بیگوسرائے سے ایک ایسی خبر سامنے آئی ہے جس نے نہ صرف قانون و انتظام کی قلعی کھول دی ہے بلکہ بہار کی سیاست میں بھی ہلچل مچا دی ہے۔ گزشتہ سات دنوں سے لاپتہ موبائل دکاندار سمت کمار کا انجام اتنا دردناک ہوگا، اس کا شاید کسی نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔ پولیس نے آخرکار سمت کی لاش گنڈک ندی سے برآمد کر لی ہے، جس کے بعد مرحوم کے گھر میں کہرام مچا ہوا ہے اور علاقے کے لوگوں میں شدید غصہ پایا جا رہا ہے۔
سی سی ٹی وی میں قید خوفناک واردات
یہ پورا معاملہ لوہیا نگر تھانہ علاقے کے پنہاس کا ہے۔ واقعے کی شروعات 23 دسمبر کی رات کو ہوئی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ سمت اپنے گھر کے باہر ہی موجود تھا کہ اسی دوران ایک سفید رنگ کی اسکارپیو آ کر رکی۔ گاڑی سے چار مجرم اترے اور سمت کے ساتھ مارپیٹ شروع کر دی۔ یہ پوری واردات قریب لگے ایک سی سی ٹی وی کیمرے میں قید ہو گئی۔ فوٹیج میں صاف دکھائی دیتا ہے کہ سمت جان بچانے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے، لیکن مجرم زبردستی اسے گاڑی میں ٹھونس کر لے گئے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ جہاں سے اغوا ہوا، وہاں سے تھانہ محض آدھا کلومیٹر دور ہے، لیکن پولیس کو کانوں کان خبر تک نہیں ہوئی۔
قاتل نے خود اگل دیا سچ
سمت کے اہل خانہ نے مسلسل پولیس پر دباؤ بنایا، لیکن کئی دنوں تک اندھیرے میں تیر چلانے کے بعد پولیس کے ہاتھ ایک ملزم لگا۔ سخت پوچھ گچھ کے دوران اس نے سارا سچ اگل دیا۔ ملزم کی نشاندہی پر چیریا بریارپور کے بسہی گنڈک ندی گھاٹ پر سرچ آپریشن چلایا گیا اور ساتویں دن سمت کی لاش برآمد ہوئی۔ مجرموں نے اغوا والی رات ہی سمت کو قتل کر کے لاش ندی میں پھینک دی تھی۔
اپنی ہی حکومت پر جے ڈی یو لیڈر کا حملہ
اس قتل کیس نے اب سیاسی رخ اختیار کر لیا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اپوزیشن ہی نہیں بلکہ حکمراں جماعت جے ڈی یو کے اندر سے بھی بغاوت کی آوازیں اٹھنے لگی ہیں۔ یوتھ جے ڈی یو کے ریاستی نائب صدر گورو سنگھ رانا نے اپنی ہی حکومت کے محکمۂ داخلہ پر سیدھا حملہ بولا ہے۔ انہوں نے سخت الفاظ میں کہا کہ جب سے محکمۂ داخلہ سمراٹ چودھری کے پاس گیا ہے، تب سے مجرم ’’ننگا ناچ‘‘ کر رہے ہیں۔ رانا نے یہاں تک کہہ دیا کہ سمراٹ چودھری سے یہ محکمہ سنبھالا نہیں جا رہا اور انہیں فوری طور پر استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ انہوں نے نتیش کمار کے دور کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ پہلے بہار میں مجرم اتنے بے لگام نہیں تھے۔
پولیس کی کارکردگی پر سوال
فی الحال پولیس نے ایک ملزم کو جیل بھیج دیا ہے، لیکن تین اہم ملزمان اب بھی فرار ہیں۔ اہل خانہ کا رو رو کر برا حال ہے اور وہ پولیس کی سستی پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر اغوا کے فوراً بعد ناکہ بندی کی جاتی تو کیا سمت کی جان بچ سکتی تھی؟ بیگوسرائے کے اس واقعے نے ایک بار پھر بہار میں اچھے طرزِ حکمرانی کے دعوؤں پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
پیوپلس اویرنس فورم کے صدر اور سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان نے…
ایشین گیمز 2026 میں میرابائی چانو نے خواتین کے 49 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں…
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…
خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…
گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…
وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…