قومی

Bahraich Violence Case: بہرائچ فرقہ وارانہ تشدد معاملے کے قصورواروں کی سزا کا اعلان، سرفراز کو پھانسی کی سزا، 9 قصورواروں کو ملی عمر قید

یوپی کے بہرائچ کے فرقہ وارانہ تشدد معاملے میں مقامی عدالت نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔ تشدد معاملے میں اہم ملزم عبدالحمید سمیت 10 افراد کو قصوروارقراردیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ فرقہ وارانہ تشدد کے بعد رام گوپال مشرا کا قتل کردیا گیا تھا۔ اس قتل سانحہ میں قصوروار9 افراد کوعدالت نے عمرقید کی سزا سنائی ہے۔ وہیں اہم ملزم سرفرازکوپھانسی کی سزا دی گئی ہے۔ فرسٹ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج کی عدالت نے تمام ملزمان پرایک ایک لاکھ روپئے کا جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔

آپ کو بتادیں کہ عدالت نے منگل کے روز (9 دسمبر، 2025) جن 10 لوگوں کوقصوروارٹھہرایا تھا، ان میں عبدالحمید اوران کے تین بیٹوں سمیت 6 دیگرافراد شامل تھے۔ قصوروارقراردیئے گئے عبدالحمید، اس کے بیٹے فہیم، سرفراز، طالب، سیف، جاوید خان، ذیشان، ننکئو، شعیب، معروف علی، خورشید، افضل اورشکیل شامل ہیں۔ اس معاملے میں تین ملزمین شکیل احمد، ببلوافضل عرف کلواورخورشید کوعدالت نےبری کردیا تھا۔

فرقہ وارانہ تشدد کے بعد 13 افراد کو بھیجا گیا تھا جیل

واضح رہے کہ گزشتہ سال درگا وسرجن کے دوران 13 اکتوبرکو ہوئے فرقہ وارانہ تشدد کے بعد رام گوپال مشرا کا گولی مارکرقتل کردیا گیا تھا۔ اس حادثہ کے بعد 13 افراد کوگرفتارکرکے جیل بھیجا گیا تھا۔ پولیس نے اس معاملے کی جانچ کے بعد 11 جنوری 2025 کوایڈیشنل سیشن جج کی عدالت میں تمام ملزمان کے خلاف چارج شیٹ دائرکردی گئی تھی۔ اس معاملے سے متعلق 12 گواہوں نے عدالت میں گواہی دی تھی۔ 21 نومبرکوجج نے فیصلہ محفوظ رکھا اورگزشتہ منگل کو دسمبرکو10 ملزمین کوقصوروارٹھہرایا اورتین کو بری کرنے کا فیصلہ سنایا تھا۔

ان ملزمین کوعدالت نے کیا تھا بری

9 دسمبرکوجب عدالت نے تین ملزمین کوبری کردیا تھا، تب رام گوپال مشرا کی اہلیہ رولی مشرا نے کہا تھا کہ ”میرے شوہرکے قاتل کو پھانسی دو، تبھی انصاف ملے گا۔ بری کئے  گئے تین بھی قصوروار ہیں، انہیں بھی سزا ملنی چاہئے۔“ اہل خانہ نے سبھی قصورواروں کو سزائے موت دیئے جانے کا مطالبہ کیا تھا۔ حالانکہ خورشید، شکیل اورافضل کو بری کردیا گیا ہے۔ معاملے میں این ایس اے بھی لگایا گیا تھا۔ انتظامیہ نے علاقے میں بھاری پولیس فورس تعینات کی ہے تاکہ فرقہ وارانہ ماحول نہ بن سکے۔ وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے پہلے ہی سخت کارروائی کا حکم دے دیا تھا۔

-بھارت ایکسپریس اردو

Nisar Ahmad

Recent Posts

Jantar Mantar Protest: دہلی کے جنتر منتر پرخاتون سے مبینہ بدسلوکی کے خلاف پارلیمنٹ اسٹریٹ تھانے کے باہر احتجاج

روزی نے بتایا کہ اس وقت ان کے ساتھ دیگر خاتون صحافی بھی موجود تھیں۔…

51 minutes ago

SIR Row Escalates: ایس آئی آر پر بڑھا تنازع، گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ, سپریم کورٹ میں آج سماعت

نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق، عرضیوں میں چیف الیکشن کمشنر کی…

1 hour ago