سنبھل میں سی او انوج چودھری نے جمعرات کو ہولی اور جمعہ کی نماز کو لے کر متنازعہ بیان دیا تھا، جس پر کافی ہنگامہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ اس پر سماج وادی پارٹی کے لیڈر بھی ناراض ہیں۔ ایس پی راجیہ سبھا کے رکن پروفیسر رام گوپال یادو نے کہا کہ اگر حکومت بدلتی ہے تو ایسے لوگ جیل میں ہوں گے۔ انہوں نے سنبھل میں تشدد کے لیے سی او انوج چودھری کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔رام گوپال یادو نے سنبھل کے سی او کو لے کر بڑا بیان دیتے ہوئے کہا کہ یہ انوج چودھری ہی تھے جنہوں نے وہاں فسادات بھڑکائے۔ رپورٹ کے مطابق رام گوپال یادو نے کہا کہ سنبھل کے سی او کہہ رہے تھے، گولی چلاؤ، گولی چلاؤ۔ انہوں نے کہا کہ جب نظام بدلے گا تو ایسے لوگ جیل میں ہوں گے۔
دراصل سماج وادی پارٹی کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا کے پروفیسر رام گوپال یادو پی ڈی اے کے پروگرام میں شرکت کے لیے فیروز آباد پہنچے تھے۔ میڈیا سے بات چیت کے دوران انہوں نے الزام لگایا کہ سنبھل میں جو تشدد ہوا وہ انوج چودھری جیسے پولیس والوں کی لاپرواہی کی وجہ سے ہوا ہے۔آپ کو بتا دیں کہ حال ہی میں سنبھل میں امن کمیٹی کی میٹنگ بلائی گئی تھی۔ اس میٹنگ کے دوران سی او انوج چودھری نے ہولی اور عید کی وجہ سے سماج دشمن عناصر کو خبردار کیا تھا۔ سی او چودھری نے کہا تھا کہ اگر کسی کو رنگوں سے مسئلہ ہے تو وہ ہولی کے موقع پر گھر پر رہیں اگر امن و امان خراب ہوا تو پولیس ایسے لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کرے گی۔
انوج چودھری نے لوگوں سے اپیل کی تھی کہ ہندو اور مسلم دونوں فریق ایک دوسرے کا احترام کریں اور غیر ضروری طور پر کسی پر رنگ نہ ڈالیں۔ سی او نے کہا تھا کہ اگر ہندو برادری کا کوئی فرد رنگ سے گریز کر رہا ہے تو اس پر کوئی رنگ نہ لگایا جائے۔انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ جمعہ سال میں پچاس بار آتا ہے،ہولی سال میں ایک بار آتی ہے، اس لئے اگر مسلمانوں کو رنگوں سے دقت ہے تو وہ گھروں سے باہر نہ نکلیں۔
ادھر دوسری جانب سنبھل سے سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ضیاء الرحمان برق نے بھی اس بیان پر سی او انوج چودھری کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ میں امن وسلامتی سے متعلق میٹنگوں میں مسلم فریق کو جس طرح ڈرایا جا رہا ہے ،اس کی سخت مذمت کرتا ہوں۔سنبھل کے ایم پی ضیاء الرحمان برق نے کہا کہ میں مطالبہ کرتا ہوں کہ ایسے افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ میری یہ بھی گزارش ہے کہ جب تک ایسی ذہنیت کے حامل افسران اور قانون سے کھیلنے والے امن و امان کے حوالے سے میٹنگ کرتے رہیں، ایسی میٹنگ کا بائیکاٹ کیا جائے۔ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ دو برادریوں کے تہوار اکٹھے ہوئے ہورہے ہوں۔ایس پی ایم پی نے کہا کہ ہولی کے دن جمعہ ہے اور میں سب سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ایک دوسرے کے تہوار کا احترام کریں۔ دونوں فریقوں کو خیال رکھنا چاہیے کہ کسی کو تکلیف نہ پہنچے۔
بھارت ایکسپریس۔
ندھی تیواری سوشل میڈیا پر کافی مقبول تھیں۔ بتایا جاتا ہے کہ فیس بک پر…
وزیر اعظم مودی سمیت لوک سبھا اسپیکر اوم برلا، مرکزی وزیر مملکت برائے قانون و…
شرومنی اکالی دل (امرتسر) کے قائم مقام صدر ایمان سنگھ مان نے کہا کہ وہ…
شریئس ائیر کی کپتانی میں بھارتی ٹیم اب یکم اکتوبر کو دوسرا سیمی فائنل مقابلہ…
۔اس معاملے میں بس کی نگرانی کے انتظامات پر بھی سوال اٹھے تھے۔ بتایا گیا…
میزبان ازبکستان نے آخری راؤنڈ میں یوکرین کو 2.5-1.5 سے شکست دے کر گولڈ میڈل…