ہریانہ کی سیاست میں اپنی بے باک اور دوٹوک طرزِ کار کے لیے مشہور محنت و روزگار کے وزیر انل وج نے ایک ایسے گھوٹالے کی پرتیں کھولی ہیں جس نے پورے محکمے میں ہلچل مچا دی ہے۔ یہ معاملہ صرف کاغذی ہیرا پھیری تک محدود نہیں، بلکہ غریبوں کے حق پر ڈاکہ ڈالنے کا ہے۔ تقریباً 1500 کروڑ روپے کا یہ ’’ورک سلِپ گھوٹالا‘‘ اتنا بڑا ہے کہ خود وزیر بھی اس کی جانچ رپورٹ دیکھ کر حیران رہ گئے۔انل وج نے بتایا کہ جیسے ہی انہوں نے محکمۂ محنت کی ذمہ داری سنبھالی، کچھ ایسی فائلیں ان کے سامنے آئیں جنہوں نے شکوک پیدا کر دیے۔ حیران کن بات یہ تھی کہ ریکارڈ میں ایک ایک ملازم نے ہزاروں مزدوروں کی ویریفیکیشن (تصدیق) کر رکھی تھی۔ وج نے کہا، ’’یہ بات ہضم نہیں ہوتی کہ ایک اکیلا آدمی اتنے کم وقت میں ہزاروں افراد کی جانچ کیسے کر سکتا ہے؟ یہیں سے اندازہ ہو گیا تھا کہ دال میں کچھ کالا نہیں، بلکہ پوری دال ہی کالی ہے۔‘‘ابتدا میں صرف تین اضلاع میں سرسری جانچ کرائی گئی اور وہاں جو حقیقت سامنے آئی، اس نے وج کے شک کو یقین میں بدل دیا۔ اس کے بعد پورے صوبے میں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کرنے کے لیے تفصیلی جانچ کے احکامات دیے گئے۔
13 اضلاع کی رپورٹ
محکمۂ محنت میں عملے کی کمی کے باعث انل وج نے تمام ضلع مجسٹریٹوں (ڈی سی) کو خط لکھ کر سخت ہدایات دیں کہ تین رکنی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں اور ٹیمیں گھر گھر جا کر یہ جانچ کریں کہ واقعی وہاں کوئی مزدور رہتا بھی ہے یا نہیں۔اب تک 22 میں سے 13 اضلاع کی رپورٹ سامنے آ چکی ہے اور یہ اعداد و شمار کسی کی بھی نیند اُڑا دینے کے لیے کافی ہیں۔
ورک سلِپ کا کھیل: ان 13 اضلاع میں تقریباً 5,99,758 ورک سلِپس دکھائی گئی تھیں، لیکن زمینی جانچ میں ان میں سے صرف 53,249 ہی درست پائی گئیں، یعنی باقی سب فرضی تھیں۔
مزدوروں کی حقیقت: ریکارڈ میں 2,21,517 رجسٹرڈ مزدور درج تھے، مگر حقیقت میں صرف 14,240 ہی درست پائے گئے۔
غریبوں کا حق اور دلالوں کی جیب
انل وج نے واضح الفاظ میں کہا کہ ہریانہ حکومت تعمیراتی مزدوروں کو بے شمار سہولتیں دیتی ہے۔ بچوں کی پی ایچ ڈی تک کی تعلیم، شادی بیاہ میں مدد، یا بیماری کے وقت مالی امداد—یہ سب رقم ان غریب مزدوروں کے لیے ہے جو دن رات محنت کرتے ہیں۔ لیکن اس گھوٹالے نے ثابت کر دیا کہ مزدوروں کے نام پر یہ سارا پیسہ دلال اور بدعنوان لوگ ہڑپ کر رہے تھے۔ وج نے سوال اٹھایا کہ یہ فرضی ورک سلِپس کس نے بنائیں؟ کن لوگوں نے کروڑوں روپے کا فائدہ اٹھایا؟ اور سب سے بڑا سوال یہ کہ تصدیق کرنے والے افسران کا اس میں کیا کردار رہا؟
وج کی بڑی سفارش
وزیر نے واضح کر دیا ہے کہ یہ تو ابھی صرف ٹریلر ہے، معاملہ اس سے کہیں زیادہ بڑا ہو سکتا ہے۔ 9 اضلاع کی رپورٹ ابھی آنا باقی ہے۔ انل وج نے اس پورے معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے وزیر اعلیٰ سے تفصیلی جانچ کی سفارش کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ قصورواروں کو بخشا نہیں جائے گا، کیونکہ یہ عوام کے خون پسینے کی کمائی اور غریبوں کے حق کی کھلی چوری کا معاملہ ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
پیوپلس اویرنس فورم کے صدر اور سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان نے…
ایشین گیمز 2026 میں میرابائی چانو نے خواتین کے 49 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں…
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…
خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…
گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…
وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…