بنگلورو: کرناٹک ہائی کورٹ نے شیواموگا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (SIMS) کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر اشون ہیبار کی ملازمت پر بحالی کا سرکاری حکم منسوخ کرتے ہوئے ریاستی حکومت اور نیشنل میڈیکل کمیشن (NMC) کو ان کے خلاف فوری محکمانہ کارروائی کرنے کی ہدایت دی ہے۔ ڈاکٹر ہیبار پر طالبات کے ساتھ مبینہ جنسی ہراسانی کے متعدد الزامات ہیں۔ جسٹس ڈی کے سنگھ اور جسٹس ٹی ایم ندف پر مشتمل ڈویژن بنچ نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر ہیبار ’’سفید کوٹ میں بھیڑیا‘‘ ہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگر محکمانہ تحقیقات میں الزامات ثابت ہو جائیں تو ان کا میڈیکل لائسنس منسوخ کیا جانا چاہیے۔
تحقیقات مکمل ہونے تک معطلی برقرار رکھنے کا حکم
عدالت نے حکم دیا کہ جنسی ہراسانی جیسے سنگین الزامات کا سامنا کرنے والا شخص دورانِ تفتیش تدریسی خدمات انجام نہیں دے سکتا۔ بنچ نے کہا کہ ڈاکٹر ہیبار کو محکمانہ کارروائی مکمل ہونے اور حتمی فیصلہ آنے تک معطل رکھا جائے۔ ہائی کورٹ نے شیواموگا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ویروپاکشا وی اور محکمہ میڈیکل ایجوکیشن کے پرنسپل سکریٹری محمد محسن کے خلاف بھی محکمانہ کارروائی کی سفارش کی۔ عدالت نے کہا کہ دونوں افسران نے ملزم پروفیسر کو تحفظ فراہم کیا اور متاثرہ طالبات کے وقار، عزت اور انصاف کے تقاضوں کو نظرانداز کیا، جو ایک سرکاری افسر کے شایانِ شان نہیں۔
دو الگ مقدمات درج، دونوں میں گرفتاری ہوئی
عدالتی ریکارڈ کے مطابق ڈاکٹر اشون ہیبار کے خلاف پہلا مقدمہ 12 اگست 2022 کو ایک جونیئر ریزیڈنٹ ڈاکٹر کی شکایت پر درج ہوا تھا، جبکہ دوسرا مقدمہ 19 جون 2025 کو ایک پوسٹ گریجویٹ طالبہ نے درج کرایا۔ دونوں مقدمات میں انہیں گرفتار کیا گیا، تاہم بعد میں عدالت سے ضمانت مل گئی۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ڈاکٹر ہیبار نے اپنی بحالی کے لیے سیاسی شخصیات اور بعض غیر سرکاری تنظیموں کے سفارشی خطوط کا سہارا لیا۔ اسی بنیاد پر نومبر 2025 میں انہیں بحال کرتے ہوئے عارضی طور پر ہاویری انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز منتقل کیا گیا تھا، تاہم ہائی کورٹ نے فروری 2026 میں اس حکم پر روک لگا دی تھی۔
اداروں کی ناکامی پر عدالت کا اظہار تشویش
عدالت نے کہا کہ جب طالبات کے تحفظ کی ذمہ داری رکھنے والے ہی حکام ملزم کا ساتھ دیں تو متاثرین کو انصاف کی امید نہیں رہتی۔ فیصلے میں سنت کبیر داس کے معروف دوہے کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت نے کہا کہ استاد کا مقام سب سے بلند ہوتا ہے، مگر ایسے اساتذہ اپنے طرزِ عمل سے اس عظیم روایت کو مجروح کرتے ہیں۔ عدالت کے مطابق ڈاکٹر اشون ہیبار کا مبینہ رویہ نہ صرف تعلیمی ادارے بلکہ پورے طبی پیشے کے لیے باعث تشویش ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
FRRO کی جانب سے عمران خان کو بھارت چھوڑنے کا نوٹس ملنے کے بعد معاملہ…
الیکشن کمیشن نے کہا کہ ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظرثانی (SIR) سے متعلق تینوں…
پریاگ راج میں منعقدہ عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے آزاد سماج پارٹی (کانشی رام)…
لیفٹیننٹ گورنر ڈاکٹر دنیش شرما نے آئی لینڈ کے ٹورزم فیسٹیول کی تیاریوں کا جائزہ…
امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے والے بھارتی طلبہ یونیورسٹی کے اندر مختلف پارٹ ٹائم نوکریاں…
کانگریس جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے پنجاب کی موجودہ صورت حال سے متعلق عام…