آزادی کے 80 سال گزرنے کے باوجود ملک کے کئی دور دراز علاقوں میں بنیادی سہولیات کی صورتحال آج بھی تشویش ناک ہے۔ تعلیم جیسے اہم شعبے سے وابستہ اساتذہ کو بھی بعض مقامات پر اسکول پہنچنے کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈالنی پڑ رہی ہے۔ ایسی ہی ایک تصویر سامنے آئی ہے جہاں اساتذہ کو اسکول جانے کے لیے باقاعدہ پل یا محفوظ راستے کے بجائے ’ٹیوب‘ کے سہارے دریا عبور کرنا پڑتا ہے۔ صورتحال اس قدر سنگین ہے کہ بارش اور دریا میں پانی کی سطح بڑھنے کے دوران بھی اساتذہ کو اسکول پہنچنے کی فکر رہتی ہے۔ ان کے لیے اسکول سے غیر حاضر رہنے کا مطلب تنخواہ میں کٹوتی یا محکمہ جاتی کارروائی کا خدشہ ہوسکتا ہے۔ اسی مجبوری کے باعث وہ اپنی زندگی داؤ پر لگا کر دریا عبور کرنے پر مجبور ہیں۔
جان خطرے میں ڈال کر اسکول پہنچنے کی مجبوری
اساتذہ کے مطابق دریا عبور کرنے کے لیے دستیاب محفوظ راستہ نہ ہونے کی وجہ سے انہیں ایسے عارضی طریقوں کا سہارا لینا پڑتا ہے جو کسی بھی وقت حادثے کا سبب بن سکتے ہیں۔ خاص طور پر مانسون کے دوران دریا کا بہاؤ تیز ہوجاتا ہے اور پانی کی سطح بڑھنے سے خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔اس کے باوجود اساتذہ کو وقت پر اسکول پہنچنے کی کوشش کرنا پڑتی ہے، کیونکہ سرکاری ملازمین کے لیے حاضری کے اصول سخت ہیں۔ اس صورتحال میں ایک طرف بچوں کی تعلیم اور دوسری طرف اپنی ملازمت اور تنخواہ بچانے کی مجبوری اساتذہ کو انتہائی خطرناک سفر پر مجبور کر رہی ہے۔
بنیادی سہولیات پر اٹھ رہے سوال
اس واقعے نے دیہی اور دور افتادہ علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کی صورتحال پر بھی سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔ اگر کسی اسکول تک پہنچنے کے لیے اساتذہ اور دیگر عملے کو دریا عبور کرنے کے لیے عارضی ٹیوب کا سہارا لینا پڑے تو یہ انتظامی نظام اور بنیادی سہولیات کی فراہمی پر سنجیدہ سوال ہے۔ مقامی سطح پر ایسے علاقوں میں پل، سڑک اور محفوظ آمدورفت کے انتظامات کی ضرورت طویل عرصے سے محسوس کی جاتی رہی ہے۔ بارش کے موسم میں یہ مسئلہ مزید سنگین ہوجاتا ہے، کیونکہ معمول کے راستے بھی زیر آب آ سکتے ہیں اور دریا کا بہاؤ خطرناک حد تک تیز ہوجاتا ہے۔
بچوں کی تعلیم بھی متاثر ہونے کا خدشہ
اساتذہ کے لیے خطرناک سفر کا براہ راست اثر اسکول میں بچوں کی تعلیم پر بھی پڑ سکتا ہے۔ اگر موسم خراب ہونے کے باعث اساتذہ اسکول تک نہ پہنچ سکیں تو طلبہ کی پڑھائی متاثر ہونا فطری ہے۔ دوسری جانب اساتذہ کو مسلسل خطرے میں ڈال کر تعلیم کا نظام چلانا بھی کسی مستقل حل کی علامت نہیں ہے۔ یہ معاملہ صرف ایک اسکول یا چند اساتذہ کی پریشانی تک محدود نہیں بلکہ دیہی علاقوں میں تعلیمی سہولیات، بنیادی ڈھانچے اور سرکاری نظام کی رسائی سے جڑا بڑا سوال ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسے علاقوں میں محفوظ راستے اور پل تعمیر کیے جائیں تاکہ اساتذہ اور طلبہ کو تعلیم کے حصول کے لیے اپنی جان خطرے میں نہ ڈالنی پڑے۔ آزادی کے آٹھ دہائیاں مکمل ہونے کے بعد بھی اگر اساتذہ کو اسکول پہنچنے کے لیے دریا میں اتر کر ٹیوب کا سہارا لینا پڑے تو یہ تصویر ملک کی ترقی کے ساتھ ساتھ ان علاقوں کی زمینی حقیقت بھی سامنے لاتی ہے، جہاں بنیادی سہولیات اب بھی لوگوں کی پہنچ سے دور ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس نیوز نیٹ ورک، مہاکوی گوپال داس نیرج فاؤنڈیشن ٹرسٹ اور سونوی ایونٹس ممبئی…
مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ نے 2029 کے آخر تک پورے بھارت کو…
اسرائیلی وزیر اعظم نے 174 مسافروں کی جان بچانے والے بھارتی پائلٹ کی بہادری کو…
پنڈت دین دیال آڈیٹوریم میں منعقد ’وکست گجرات سے وکست بھارت‘ کے عنوان سے اس…
جنوری 2024 میں وزیر اعظم نریندر مودی کے لکشدیپ دورے کے بعد سیاحت کے ساتھ…
اکھیل وشو گایتری پریوار کے زیر اہتمام صوبائی شکشک گریما سمیلن میں ریاست بھر سے…