قومی

Women’s Reservation Bill in India: خواتین ریزرویشن بل پر اشوک گہلوت کا انتباہ، 1950 اور 1960 کی دہائی میں جنوبی بھارت میں جو تحریکیں چلیں، ایسی صورتحال پھر نہ ہو

نئی دہلی :اشوک گہلوت نے خواتین ریزرویشن بل میں مجوزہ ترمیم کو لے کر مرکزی حکومت کو خبردار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس معاملے کو حساسیت سے نہ لیا گیا تو جنوبی بھارت میں ماضی جیسے حالات پیدا ہو سکتے ہیں۔مرکزی حکومت نے پارلیمنٹ کا تین روزہ خصوصی اجلاس طلب کیا ہے، جس میں ناری شکتی وندن ادھینیم(خواتین ریزرویشن ایکٹ) میں ترمیم کی تیاری کی جا رہی ہے۔ اس ترمیم کے تحت لوک سبھا اور اسمبلیوں میں خواتین کو 33 فیصد ریزرویشن دینے کی بات کی جا رہی ہے۔واضح رہے کہ 2023 میں جب یہ قانون منظور ہوا تھا تو اسے 2027 کی مردم شماری اور حد بندی (ڈیلمیٹیشن) کے بعد نافذ کرنے کی بات کہی گئی تھی، لیکن اب حکومت 2011 کی مردم شماری کو بنیاد بنا کر اس پر عمل درآمد کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔

“جنوبی ریاستوں کے خدشات کو سنجیدگی سے لیا جائے”

اشوک گہلوت نے کہا کہ جنوبی ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ نے جو خدشات ظاہر کیے ہیں، انہیں سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر جنوبی بھارت کے لوگوں کو یہ احساس ہو گیا کہ شمالی ریاستیں ان پر اپنی مرضی مسلط کر رہی ہیں تو صورتحال بگڑ سکتی ہے۔اشوک گہلوت  نے کہا کہ 1950 اور 1960 کی دہائی میں جنوبی بھارت میں جو تحریکیں چلیں، ایسی صورتحال دوبارہ پیدا نہیں ہونی چاہیے۔اشوک گہلوت نے کہا کہ خواتین کو ریزرویشن دینے پر سب متفق ہیں، لیکن حد بندی کا طریقہ کار درست نہیں ہے۔

مردم شماری اور وقت پر سوال

گہلوت نے سوال اٹھایا کہ Census of India 2021 وقت پر کیوں نہیں کرائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اگر 2027 تک مردم شماری مکمل ہو سکتی ہے تو جلد بازی کیوں کی جا رہی ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب تمل ناڈواور مغربی بنگال میں انتخابات جاری ہیں تو ایسے وقت میں پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلانا مناسب نہیں ہے۔

“جلد بازی سے شکوک پیدا ہوتے ہیں”

گہلوت نے کہا کہ ملیکار جن کھرگے نے بھی مطالبہ کیا تھا کہ انتخابات کے بعد پارلیمنٹ کا اجلاس بلایا جائے، مگر اس کے باوجود حکومت جلد بازی کر رہی ہے، جس سے شکوک پیدا ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 2011 کی مردم شماری کو اچانک بنیاد بنانے کا فیصلہ کئی سوالات کھڑا کرتا ہے۔ گہلوت نے دعویٰ کیا کہ تین سال پہلے قانون منظور ہوتے وقت اپوزیشن نے اسے فوراً نافذ کرنے کا مطالبہ کیا تھا، لیکن اس وقت حکومت نے 2021 کی مردم شماری کا حوالہ دیا تھا۔اشوک گہلوت نے کہا کہ اب اچانک 2011 کے اعداد و شمار کو بنیاد بنانا حکومت کی نیت پر سوال کھڑا کرتا ہے اور جمہوری نظام میں اسے مناسب نہیں کہا جا سکتا۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Nitin Navin seeking his own identity in the shadow of Yogi: یوگی کے سائے میں اپنی سیاسی شناخت تلاش کرتے نتن نوین

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی صدر نتن نوین آج گورکھپور پہنچے، جہاں…

8 hours ago

Mumbai Airport Flights: ممبئی سے نوی ممبئی منتقل ہوں گی 14 بین الاقوامی پروازیں، غیر ملکی ایئرلائنز نے ’ڈیسٹنیشن بیسڈ‘ منصوبے کی حمایت کی

ممبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل-1 کی ازسرنو تعمیر کے پیش نظر 14 بین الاقوامی مقامات کے…

9 hours ago

PM Modi Critical Minerals Processing Scheme: اب بھارت میں ہی ہوگا لیتھیم اور نکل کی پروسیسنگ، مودی کابینہ نے 2,814 کروڑ روپے کی اسکیم کو دی منظوری

مرکزی حکومت نے ’اہم معدنیات کی پروسیسنگ کو فروغ دینے کے لیے سرمایہ جاتی اخراجات…

10 hours ago

PM Modi Calls Sharad Pawar Health Update: اسپتال سے ڈسچارج ہوئے شرد پوار، وزیر اعظم مودی نے آرام کرنے کا دیا مشورہ

وزیر اعظم نریندر مودی نے این سی پی (ایس پی) کے سربراہ شرد پوار کو…

11 hours ago