۔ ان کے مطابق ریاست میں روزگار، تعلیم، صحت اور بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق اس دہلی دورے کے دوران ریاستی کابینہ کی توسیع کا معاملہ بھی زیر بحث رہا۔ بتایا جا رہا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے کوٹے سے وزراء کے ناموں پر جلد فیصلہ لیا جا سکتا ہے۔ فی الحال ریاستی حکومت مکمل کابینہ کے بغیر کام کر رہی ہے، جس کے باعث انتظامی فیصلوں میں تاخیر کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ ابھی تک وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری کے ساتھ صرف دو نائب وزرائے اعلیٰ نے حلف لیا ہے۔ جنتا دل یونائیٹڈ کی جانب سے وجیندر پرساد یادو اور وجے چودھری کو نائب وزیر اعلیٰ بنایا گیا ہے، جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے حصے سے ابھی کسی رکن اسمبلی کو وزیر نہیں بنایا گیا۔ اس صورتحال میں کابینہ کی جلد توسیع کو ضروری قرار دیا جا رہا ہے۔

بہار میں وزراء کی کل تعداد 33 مقرر ہے، لیکن فی الحال حکومت ادھوری کابینہ کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ اسی وجہ سے حکومت پر جلد کابینہ توسیع کا دباؤ بڑھتا جا رہا ہے تاکہ ترقیاتی منصوبوں کو رفتار دی جا سکے اور انتظامی کاموں میں تیزی لائی جا سکے۔ اسی دوران 24 اپریل کو بہار اسمبلی کا خصوصی اجلاس بھی طلب کیا گیا ہے۔ اس اجلاس میں وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری اپنی حکومت کا اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ دہلی میں وزیر اعظم سے ملاقات اور آئندہ اسمبلی اجلاس، دونوں ریاستی سیاست کے لیے نہایت اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Sibghatullah

Recent Posts

Pakistan-Afghanistan Clash: پاکستان کا افغانستان پر فضائی حملہ، سوئے ہوئے لوگوں پر جنگی طیاروں نے برسائے بم

فروری 2026 میں سرحد پر بڑھتی کشیدگی کے بعد افغان طالبان فورسز نے پاکستانی فوجی…

2 hours ago