نئی دہلی: ملک کی تین اہم ریاستوں آسام، کیرالا اور پڈوچیری میں صبح اسمبلی انتخابات کے لیے ووٹنگ ہوگی، جس کے لیے تمام تر انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا نے آزاد، منصفانہ اور پرامن پولنگ کو یقینی بنانے کے لیے وسیع سطح پر تیاریاں کی ہیں۔ اس مرحلے میں آسام کی 126، کیرالا کی 140 اور پڈوچیری کی 30 اسمبلی نشستوں کے لیے ووٹنگ صبح 7 بجے شروع ہوگی۔ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو کی جائے گی۔ تمل ناڈو میں 23 اپریل جبکہ مغربی بنگال میں 23 اور 29 اپریل کو انتخابات ہوں گے۔ یہ انتخابات سیاسی اعتبار سے نہایت اہم مانے جا رہے ہیں، جہاں مختلف جماعتیں اقتدار کے حصول کے لیے میدان میں ہیں۔ خاص طور پر جنوبی اور شمال مشرقی بھارت میں سیاسی توازن کے حوالے سے ان نتائج کو اہم سمجھا جا رہا ہے۔
کیرالا اور آسام میں ووٹرز کی بڑی تعداد
ریاست کیرالا میں تقریباً 2.7 کروڑ ووٹرز 140 حلقوں میں 883 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ کریں گے۔ ان میں خواتین ووٹرز کی تعداد مردوں سے زیادہ ہے، جبکہ تیسری جنس کے ووٹرز بھی رجسٹرڈ ہیں۔ ریاست بھر میں 30 ہزار سے زائد پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں اور تقریباً ڈیڑھ لاکھ تربیت یافتہ عملہ تعینات کیا گیا ہے۔ یہاں اصل مقابلہ بائیں بازو کے اتحاد ایل ڈی ایف اور کانگریس کی قیادت والے یو ڈی ایف کے درمیان ہے، جبکہ بی جے پی کی قیادت والا این ڈی اے بھی اپنی موجودگی مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ دوسری جانب آسام میں 2.5 کروڑ سے زائد ووٹرز 126 رکنی اسمبلی کے لیے 722 امیدواروں میں سے انتخاب کریں گے۔ ریاست میں 31 ہزار سے زائد پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں اور ویب کاسٹنگ کے ذریعے نگرانی کا نظام بھی نافذ کیا گیا ہے۔ انتخابات کے لیے ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ پولنگ عملہ تعینات کیا گیا ہے، جبکہ ای وی ایم اور وی وی پی اے ٹی مشینوں کا وسیع بندوبست کیا گیا ہے۔ یہاں حکمراں اتحاد اور کانگریس کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔
پڈوچیری میں سخت سکیورٹی اور ٹیکنالوجی کا استعمال
پڈوچیری میں تقریباً 10 لاکھ ووٹرز 30 رکنی اسمبلی کے لیے اپنے نمائندے منتخب کریں گے۔ یہاں 1,099 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں، جن میں سے 209 کو حساس قرار دیا گیا ہے۔ انتخابی عمل کی نگرانی کے لیے ڈرون، فلائنگ اسکواڈ اور ہیلپ لائنز کا استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ مرکزی اور مقامی سکیورٹی فورسز کو تعینات کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ پڈوچیری میں مقابلہ حکمراں این ڈی اے اتحاد، کانگریس-ڈی ایم کے اتحاد اور دیگر سیاسی قوتوں کے درمیان سہ رخی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ ان تینوں ریاستوں میں ووٹنگ کے دوران ضابطۂ اخلاق پر سختی سے عمل کیا جا رہا ہے، انتخابی مہم پر پابندی عائد ہو چکی ہے اور شراب کی فروخت بھی بند کر دی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی، مؤثر سکیورٹی اور تربیت یافتہ عملے کی مدد سے شفاف انتخابات یقینی بنائے جائیں گے، جس کے بعد نتائج ملک کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کریں گے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
راجہ رام موہن رائے نے ان برائیوں کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی۔ ان کی سب…
کانگریس رہنما پرینکا گاندھی نے بھی سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو یاد کرتے ہوئے…
بل گیٹس نے این بی سی کی کرسٹن ویلکر سے انٹرویو میں کہا، ’’اے آئی…
29 جون کو سی بی ایس ای نے تین زبانوں کی پالیسی کے حوالے سے…
کے سی وینوگوپال نے مرکزی حکومت کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے حکومت اور اس…
فوج کے ترجمان کے مطابق، دونوں اعلیٰ فوجی افسران کے علاوہ وفد کے 12 ارکان…