قومی

Bihar Assembly Election 2025: این ڈی اے میں سیٹ شیئرنگ تقریباً طے! بی جے پی-جے ڈی یو میں اتفاق، چراغ پاسوان، جیتن رام مانجھی، کشواہا پرکیسے ہوگا اتفاق؟

بہارمیں اسمبلی الیکشن سے متعلق این ڈی اے میں سیتوں کی تقسیم تقریباً طے ہوچکی ہے۔ بی جے پی اور جے ڈی یوکے درمیان سیٹوں پرتال میل ہوگئی ہے۔ دونوں پارٹیاں برابرسیٹوں پرالیکشن لڑسکتی ہیں، جبکہ چراغ پاسوان کی ایل جے پی (آر) 40 سیٹوں کا مطالبہ کررہی ہے۔ جیتن رام مانجھی کی ہم پارٹی اوراوپیندرکشواہا کی راشٹریہ لوک سمتا پارٹی (آرایل ایم) کے کھاتے میں 7-6 سیٹیں جاسکتی ہیں۔ا

میڈیا رپورٹس کے مطابق، جے ڈی یواوربی جے پی 100 سے 105 سیٹوں پرالیکشن لڑسکتی ہے۔ 2020 کے اسمبلی الیکشن میں جے ڈی یونے 115 اوربی جے پی نے 110 سیٹوں پرالیکشن لڑا تھا۔ اس وقت این ڈی اے کا حصہ رہی وی آئی پی نے 11 اورہم نے 7 سیٹوں پرالیکشن لڑا تھا۔ گزشتہ الیکشن میں لوک جن شکتی پارٹی این ڈی اے کے ساتھ نہیں تھی اوراس نے اکیلے 135 سیٹوں پرالیکشن لڑا تھا، لیکن اسے صرف ایک سیٹ ملی تھی۔ بی جے پی کو 74 سیٹیں ملی تھیں جبکہ جے ڈی یو کو 43 سیٹیں ملیں۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بار بھی جے ڈی یو 100 سیٹوں سے کم پرراضی نہیں ہوگی۔

اسی سال ہونے والے والے الیکشن کے لئے چراغ پاسوان کی پارٹی ایل جے پی 40 سیٹوں کا مطالبہ کررہی ہے، لیکن اسے تقریباً آدھی سیٹیں مل سکتی ہیں۔ باقی سیٹیں جیتن رام مانجھی ہم اوراپیندرکشواہا کی پارٹی آرایل ایم کو دی جاسکتی ہیں۔ اگرمکیش سہنی کی پارٹی وی آئی پی جو فی الحال آرجے ڈی-کانگریس اتحاد میں شامل ہے، پالا بدلتی ہے تو حالات بدل سکتے ہیں۔ حالانکہ اب ان کے پالا بدلنے کی گنجائش کم ہے۔ وہ راہل گاندھی اورتیجسوی یادو کے ساتھ مسلسل رتھ پرسوارہیں۔

این ڈی اے کے ایک بڑے لیڈرکا کہنا ہے کہ گزشتہ بارایل جے پی کی وجہ سے جے ڈی یوکی پرفارمنس کافی خراب رہی تھی۔ پارٹی کے پاس ابھی بھی بہارکے تقریباً 10 فیصد ووٹ ہیں۔ خاص طورپرپسماندہ طبقہ (ای بی سی) میں۔ الیکشن نتیش کمارکی قیادت میں لڑا جا رہا ہے۔ پورا دھیان انہیں پھرسے وزیراعلیٰ بنانے پرہے۔ جے ڈی یوکا بی جے پی سے کم سیٹوں پرالیکشن لڑنے کا کوئی سوال ہی نہیں ہے۔ حالانکہ اتحادیوں کوایڈجسٹ کرنے کے لئے کچھ تبدیلیاں کی جاسکتی ہیں۔

وہیں جے ڈی یوکے لیڈران کا ترک ہے کہ لوک سبھا الیکشن میں جس کے اسمبلی حلقہ میں سبقت ہے، اسے کم ازکم اتنی سیٹیں ملنی چاہئے۔ این ڈی اے کی کچھ اتحادی پارٹیاں بھی چاہتی ہیں کہ سیٹوں کی تقسیم اسٹرائیک ریٹ کے لحاظ سے ہو۔ ہم پارٹی اورایل جے پی (آر) اپنا اسٹرائیک ریٹ بہترمان رہی ہے۔ وہ بھی اسی بنیاد پردعویٰ ٹھوک رہی ہے۔

Nisar Ahmad

Recent Posts

Rinku Singh Landed A Job Mopping Floors: معاشی بحران سے جوجھ رہا تھا خاندان، رنکو سنگھ کو ملا پونچھا لگانے کا کام، لیکن نہیں مانی ہار

ہندوستان کے باصلاحیت کرکٹر رنکو سنگھ اپنی جارحانہ بلے بازی اور آخری اوورز میں بڑے…

35 minutes ago

Sonali Bendre gets lost in Munawar’s comedy: منور فاروقی کی کامیڈی میں کھو جاتی ہیں سونالی بیندرے، کہا- ’بھول جاتی ہوں کہ مجھے شو ہوسٹ کرنا ہے‘

پتی پتنی اور پنگا‘ کے دوسرے سیزن میں راہل ویدیا اور دیشا پرمار، ارجن بجلانی…

37 minutes ago

Amitabh Bachchan birthday: دوستی نبھانے کے لیے سیاست میں آئے امیتابھ بچن، پھر کیوں چھوڑ دی سیاست؟ جانیے پوری کہانی

امیتابھ بچن نے 1984 میں راجیو گاندھی کی حمایت میں الٰہ آباد سے لوک سبھا…

1 hour ago

Unctad Warning: کیا مغربی ایشیا کی جنگ کی تپش سے جھلسے گی دنیا؟ اقوام متحدہ نے توانائی بحران پر دی بڑی وارننگ

مغربی ایشیا میں بڑھتی کشیدگی اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے عالمی معیشت کی…

2 hours ago