قومی

GLF 2025: غازی پور لٹریچر فیسٹیول 2025 کا اختتام، بھارت ایکسپریس کے سی ایم ڈی اُپیندر رائے نے کہا- ہمیں اُس بلندی کی طرف بھی بڑھنا ہے جو روحانی بلندی کو اوپر لے جائے

نئی دہلی: تین روزہ غازی پور لٹریچر فیسٹیول 2025 کا اتوار کو شاندار اختتام ہوا۔ اس کا آغاز جمعہ، 7 نومبر کو وارانسی کے ہوٹل دی کلارکس میں پروقار ماحول میں ہوا تھا۔ ہفتے کو غازی پور کی تاریخی دھرتی ادب، ثقافت اور مکالمے کے رنگوں میں رنگی نظر آئی۔ یہ صرف ادبی جشن نہیں تھا بلکہ بھارتی شعور اور آزادی کی قدروں پر سنجیدہ گفتگو کا پلیٹ فارم بھی بنا۔ بھارت ایکسپریس کے سی ایم ڈی اور ایڈیٹر اِن چیف اُپِیندر رائے نے فیسٹیول میں شرکت کرتے ہوئے زندگی کے بنیادی اقدار، حوصلے اور روحانی بلندی پر اپنے خیالات پیش کیے۔.

اُپِیندر رائے نے کہا، ’’ہمیں زندگی کے جدید اقدار کی طرف بڑھنا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہمیں اُس بلندی کی طرف بھی جانا ہے جو ہماری روحانی اونچائی کو اوپر لے جائے۔ ہمارے اندر اتنا حوصلہ ہونا چاہیے کہ ہم حکومت کی مخالفت کر سکیں، کسی ناانصافی کے خلاف کھڑے ہو کر اپنی آواز بلند کر سکیں۔‘‘

میڈیا نے عام آدمی کے ہاتھوں کو کیا مضبوط

میڈیا کے کردار پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج مین اسٹریم میڈیا اپنی ذمہ داری ٹھیک سے نہیں ادا کرتا ہے۔ جبکہ سوشل میڈیا ایک نئے زمانے کا طاقتور ذریعہ بن کر ابھرا ہے۔ یہ برانڈ ڈائیورسفکیشن، یہ میڈیا ایکسٹینشن ہے۔ اس نے عام آدمی کے ہاتھوں کو مضبوط کیا ہے۔ اس سے پہلے عام آدمی کے ہاتھوں میں کبھی اتنی طاقت نہیں تھی۔

غازی پور لٹریچر فیسٹیول سے خطاب کرتے ہوئے سی ایم ڈی اوپیندر رائے نے کہا کہ میڈیا ہمیشہ مثبت کردار ادا کرتا رہا ہے۔ اس نے متوسط طبقے کو نئی سمت اور چھلانگ لگانے کے لیے ہوا دی ہے۔ وہیں، بھارت کی تنوع  پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس ملک میں ایسا کچھ ہے کہ تمام مشکلات کے بعد بھی سب کچھ باندھ کر رکھا ہے۔ یہ ایک مکمل جمہوریت ہونے کے بعد بھی کچھ ہے جو لوگوں کو ٹوٹنے نہیں دیتا اور ہمیشہ باندھ کر رکھتا ہے۔

رائٹ وِنگ اور لیفٹ وِنگ دونوں ضروری

سماج میں نظریاتی تقسیم پر گفتگو کرتے ہوئے سی ایم ڈی اُپِیندر رائے نے کہا کہ سماج کے توازن کے لیے رائٹ وِنگ اور لیفٹ وِنگ دونوں ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا جدلیاتی (dialectical) ہے، یہ تضاد پر قائم ہے۔مباحثوں سے ایک فکری نتیجہ نکلنا ضروری ہے، جو اس ملک کو کھویا ہوا وقار اور یقین دلا سکے۔

اپنے خطاب کے آخر میں سی ایم ڈی اوپیندر رائے نے روحانی ترقی کی اپیل کی۔ انہوں نے جذباتی لہجے میں کہا، ’’ہمیں اُس اونچائی کی طرف بھی بڑھنا ہے جو روحانی بلندی کو اوپر لے جائے۔ ہمیں زندگی کے جدید اقدار کی طرف بڑھانا ہے۔ ان کے یہ الفاظ فیسٹیول کے بنیادی مقصد کی جھلک دکھاتے ہیں — جہاں ادب محض تفریح نہیں بلکہ روحانی اور فکری بیداری کا ذریعہ بھی ہے۔ ان کے خطاب نے سامعین کے دلوں میں ایک نئی توانائی پیدا کی جو حوصلے، آزادی اور شعور سے معمور تھی۔

اگلے سال اور زیادہ شاندار ہوگا فیسٹیول

کتاب میلے کے دوران اُپِیندر رائے کی موجودگی نے پروگرام کو اور پرجوش بنا دیا۔ مداحوں نے ان کے ساتھ تصاویر کھنچوائیں۔ بھارت ایکسپریس کے سی ای او ورُن کوہلی، سوشل میڈیا ہیڈ پوجا چوبے اور دیگر سینئر عہدیداران کی موجودگی نے فیسٹیول کو مزید پروقار بنا دیا۔ منتظمین نے اعلان کیا کہ اگلے سال فیسٹیول کو مزید بڑے پیمانے پر منایا جائے گا، جس میں نوجوان مصنفین اور بین الاقوامی مقررین کو مدعو کیا جائے گا۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

Dr. Manmohan Singh: پی ایم مودی، ملکارجن کھرگے، پرینکا گاندھی سمیت کئی لیڈروں نے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو یوم پیدائش پر کیا یاد

کانگریس رہنما پرینکا گاندھی نے بھی سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو یاد کرتے ہوئے…

2 hours ago

CEC Gyanesh Kumar: گیانیش کمار کو جانا ہی ہوگا، کانگریس کا مطالبہ، کاکروچ جنتا پارٹی کا آج ختم ہو رہا ہےالٹی میٹم

کے سی وینوگوپال نے مرکزی حکومت کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے حکومت اور اس…

4 hours ago

Major Plane Crash in Congo: کانگو میں بڑا طیارہ حادثہ، 2 فوجی افسران سمیت 14 افراد ہلاک

فوج کے ترجمان کے مطابق، دونوں اعلیٰ فوجی افسران کے علاوہ وفد کے 12 ارکان…

4 hours ago