قومی

Jauhar Trust Charitable Status: اعظم خان کے جوہر ٹرسٹ کا چیریٹیبل درجہ منسوخ، اعظم خان کی مشکلوں میں مزید اضافہ، اب انکم ٹیکس میں نہیں ملے گی رعایت

رام پور میں سماجوادی پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری اعظم خان کی جوہر یونیورسٹی کا انتظام سنبھالنے والے مولانا محمد علی جوہر ٹرسٹ کا خیراتی (Charitable) درجہ انکم ٹیکس محکمہ نے منسوخ کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد ٹرسٹ کو انکم ٹیکس ایکٹ کی دفعہ 12 اے بی کے تحت حاصل تمام ٹیکس رعایتیں ختم ہو جائیں گی۔ لکھنؤ کے پرنسپل چیف کمشنر انکم ٹیکس (سینٹرل) گورو باتھم کی جانب سے جاری 147 صفحات پر مشتمل حکم نامے میں ٹرسٹ کی مالی سرگرمیوں پر متعدد سنگین سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

چندے اور تعمیراتی لاگت میں بڑے فرق پر شبہات

حکم نامے کے مطابق ٹرسٹ کی جانب سے موصول ہونے والے کروڑوں روپے کے چندے کو مشتبہ قرار دیا گیا ہے۔ ٹرسٹ نے دعویٰ کیا تھا کہ جوہر یونیورسٹی کی تعمیر پر تقریباً 46 کروڑ روپے خرچ ہوئے، جبکہ سنٹرل پبلک ورکس ڈپارٹمنٹ (سی پی ڈبلیو ڈی) کے تخمینے کے مطابق اس منصوبے کی لاگت تقریباً 494 کروڑ روپے بنتی ہے۔ اسی بنیاد پر تحقیقاتی اداروں کو شبہ ہے کہ تعمیراتی منصوبے میں تقریباً 448 کروڑ روپے کی غیر ظاہر شدہ رقم (کالا دھن) لگائی گئی۔ تاہم اس سلسلے میں تفتیش اور قانونی کارروائی ابھی جاری ہے۔

ٹرسٹ کے اراکین اور عطیہ دہندگان بھی جانچ کے دائرے میں

حکم نامے میں ٹرسٹ کے اراکین کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ بی جے پی کے رکن اسمبلی آکاش سکسینہ نے 16 مارچ 2021 کو مرکزی بورڈ برائے راست ٹیکس (سی بی ڈی ٹی) سے شکایت کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ بعض ایسے افراد نے جوہر یونیورسٹی کو تقریباً 60 کروڑ روپے تک کا عطیہ دیا، جو خود انکم ٹیکس ادا نہیں کرتے تھے۔ شکایت کے بعد انکم ٹیکس محکمہ نے تحقیقات شروع کیں۔ سال 2023 میں محکمہ نے اعظم خان کی رہائش گاہ، جوہر یونیورسٹی اور دیگر مقامات پر چھاپے بھی مارے تھے۔ بعد ازاں 17 جون کو ٹرسٹ کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیا گیا، لیکن اطمینان بخش جواب نہ ملنے پر خیراتی (Charitable) رجسٹریشن منسوخ کردیا گیا۔

رجسٹریشن منسوخ ہونے کے بعد رعایت ختم

یہ حکم مالی سال 2020-21، 2021-22، 2022-23، 2023-24 اور آئندہ برسوں پر بھی لاگو ہوگا۔ ٹرسٹ کے نو ارکان میں سے پانچ اعظم خان کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، جبکہ دیگر چار ارکان کے کردار پر بھی سوال اٹھائے گئے ہیں۔ ٹیکس بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر پی کے چاولہ کے مطابق، دفعہ 12 اے بی کے تحت رجسٹرڈ ٹرسٹ کو عطیہ دینے والوں کو بھی انکم ٹیکس میں رعایت ملتی ہے، لیکن رجسٹریشن منسوخ ہونے کے بعد ایسی رعایت ختم ہو جائے گی اور بعض معاملات میں عطیہ دہندگان کو جرمانے کے ساتھ ٹیکس رعایت کی رقم بھی واپس کرنی پڑ سکتی ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ قانون کے مطابق دس سال سے زیادہ پرانے ٹیکس معاملات میں کارروائی کی ایک مقررہ حد موجود ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

PM Modi Shares Sanskrit Subhashit: وزیر اعظم نریندر مودی نے خصوصی سنسکرت سبھاشیت شیئر کیا، خود انحصاری اور خدمت کا دیا پیغام

وزیر اعظم کی جانب سے شیئر کیے گئے اس سنسکرت سبھاشیت میں خود کفالت اور…

10 minutes ago

Supreme Court: گمنام شکایات پر سپریم کورٹ برہم، کہا- ایسی حرکتیں ہمیں پیچھے ہٹنے پر مجبور نہیں کر سکتیں

چیف جسٹس سوریا کانت، جسٹس جویمالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا کی بنچ نے کہا…

22 minutes ago

PM Modi’s 76th Birthday: پی ایم مودی کی سالگرہ پر 1.25 لاکھ دیوں سے جگمگایا کانکریا لیک فرنٹ، امت شاہ نے جلایا ’آشیرواد کا دیا‘

وزیر اعظم نریندر مودی کی 76ویں سالگرہ اور عوامی زندگی کے 25 سال مکمل ہونے…

27 minutes ago

Mamata Banerjee: انتخابی نشان چھننے کے بعد ممتا بنرجی کا پہلا ردعمل، کہا- آج جمہوری تاریخ کا سیاہ دن

ممتا بنرجی نے بی جے پی پر نشانہ لگاتے ہوئے کہا، انہوں نے پہلے ہی…

41 minutes ago

Surendra Koli Suicide: نٹھاری قتل معاملہ، سریندر کولی نے کی خودکشی ، ہریدوار میں چائے کی دکان پر لگایا پھندا

نٹھاری قتل معاملے سے متعلق آخری کیس میں بھی سریندر کولی کو سپریم کورٹ سے…

1 hour ago

DUSU انتخابات: NSUI جیتے یا ABVP، خلاف ورزی پر ہوگی سخت کارروائی، دہلی ہائی کورٹ کا حکم

عدالت نے کہا کہ انتخابی ضابطوں کی ان خلاف ورزیوں کے لیے اجتماعی انتخابی ہرجانہ…

2 hours ago