گوہاٹی: آسام میں ہونے جا رہے اسمبلی انتخابات سے قبل کانگریس پارٹی کو مسلسل بڑے جھٹکوں کا سامنا ہے۔ گزشتہ تین ماہ کے دوران پارٹی کے پانچ اہم لیڈروں نے استعفیٰ دے کر سیاسی منظرنامے میں ہلچل مچا دی ہے، جس سے ریاست میں کانگریس کی پوزیشن کمزور ہوتی نظر آ رہی ہے۔ حالیہ استعفوں میں سب سے بڑا نام لوک سبھا رکن پردیوت بوردولوی کا ہے، جنہوں نے منگل کے روز کانگریس سے علیحدگی اختیار کر لی۔ وہ ناگاؤں پارلیمانی حلقے سے دو مرتبہ رکن پارلیمنٹ منتخب ہو چکے ہیں اور آسام حکومت میں وزیر بھی رہ چکے ہیں۔ اپنے استعفے میں انہوں نے کانگریس صدر ملیکارجن کھڑگے کو لکھا کہ یہ فیصلہ انہوں نے انتہائی دکھ کے ساتھ لیا ہے۔ انہوں نے پارٹی کے تمام عہدوں اور بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دیتے ہوئے کہا کہ وہ ہمیشہ ریاست کے مفاد کو ترجیح دیتے رہے ہیں اور آئندہ بھی عوام کی خدمت جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے اپنے خط میں یہ بھی کہا کہ اگر انہیں گھٹن محسوس ہوتی ہے تو وہ ایسے ماحول کی تلاش کریں گے جہاں وہ بہتر انداز میں کام کر سکیں۔ ان کے مطابق، ان کے پاس ابھی بھی آسام کے عوام کی خدمت کے لیے کئی سال باقی ہیں۔
دیگر لیڈروں کے استعفے
بوردولوی سے قبل بھی کئی اہم لیڈر کانگریس چھوڑ چکے ہیں۔ ان میں رضا الکریم سرکار کا نام شامل ہے، جو 11 جنوری کو کانگریس میں شامل ہوئے تھے لیکن چند دن بعد ہی پارٹی چھوڑ دی۔ وہ اس سے قبل آل آسام مائنارٹی اسٹوڈنٹس یونین کے صدر رہ چکے تھے اور دو دہائیوں سے اس تنظیم سے وابستہ تھے۔ فروری میں کانگریس کو اس وقت بڑا جھٹکا لگا جب آسام کانگریس کے سابق صدر بھوپین کمار بورا نے استعفیٰ دے دیا۔ انہوں نے 2021 سے 2025 تک ریاستی یونٹ کی قیادت کی تھی۔ بورا نے اپنے استعفے کی وجہ خود اعتمادی اور تنظیمی فیصلوں سے اختلاف کو قرار دیا۔ کانگریس چھوڑنے کے بعد بورا نے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما اور بی جے پی کے ریاستی صدر دلیپ سیکیا کی موجودگی میں بھارتیہ جنتا پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی۔ وہ تین دہائیوں سے زیادہ عرصے تک کانگریس سے وابستہ رہے اور آسام اسمبلی میں بھی نمائندگی کر چکے تھے۔
ابول میاں اور رتول کلیتا بھی الگ
کانگریس کو ایک اور بڑا نقصان ابول میاں کے استعفے سے ہوا، جنہوں نے علاقائی جماعت رائے زور دل میں شمولیت اختیار کر لی۔ دھوبری ضلع میں ان کا خاصا اثر و رسوخ مانا جاتا ہے، جس سے کانگریس کو مقامی سطح پر نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اسی طرح 7 مارچ کو آسام پردیش کانگریس کمیٹی کے سینئر لیڈر رتول کلیتا نے بھی پارٹی چھوڑ دی۔ انہوں نے قیادت پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ زمینی سطح کے کارکنان کو نظرانداز کیا جا رہا ہے اور صرف سیاسی خاندانوں کو ترجیح دی جاتی ہے۔
کانگریس کے لیے بڑھتے چیلنجز
مسلسل استعفوں نے آسام میں کانگریس کے لیے انتخابی چیلنجز کو مزید بڑھا دیا ہے۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ پارٹی کے اندرونی اختلافات اور قیادت سے ناراضگی اس بحران کی بڑی وجوہات ہیں۔ آنے والے انتخابات کے پیش نظر کانگریس کے لیے یہ ضروری ہو گیا ہے کہ وہ نہ صرف اپنے تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط کرے بلکہ ناراض لیڈروں کو بھی منانے کی کوشش کرے۔ بصورت دیگر، یہ سیاسی نقصان انتخابی نتائج پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
امت شاہ نے ودیا ساگر کی تعلیمی خدمات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں…
راجہ رام موہن رائے نے ان برائیوں کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی۔ ان کی سب…
کانگریس رہنما پرینکا گاندھی نے بھی سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو یاد کرتے ہوئے…
بل گیٹس نے این بی سی کی کرسٹن ویلکر سے انٹرویو میں کہا، ’’اے آئی…
29 جون کو سی بی ایس ای نے تین زبانوں کی پالیسی کے حوالے سے…
کے سی وینوگوپال نے مرکزی حکومت کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے حکومت اور اس…