قومی

HM Amit Shah Kulti Rally: مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی بنگال ریلی میں بڑی بھیڑ، شرکاء کا دعویٰ- اس بار ’دیدی‘ کا جانا طے

مغربی بنگال کے بردھمان ضلع کے کلٹی علاقے میں واقع وکٹوریہ ویسٹ اسکول گراؤنڈ میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی انتخابی ریلی میں بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت دیکھنے کو ملی۔ صبح سے ہی علاقے میں گہماگہمی شروع ہو گئی تھی اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جلسہ گاہ میں لوگوں کی بھیڑ مسلسل بڑھتی گئی۔ ریلی میں شریک افراد نہ صرف امت شاہ کی تقریر سننے پہنچے بلکہ انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپنی سیاسی ترجیحات اور توقعات کا بھی کھل کر اظہار کیا۔ ریلی میں شریک ریینا تانتی نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ اگر ریاست میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت بنتی ہے تو عام لوگوں کو زیادہ سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی قیادت کے بڑے لیڈروں کے آنے سے عوام میں نئی امید پیدا ہوتی ہے اور لوگ تبدیلی کے امکانات پر سنجیدگی سے غور کرنے لگتے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں عوام ترقی اور بہتر انتظامیہ کی خواہش رکھتے ہیں۔

اسی دوران بینا چودھری نے خواتین سے متعلق مسائل پر اپنی رائے پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کی کئی اسکیموں سے خواتین کو فائدہ ہوا ہے، تاہم ریاستی سطح پر انہیں اتنی مدد نہیں ملی جتنی توقع کی جا رہی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین کے لیے مزید بہتر اقدامات کی ضرورت ہے اور اس کے لیے سیاسی تبدیلی اہم ثابت ہو سکتی ہے۔ ریلی میں موجود کاجل کماری نے بھی تبدیلی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بار بھارتیہ جنتا پارٹی کے اعلیٰ لیڈر براہ راست بنگال آ کر عوام سے بات چیت کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق اس سے لوگوں کو یہ سمجھنے کا موقع مل رہا ہے کہ مستقبل میں کون سی پالیسیاں نافذ ہو سکتی ہیں اور کس طرح ریاست میں ترقی کی رفتار کو تیز کیا جا سکتا ہے۔

ریلی کے دوران سیاسی ماحول بھی خاصا گرم نظر آیا۔ اوم پرکاش رام نے موجودہ ریاستی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ طویل عرصے سے عوام تبدیلی کی ضرورت محسوس کر رہے ہیں۔ انہوں نے قانون و انتظام کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عوام اب بہتر نظم و نسق چاہتے ہیں اور انہیں امید ہے کہ آنے والے وقت میں سیاسی منظرنامہ تبدیل ہو سکتا ہے۔

اسی طرح بنشی دھر پانڈے نے بھی کہا کہ عوام اب تبدیلی کے موڈ میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بار ووٹرز پہلے سے زیادہ بیدار نظر آ رہے ہیں اور وہ اپنے مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کریں گے۔ ان کے مطابق ریاست میں ترقی، روزگار اور بنیادی سہولیات جیسے مسائل اہم انتخابی موضوع بن چکے ہیں۔ مجموعی طور پر ریلی کے دوران سیاسی سرگرمیوں میں خاصا جوش و خروش دیکھنے کو ملا۔ لوگ نہ صرف جلسے میں شریک ہوئے بلکہ اپنی توقعات اور مطالبات بھی سامنے رکھتے نظر آئے۔ کئی افراد نے موجودہ حکومت پر سوالات اٹھائے جبکہ کچھ نے سیاسی تبدیلی کی ضرورت پر زور دیا۔ ریلی میں شریک افراد کے بیانات سے اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ مغربی بنگال کی سیاست میں آئندہ دنوں میں مقابلہ مزید دلچسپ ہو سکتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Sibghatullah

Recent Posts

Guwahati GMCH: کیا کینسر کے علاج میں آئے گی بڑی پیش رفت؟ آسام میں ملک کا پہلا سرکاری پروٹون بیم تھراپی مرکز قائم کرنے کی تیاری

آسام کے گوہاٹی میڈیکل کالج (جی ایم سی ایچ) میں ہندوستان کا پہلا سرکاری اور…

26 minutes ago

Gold-Silver Rate: سونا اور چاندی کی قیمتیں 12 ماہ کی کم ترین سطح پر، بڑی گراوٹ سے بازار میں ہلچل،کیا یہی ہے خریداری کا صحیح وقت؟

کموڈیٹی مارکیٹ میں زبردست فروخت کے دباؤ کے باعث سونے اور چاندی کی قیمتوں میں…

37 minutes ago

Azam Khan arrested by ED from Rampur Jail: جیل سے رہا ہوتے ہی حراست میں اعظم خان، ای ڈی نے کسا شکنجہ، عبداللہ اعظم ہوگئے رہا

سماجوادی پارٹی کے سینئر لیڈراعظم خان کو انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی ٹیم نے رام…

1 hour ago

جموں وکشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کی زندگی کا آغاز، صحافی ندھی رازدان سے کرلی شادی

 جموں وکشمیر کے وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے اپنی ذاتی زندگی سے متعلق ایک بڑی خوشخبری سوشل…

2 hours ago