قومی

Bank unions announce strike:بینک یونینوں نے 12 فروری کو ہڑتال کا کیا اعلان، بینکنگ خدمات متاثر ہونے کا امکان

ممبئی: ملک کی کئی بڑی بینک یونینوں نے جمعرات، 12 فروری کو ہڑتال کا اعلان کیا ہے، جس کے باعث بینکنگ خدمات متاثر ہو سکتی ہیں۔ یہ جانکاری بدھ کو بینک آف بڑودہ کی جانب سے دی گئی۔ اسٹاک ایکسچینج کو دی گئی فائلنگ میں بینک آف بڑودہ نے بتایا کہ مختلف مطالبات اور مسائل کو لے کر متعدد بینک یونینوں نے 12 فروری کو ہڑتال کا اعلان کیا ہے، جس کے نتیجے میں خدمات میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے۔

شاخوں اور دفاتر کا کام ہو سکتا ہے متاثر

فائلنگ کے مطابق، آل انڈیا بینک ایمپلائز ایسوسی ایشن (اے آئی بی ای اے)، آل انڈیا بینک آفیسرز ایسوسی ایشن (اے آئی بی او اے) اور بینک ایمپلائز فیڈریشن آف انڈیا (بی ای ایف آئی) نے مشترکہ طور پر ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ بینک آف بڑودہ نے مزید کہا کہ ہڑتال کے دن شاخوں اور دفاتر کے ہموار کام کاج کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں، پھر بھی ہڑتال کی صورت میں شاخوں اور دفاتر کا کام متاثر ہو سکتا ہے۔

ہڑتال میں بڑی بینکنگ یونینیں ہیں شامل

چونکہ اس ہڑتال میں بڑی بینکنگ یونینیں شامل ہیں، اس لیے اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی) اور پنجاب نیشنل بینک (پی این بی) جیسے کئی سرکاری بینکوں کے ملازمین اس میں حصہ لے سکتے ہیں۔ تاہم، ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کی جانب سے اس دن کسی قسم کی تعطیل کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

نجی بینکوں کے کام نہیں ہوں گے متاثر

یہ ہڑتال صرف سرکاری بینکوں کے ملازمین تک محدود ہے، اسی لیے نجی بینکوں جیسے ایچ ڈی ایف سی بینک، آئی سی آئی سی آئی بینک، ایکسس بینک، آر بی ایل بینک اور آئی ڈی ایف سی فرسٹ بینک میں کام کاج معمول کے مطابق رہنے کی امید ہے۔ رپورٹس کے مطابق، بینک یونینوں کے ہڑتال پر جانے کی ایک بڑی وجہ چار نئے لیبر کوڈز ہیں، جنہیں یونینوں نے ملازمین پر بڑھتا ہوا بوجھ قرار دیا ہے۔

27 جنوری کو بھی کیا ہڑتال کا اعلان

اس سے قبل 27 جنوری کو بھی بینکنگ یونینوں نے فائیو ڈے ورکنگ کے مطالبے کو لے کر ہڑتال کا اعلان کیا تھا۔ اس دوران بھی کئی سرکاری بینکوں نے پہلے ہی اسٹاک ایکسچینج کو آگاہ کر دیا تھا کہ ہڑتال کے باعث بینکنگ خدمات متاثر ہو سکتی ہیں۔

یہ ہڑتال یونائیٹڈ فورم آف بینک یونینز (یو ایف بی یو) کی جانب سے کی گئی تھی، جو نو بینک یونینوں کا مشترکہ پلیٹ فارم ہے اور سرکاری بینکوں کے افسران و ملازمین کی نمائندگی کرتا ہے۔ ہڑتال کا فیصلہ 23 جنوری کو چیف لیبر کمشنر کے ساتھ ہونے والی میٹنگ میں کسی حل کے نہ نکلنے کے بعد کیا گیا تھا۔ اس میں اسٹیٹ بینک آف انڈیا، پنجاب نیشنل بینک اور بینک آف بڑودہ جیسے بڑے سرکاری بینک شامل تھے۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

Water crisis in Delhi or the tanker business? دہلی میں پانی کا بحران یا ٹینکروں کا کاروبار؟ بھارت ایکسپریس کی تحقیقاتی رپورٹ میں چونکا دینے والے انکشافات

کیشوپور، جنک پوری، روہنی، سونیا وہار اور منگول پوری سمیت کئی علاقوں میں خفیہ کیمرے…

7 hours ago

PM Modi speaks with Canada PM Mark Carney: ’’ہندوستان اور کینیڈا کے تعلقات میں مثبت پیش رفت کو آگے بڑھانے پر اتفاق‘‘ وزیراعظم مودی کی مارک کارنی سے گفتگو

تجارت، توانائی، ٹیکنالوجی، سلامتی اور عوامی روابط سمیت اہم شعبوں میں ٹھوس نتائج حاصل کرنے…

8 hours ago

Rahul Gandhi Defamation Case: ’چوکیدار چور ہے‘ ہتک عزت معاملے میں راہل گاندھی کو سپریم کورٹ سے بڑی راحت، نچلی عدالت کی کارروائی پر روک

وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف مبینہ ’چوکیدار چور ہے‘ تبصرے سے متعلق فوجداری ہتک…

8 hours ago