نئی دہلی: شمال مشرقی ریاست آسام میں حال ہی میں منعقد ہونے والے اسمبلی انتخابات کے بعد ایگزٹ پول کے نتائج سامنے آ گئے ہیں، جن میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی ایک بار پھر حکومت بنتی دکھائی دے رہی ہے۔ شائننگ انڈیا کے سروے کے مطابق ریاست میں حکمراں جماعت کو واضح برتری حاصل ہو سکتی ہے۔ سروے کے مطابق 126 رکنی اسمبلی میں بی جے پی کو 88 سے زائد نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جو اسے باآسانی اکثریت کی حد سے آگے لے جاتا ہے۔ دوسری جانب انڈین نیشنل کانگریس کو تقریباً 31 نشستیں ملنے کی امید ہے، جبکہ آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (یو ڈی ایف) کو 4 نشستیں مل سکتی ہیں۔ دیگر امیدواروں کے حصے میں 3 نشستیں جانے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ 19 نشستوں پر سخت مقابلے کی پیش گوئی کی گئی ہے، جہاں نتائج کسی بھی رخ جا سکتے ہیں۔
ووٹ فیصد کے لحاظ سے بھی بی جے پی کو سبقت حاصل ہے۔ سروے کے مطابق پارٹی کو 45.8 فیصد ووٹ مل سکتے ہیں، جبکہ کانگریس کو 37.5 فیصد ووٹ حاصل ہونے کی توقع ہے۔ یو ڈی ایف کے حصے میں 3.6 فیصد اور دیگر جماعتوں کو 8.9 فیصد ووٹ ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ 4.2 فیصد ووٹوں کو خاموش یا غیر فیصلہ کن قرار دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ آسام کی تمام 126 اسمبلی نشستوں پر 9 اپریل کو ایک ہی مرحلے میں ووٹنگ ہوئی تھی۔ اس دوران عوام نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور ووٹنگ فیصد 85.38 ریکارڈ کیا گیا، جو خاصا بلند مانا جا رہا ہے۔ کانگریس نے اس بھاری ووٹنگ کو تبدیلی کا اشارہ قرار دیا تھا، تاہم ایگزٹ پول کے نتائج اس کے برعکس تصویر پیش کر رہے ہیں۔
اگر 2021 کے اسمبلی انتخابات کے نتائج کا جائزہ لیا جائے تو بی جے پی نے 60 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی، جبکہ اس کے اتحادیوں کے ساتھ مل کر اسے مجموعی طور پر 76 نشستیں حاصل ہوئیں، جو حکومت بنانے کے لیے کافی تھیں۔ دوسری جانب کانگریس کی قیادت والے اتحاد کو 49 نشستیں ملی تھیں، جس کے باعث وہ اپوزیشن تک محدود رہ گیا تھا۔ آسام اسمبلی میں اکثریت کے لیے 64 نشستوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق موجودہ ایگزٹ پول یہ ظاہر کرتے ہیں کہ بی جے پی نہ صرف اپنی پوزیشن برقرار رکھ سکتی ہے بلکہ اس بار مزید مضبوط ہو کر سامنے آ سکتی ہے۔ تاہم کئی حلقوں میں سخت مقابلہ ہونے کے باعث حتمی نتائج میں کچھ تبدیلی ممکن ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ ایگزٹ پول کے یہ اعداد و شمار محض اندازوں پر مبنی ہوتے ہیں اور حتمی نتائج کا اعلان ووٹوں کی گنتی کے بعد ہی کیا جائے گا۔ الیکشن کمیشن کے مطابق آسام اسمبلی انتخابات کے نتائج 4 مئی کو جاری کیے جائیں گے، جس کے بعد ہی واضح ہو سکے گا کہ ریاست میں اقتدار کس جماعت کے حصے میں آتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت کے سابق نائب وزیراعظم لال کرشن اڈوانی کو جمعہ کے روز اسپتال میں داخل…
بس میں اسکولی بچے سوار تھے، جو واٹر پارک میں تفریح کے بعد اپنے گھروں…
امریکی عہدیدار نے کہا کہ سب سے بڑے مسائل پہلے ہی حل کیے جا چکے…
عدالت نے علاج اور پولیس سکیورٹی کا پورا خرچ خود برداشت کرنے کو کہا، طبی…
دہلی کی ایک عدالت نے جمعہ کو 2020 کے دہلی فسادات سے متعلق ایک معاملے…
سونے کی درآمد میں بھاری گراوٹ کے باوجود گھریلو اور عالمی بازار میں تیزی، ملٹی…