قومی

PM Modi Address Violated Model Code Of Conduct: وزیر اعظم مودی کے خطاب پر تنازعہ: سی پی آئی رکن پارلیمنٹ کی الیکشن کمیشن سے شکایت، ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا الزام

نئی دہلی: ملک کی موجودہ سیاسی فضا میں اس وقت ایک نیا تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے جب کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) کے رکن پارلیمنٹ سندوش کمار پی نے وزیر اعظم نریندر مودی کے حالیہ ’قوم سے خطاب‘ کو انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر کو باقاعدہ شکایتی خط ارسال کیا ہے۔ اس خط میں انہوں نے الزام لگایا ہے کہ وزیر اعظم کا خطاب سیاسی نوعیت کا تھا اور اس کے ذریعے عوامی رائے کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی۔ اطلاعات کے مطابق رکن پارلیمنٹ سندوش کمار پی نے 19 اپریل کو چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو لکھے گئے خط میں کہا کہ وزیر اعظم نے ایسے وقت میں قوم سے خطاب کیا جب ملک کی پانچ ریاستوں میں ماڈل کوڈ آف کنڈکٹ (ایم سی سی) نافذ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس خطاب میں غیر جانبداری کا فقدان تھا اور اس میں مخصوص سیاسی نکات کو اجاگر کیا گیا، جس کا مقصد جاری سیاسی مباحثے میں ایک خاص رخ پیدا کرنا تھا۔

سی پی آئی لیڈر نے اپنے خط میں مزید کہا کہ وزیر اعظم کا خطاب بنیادی طور پر سیاسی پیغام پر مبنی تھا، جسے سرکاری پلیٹ فارمز کے ذریعے نشر کرنا نہ صرف غیر مناسب ہے بلکہ انتخابی ضابطہ اخلاق کے بھی منافی ہے۔ انہوں نے خاص طور پر دوردرشن اور سنسد ٹی وی جیسے سرکاری نشریاتی اداروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عوامی فنڈ سے چلنے والے ان پلیٹ فارمز کا استعمال کسی ایک سیاسی جماعت یا لیڈر کے مفاد میں نہیں ہونا چاہیے۔

انہوں نے دلیل دی کہ اس طرح کے اقدامات انتخابی عمل کے دوران ’مساوی مواقع‘ کے اصول کو متاثر کرتے ہیں، جسے برقرار رکھنا الیکشن کمیشن کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ شکایتی خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر اس طرح کے معاملات پر فوری کارروائی نہ کی گئی تو اس سے نہ صرف کمیشن کی غیر جانبداری پر سوال اٹھیں گے بلکہ عوام کا جمہوری عمل پر اعتماد بھی متزلزل ہو سکتا ہے۔ رکن پارلیمنٹ سندوش کمار پی نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لے، اس کی مکمل تحقیقات کرائے اور ذمہ دار افراد کے خلاف مناسب کارروائی کو یقینی بنائے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ انتخابی ضابطہ اخلاق کی پاسداری تمام سیاسی جماعتوں اور لیڈروں پر یکساں طور پر نافذ ہونی چاہیے۔

واضح رہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے 17 اپریل کو تقریباً 30 منٹ طویل قوم سے خطاب کیا تھا، جس میں انہوں نے خواتین کے لیے ریزرویشن سے متعلق بل کا ذکر کیا اور اس کی مخالفت کرنے والی جماعتوں کو خواتین مخالف قرار دیا تھا۔ ان کے اس بیان کے بعد سیاسی حلقوں میں بحث کا آغاز ہو گیا تھا، جس نے اب ایک باضابطہ شکایت کی صورت اختیار کر لی ہے۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن کی طرف سے ابھی تک اس شکایت پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، جس کا انتظار سیاسی حلقوں اور عوام کو بے چینی سے ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ کمیشن کا آئندہ قدم اس معاملے میں نہایت اہمیت کا حامل ہوگا، کیونکہ اس سے نہ صرف اس مخصوص تنازعہ کا حل نکلے گا بلکہ مستقبل میں ایسے معاملات کے لیے ایک نظیر بھی قائم ہوگی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Sibghatullah

Recent Posts

12 ماہ میں 119 بچوں کو گھرپہنچایا، دہلی پولیس کی خاتون ہیڈ کانسٹبل چنچل بنیں مثال

دہلی پولیس کی ہیڈ کانسٹبل چنچنل نے ایک سال کے اندر119 لاپتہ بچوں اور16 دیگرگمشدہ…

2 minutes ago

1st ODI shifted from Delhi to Visakhapatnam: دہلی کی زہریلی ہوا کے آگے جھکا بی سی سی آئی، ہندوستان-سری لنکا ونڈے کا مقام تبدیل

 بی سی سی آئی نے دہلی کی آلودگی اوراسٹیڈیم میں چل رہی تجدید کاری کے…

43 minutes ago

Drone Attacks on Protesters in PoK: پی او کے میں مظاہرین پر فائرنگ اور ڈرون حملوں کا الزام، 7 افراد ہلاک، 18 زخمی

پاکستانی سکیورٹی فورسز پر راولاکوٹ میں پُرامن مظاہرین اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنانے کا…

54 minutes ago

The revolution of 1857: ملک کی تحریک آزادی اور 1857 کو بغاوت کہنا تاریخ کے ساتھ ناانصافی، یہ آزادی کی پہلی جنگ تھی: امت شاہ

نائب سنگھ سینی نے امت شاہ کی تنظیمی صلاحیتوں کی بھی تعریف کی۔ انہوں نے…

1 hour ago

Prime Minister Narendra Modi: پیدائش سے  معذور بچوں کے لیے پنشن کی راہ ہموار، رقم میں بھی اضافہ کیا: وزیر اعظم مودی

گزشتہ ماہ حکومت نے وزیر اعظم دیویانگ جن پنشن اسکیم کے تحت معذور افراد کے…

1 hour ago