مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے آئندہ مراحل سے قبل نریندر مودی آج ہفتہ کے روز ریاست میں تین بڑی انتخابی ریلیوں سے خطاب کریں گے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے 23 اور 29 اپریل کو ہونے والے ووٹنگ مرحلوں سے پہلے اپنی پوری طاقت جھونک دی ہے، اور وزیراعظم نریندرمودی کا یہ دورہ پارٹی کے “وجے سنکلپ” مہم کو نئی رفتار دینے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔وزیراعظم نریندرمودی آج دوپہر سے شام تک مغربی بنگال کے مختلف علاقوں میں عوامی جلسوں سے خطاب کریں گے اور ممتا بنرجی کی حکومت پر سیاسی حملے کرتے ہوئے بدعنوانی، دراندازی اور قانون و نظم کے مسائل کو اہم انتخابی ایشو بنائیں گے۔ پارٹی قیادت کو امید ہے کہ وزیراعظم مودی کی ریلیاں ووٹروں کو متاثر کریں گی اور پارٹی کارکنان میں نیا جوش پیدا کریں گی۔
وزیر اعظم مودی کا آج کا انتخابی شیڈول
طے شدہ پروگرام کے مطابق وزیراعظم اپنے دن کی شروعات کٹوا میں “وجےسنکلپ سبھا” سے کریں گے۔ اس کے بعد وہ جنگی پور پہنچیں گے، جہاں دوپہر 1:45 بجے ایک بڑی عوامی ریلی سے خطاب کریں گے۔دن کی آخری انتخابی ریلی دوپہر 3:45 بجے بلور گھاٹ میں منعقد ہوگی۔ ان جلسوں کے بعد وزیر اعظم کے سلی گوڑی پہنچنے کا امکان ہے، جہاں وہ قیام کریں گے۔ اطلاعات کے مطابق اتوار کو سلی گڑی میں ایک عظیم الشان روڈ شو کے ذریعے شمالی بنگال میں پارٹی اپنی طاقت کا مظاہرہ کرے گی۔
دراندازی اور قانون و نظم کے مسائل پر حملہ متوقع
اس سے قبل 9 اپریل کو ہونے والی ریلیوں میں وزیراعظم مودی نے ممتا حکومت پر سخت تنقید کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر ریاست میں بی جے پی کی حکومت بنتی ہے تو دراندازوں کو بسانے میں مدد دینے والوں کی نشاندہی کے لیے خصوصی تحقیقات کرائی جائیں گی۔وزیر اعظم مودی نے ریاست میں قانون و نظم کی صورتحال پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ مغربی بنگال میں کچے بم بنانا “گھریلو صنعت” بن چکا ہے اور مجرموں کو سیاسی سرپرستی حاصل ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آج کی ریلیوں میں بھی یہ مسائل نمایاں طور پر اٹھائے جائیں گے۔
بنگال فتح کے لیے بی جے پی کی آخری کوشش
وزیر اعظم مودی کی یہ ریلیاں بی جے پی کی وسیع انتخابی حکمت عملی کا حصہ ہیں، جس کے تحت وہ پورے انتخابی عمل کے دوران تقریباً 14 جلسوں سے خطاب کریں گے۔ پارٹی کے لیے 23 اور 29 اپریل کے مراحل نہایت اہم مانے جا رہے ہیں، اسی لیے وزیر اعظم مودی خود میدان میں اتر کر کارکنان میں جوش بھرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔بی جے پی بدعنوانی، روزگار، خواتین کی سلامتی اور ترقی جیسے مسائل کو اجاگر کرتے ہوئے یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ وہ مغربی بنگال میں “آشول پوری بورٹن ” یعنی حقیقی تبدیلی لانے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ اب تمام نظریں وزیر اعظم مودی کی آج کی ریلیوں اور آنے والے روڈ شو پر مرکوز ہیں، جو انتخابی ماحول کو مزید گرم کر سکتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو کے نیشنل کانکلیو کا اختتامی سیشن بھی بہت خاص ہونے جا رہا…
مورخہ 17 ستمبر کو نئی دہلی میں بھارت ایکسپریس اردو کے نیشنل کانکلیو کا تیسرا…
بِمسٹیک کے نوڈل گروپ کا دوسرا اجلاس بھی منعقد، روایتی طبی معلومات کے تحفظ، دستاویز…
مورخہ 17 ستمبر کو نئی دہلی کے انڈیا انٹرنیشنل سینٹر میں ہونے والے تیسرے ایڈیشن…
اگلے سال اتر پردیش، پنجاب، اتراکھنڈ سمیت 5 ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔ پنجاب…
پارلیمنٹ کے ستمبر کے آخر میں ممکنہ خصوصی اجلاس کی قیاس آرائیاں تیز ہوگئی ہیں۔…