قومی

Amit Shah slams Rahul Gandhi: ’’پارلیمنٹ بحث و مباحثے کا سب سے بڑا فورم ہے‘‘ وزیرداخلہ امت شاہ کی راہل گاندھی پرسخت تنقید، کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام

کرنال: مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے جمعرات کو لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ پارلیمنٹ کی کارروائی چلنے نہیں دیتے اور جمہوری اداروں میں تعطل پیدا کرتے ہیں۔ انہوں نے کانگریس پر پارلیمنٹ میں بحث کے بجائے ہنگامہ آرائی اور واک آؤٹ کو اپنی سیاسی حکمت عملی کا حصہ بنانے کا بھی الزام عائد کیا۔ امت شاہ نے ہریانہ کے کرنال میں بی جے پی کی ’لوک تنتر بچاؤ، اَراجکتا ہٹاؤ‘ پیدل مارچ کے دوران اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے عوام نے 2024 کے انتخابات میں مسلسل تیسری بار نریندر مودی کو بھاری اکثریت کے ساتھ وزیر اعظم منتخب کیا۔ ان کے مطابق 2024 کے بعد سے راہل گاندھی کی قیادت میں کانگریس کو بار بار انتخابی شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

’پارلیمنٹ میں بحث کے بجائے ہنگامہ آرائی کو بنایا کلچر‘

امت شاہ نے کہا کہ جمہوریت میں پارلیمنٹ بحث و مباحثے کا سب سے بڑا فورم ہے، لیکن راہل گاندھی پارلیمنٹ کو کام نہیں کرنے دیتے۔ ان کا الزام تھا کہ کانگریس اہم اور بنیادی مسائل پر بحث میں حصہ لینے کے بجائے ایوان میں ہنگامہ آرائی اور واک آؤٹ کرتی ہے۔ انہوں نے راہل گاندھی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کی کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے کے بعد سڑکوں پر بھیڑ جمع کرکے انارکی پھیلانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ شاہ نے دعویٰ کیا کہ کانگریس نے ایوان میں ہنگامہ آرائی اور واک آؤٹ کو اپنی سیاسی ثقافت بنا لیا ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ بی جے پی اپوزیشن کا ہر محاذ پر مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے، خواہ وہ پارلیمنٹ ہو، ریاستی اسمبلیاں ہوں یا گاؤں اور کھیت کھلیان۔ انہوں نے کہا کہ 80 سالہ جمہوریت کو کسی کے فریب سے کمزور نہیں کیا جاسکتا۔ امت شاہ کے مطابق بی جے پی کارکنان پارلیمنٹ سے لے کر زمینی سطح تک اپوزیشن کی سیاست کا جواب دیں گے۔ انہوں نے کرنال کی ریلی کو راہل گاندھی کے لیے ایک مضبوط جواب قرار دیا۔

ایس آئی آر کے معاملے پر نائب سنگھ سینی کا کانگریس پر حملہ

اسی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ہریانہ کے وزیراعلیٰ نائب سنگھ سینی نے بھی کانگریس کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کانگریس انتخابی فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے معاملے پر جھوٹ کا جال بُن رہی ہے اور اس عمل کے بارے میں ملک بھر میں گمراہ کن پروپیگنڈہ کر رہی ہے۔ سینی نے کہا کہ جمہوریت کی سب سے بڑی طاقت عام شہری کا ووٹ ہے۔ کسی شخص کے پاس دولت، اثر و رسوخ یا بڑے سیاسی خاندان کی حمایت ہو یا نہ ہو، پولنگ بوتھ پر اس کے ووٹ کی اہمیت اتنی ہی ہوتی ہے جتنی کسی طاقتور شخص کے ووٹ کی۔ ان کے مطابق ایک ووٹ میں کسان کی محنت، مزدور کی امیدیں، نوجوانوں کا مستقبل اور ماؤں بہنوں کے خواب شامل ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن وقتاً فوقتاً انتخابی فہرستوں پر نظرثانی کا عمل انجام دیتا ہے اور موجودہ نظرثانی بھی اسی عمل کا حصہ ہے۔ سینی نے الزام لگایا کہ کانگریس اس معاملے میں غلط بیانی کرکے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ واضح رہے کہ امت شاہ جمعرات کو کرنال میں بی جے پی کی ’لوک تنتر بچاؤ، اَراجکتا ہٹاؤ‘ مہم کے تحت پیدل مارچ میں شریک ہوئے تھے۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ نائب سنگھ سینی اور پارٹی کے دیگر سینئر رہنما بھی موجود تھے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

اعظم خان کو سپریم کورٹ سے نہیں ملی راحت، معاملہ الہ آباد ہائی کورٹ منتقل، 16 نومبر تک سماعت کا امکان

سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران کپل سبل نے کہا کہ ان کے موکل کی…

42 minutes ago

Congress leader lashes out at Dhirendra Shastri: دھیرندر شاستری پر کانگریس لیڈر برہم، بولے: اسے ایسی باتیں کہنے کا حق کس نے دیا؟

قابل ذکر ہے کہ بھگوان رام اور بھگوان کرشن سے متعلق دھیرندر شاستری کے بیان…

1 hour ago

Bhavina Patel Created History in Para Table Tennis: بھاونا پٹیل نے پیرا ٹیبل ٹینس میں رقم کی تاریخ، پیرالمپکس میں ملک کو دلایا پہلامیڈل

بھاونا پٹیل کی کھیلوں کے میدان میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں انہیں 2021 میں…

2 hours ago