نئی دہلی: آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر اسد الدین اویسی نے مدارس کے خلاف دیے گئے بیانات پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اتر پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ مدارس پر حملے سیاسی مجبوری کا نتیجہ ہیں اور ایسے بیانات آئینی اقدار اور ہندوستان کی تاریخی حقیقت کے منافی ہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں اویسی نے کہا کہ کیشو پرساد موریہ مدارس پر اس لیے حملہ کرتے ہیں کیونکہ ’’ان کی کرسی دراصل ایک اسٹول ہے۔‘‘ انہوں نے کہا ’’جن لوگوں کو انگریزوں سے محبت رہی ہو، وہ مدارس کو کیسے پسند کر سکتے ہیں؟ مدارس انگریزوں کے خلاف سازشوں اور تحریکِ آزادی کے مراکز تھے۔ انہی مدارس نے آزادی کے بے شمار مجاہدین پیدا کیے، جبکہ ساورکر انگریزوں کو رحم کی درخواستیں لکھ رہے تھے۔‘‘
केशव मौर्य सिर्फ़ मदरसों पर हमला कर सकते हैं, क्योंकि उनकी कुर्सी दरअसल एक स्टूल है।
जिन्हें अंग्रेज़ों से मोहब्बत हो, उन्हें मदरसे कैसे पसंद आएँगे? मदरसे अंग्रेज़ों के ख़िलाफ़ साज़िशों और आज़ादी की जद्दोजहद के मरकज़ थे। उन्होंने बेशुमार मुजाहिदीन-ए-आज़ादी पैदा किए, जबकि सावरकर…
— Asaduddin Owaisi (@asadowaisi) August 5, 2026
آزادی کی تحریک میں مدارس کا کردار
اویسی نے مدارس کے تاریخی کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی کئی ممتاز شخصیات نے اپنی ابتدائی تعلیم ایسے ہی اداروں میں حاصل کی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے پہلے صدر ڈاکٹر راجندر پرساد نے ابتدائی تعلیم ایک مکتب میں حاصل کی تھی، جبکہ منشی پریم چند اور راجا رام موہن رائے نے بھی مدارس یا مکتبوں سے تعلیم حاصل کی۔ ان کا کہنا تھا کہ آئینِ ہند کا آرٹیکل 30 ہر اقلیتی برادری کو اپنے تعلیمی ادارے قائم کرنے اور چلانے کا حق دیتا ہے۔ اویسی نے کہا کہ تاریخی طور پر متعدد اسلامی دینی اداروں، خصوصاً دارالعلوم دیوبند اور اس سے وابستہ مدارس نے برطانوی استعمار کے خلاف تحریکِ آزادی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق ان اداروں سے وابستہ علماء نے انگریز حکومت کی مخالفت کی اور خلافت تحریک سمیت مختلف قومی تحریکوں میں سرگرم حصہ لیا۔ انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ ڈاکٹر راجندر پرساد نے اپنی خودنوشت میں لکھا ہے کہ بچپن میں انہوں نے ایک مقامی مکتب میں مولوی صاحب سے فارسی سیکھی تھی۔ اویسی کے مطابق انیسویں صدی کے ہندوستان میں جدید تعلیمی نظام عام نہ ہونے کے باعث مختلف مذاہب کے بچے مقامی مکتبوں اور مدارس میں ابتدائی تعلیم حاصل کرتے تھے۔
بابائے قوم مہاتما گاندھی کے قاتل کا بھی ذکر
اویسی نے دہشت گردی کے معاملے پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ آزاد ہندوستان کا پہلا دہشت گرد ناتھورام گوڈسے کسی مدرسے کا طالب علم نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک بات ہے کہ ایک آئینی عہدے پر فائز شخص اس قسم کی ’’زہریلی زبان‘‘ استعمال کرے۔ اویسی نے مزید کہا ’’جب کرسی نہ ہو تو اسٹول والوں کے پاس اپنی سیاسی اہمیت برقرار رکھنے کے لیے زہر اگلنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا۔‘‘
تنازع کی وجہ کیا ہے؟
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب اتر پردیش کے نائب وزیراعلیٰ کیشو پرساد موریہ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ’’دنیا بھر میں ہونے والی بڑی دہشت گرد کارروائیوں کے پیچھے مدرسہ تعلیم کا کردار رہا ہے۔‘‘ ان کے اس بیان پر مختلف سیاسی حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
ایرانی نیوز چینل پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی ڈرون کو ایران کے…
شمال مشرقی ایران کے شہر مشہد سے یہ طیارہ کرمان شاہ کے لیے روانہ ہوا…
یمن میں حوثی باغیوں نے سعودی حمایت یافتہ فورسز کے خلاف لڑائی کی ایک ویڈیو…
آئی ایم ڈی کے مطابق منگل (15 ستمبر) کو دہلی کے کچھ علاقوں میں بونداباندی…
وزیر اعظم نریندر مودی کے 25 سالہ عوامی خدمت کے سفر کے موقع پر 17…
یورپی کمیشن کی صدر نے سعودی عرب کے خلاف حوثی حملے کی مذمت کرتے ہوئے…