نئی دہلی: سماجوادی پارٹی کے سینئرلیڈراعظم خان کی درخواست پرسپریم کورٹ میں سماعت ہوئی، لیکن انہیں فوری راحت نہیں مل سکی۔ سپریم کورٹ نے معاملہ الہ آباد ہائی کورٹ کومنتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اورہائی کورٹ سے درخواست کی ہے کہ تعطیلات کے بعد عدالت کھلنے کے پہلے دن، یعنی 16 نومبرتک اس معاملے پرسماعت کی جائے۔ چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) جسٹس سوریا کانت کی سربراہی والی بنچ کے سامنے اعظم خان کی جانب سے سینئروکیل کپل سبل نے دلائل پیش کئے۔ کپل سبل نے اعظم خان کی عمر، ان کے خلاف درج مقدمات کی تعداد اورمبینہ واقعہ کے کئی برس بعد ایف آئی آردرج کئے جانے پرسوال اٹھائے۔
‘میرے موکل 80 سال کے ہیں، 28 مقدمات اورایک ای سی آئی آر’
سماعت کے دوران کپل سبل نے کہا کہ ان کے موکل کی عمر80 سال ہے، ان کے خلاف 28 مقدمات درج ہیں اورایک ای سی آئی آربھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مکمل طورپرہراسانی کا معاملہ ہے۔ کپل سبل نے دلیل دی کہ جس واقعہ کا تعلق 2006 سے بتایا جا رہا ہے، اس میں 2019 میں ایف آئی آردرج کی گئی، جبکہ اس وقت اعظم خان اقتدارمیں نہیں تھے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ 2006 کے کسی واقعے سے متعلق 13 سال بعد ایف آئی آرکیسے درج کی جا سکتی ہے؟ کپل سبل نے عدالت سے اس معاملے پرغورکرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ واقعہ 2006 کا ہے اورایف آئی آر2019 میں درج ہوئی، توپھراس معاملے میں پی ایم ایل اے کیسے شامل ہوگیا؟
سپریم کورٹ نے میرٹ پر رائے دینے سے کیا گریز
چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ اعظم خان کی جانب سے اٹھائے گئے دلائل میں کچھ دم ہو سکتا ہے، لیکن سپریم کورٹ اس مرحلے پرمعاملے کے میرٹ پرکوئی رائے نہیں دینا چاہتی۔ عدالت نے درخواست کوالہ آباد ہائی کورٹ بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ اب اعظم خان کواپنی دلیلیں الہ آباد ہائی کورٹ کے سامنے پیش کرنی ہوں گی۔
بے حساب رقم اور یونیورسٹی کے انتظام کا ذکر
سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے معاملے سے متعلق انکم ٹیکس محکمہ کی بعض کارروائیوں کا بھی ذکرکیا۔ عدالت نے کہا کہ ان کارروائیوں کے دوران بڑی مقدارمیں ایسی رقم ملی، جس کا حساب کتاب نہیں تھا۔ عدالت کے مطابق، یہ رقم یونیورسٹی کے انتظام سے متعلق تھی اوریونیورسٹی مبینہ جبراً وصولی کے ریکیٹ سے فائدہ اٹھانے والی تھی۔ سپریم کورٹ نے معاملے کی بنیادی وجہ یونیورسٹی میں فنڈ کے مبینہ غلط انتظام کو بھی بتایا۔
جیل سے رہائی کے بعد ایف آئی آر درج ہونے کی دلیل
سماعت کے دوران اعظم خان کی جانب سے یہ دلیل بھی دی گئی کہ جیل سے رہائی کے فوراً بعد اقتصادی جرائم ونگ (ای او ڈبلیو) نے ایف آئی آردرج کردی۔ سپریم کورٹ نے انکم ٹیکس محکمہ کی کارروائی میں ملنے والی بے حساب رقم اوریونیورسٹی کے انتظام سے متعلق پہلوؤں کا بھی ذکرکیا۔
اب الہ آباد ہائی کورٹ میں ہوگی سماعت
سپریم کورٹ نے اعظم خان کی درخواست الہ آباد ہائی کورٹ کومنتقل کردی ہے۔ عدالت نے ہائی کورٹ سے درخواست کی ہے کہ تعطیلات کے بعد عدالت کھلنے کے پہلے دن، یعنی 16 نومبرتک اس معاملے کوسماعت کے لئے فہرست میں شامل کیا جائے۔ اب اس معاملے کی سماعت الہ آباد ہائی کورٹ میں ہوگی، جہاں اعظم خان اپنی درخواست اوردلائل پیش کریں گے۔
بھارت ایکسپریس اردو-
اے پی ایس ای زیڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر کرن اڈانی نے اس حصول کو کمپنی…
امت شاہ نے کہا کہ جمہوریت میں پارلیمنٹ بحث و مباحثے کا سب سے بڑا…
قابل ذکر ہے کہ بھگوان رام اور بھگوان کرشن سے متعلق دھیرندر شاستری کے بیان…
شمالی کوریا کا یہ میزائل تجربہ امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کے دوران بھی ہوا…
بھاونا پٹیل کی کھیلوں کے میدان میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں انہیں 2021 میں…
وزیر اعظم مودی کی اس پوسٹ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سورَو داس نے سوشل…