قومی

Arvind Kejriwal Bail News: اروند کیجریوال کو دہلی ہائی کورٹ سے بڑا جھٹکا، عدالت نے راؤز ایوینیو کورٹ کے فیصلے پر روک لگا دی

دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال کو دہلی ہائی کورٹ سے بڑا جھٹکا لگا ہے۔ عدالت نے راؤزایوینیو کورٹ کے فیصلے پر پابندی کو برقرار رکھا ہے اور ان کو ابھی تہاڑ جیل میں ہی رہنا ہوگا۔ اروند کیجریوال کی ضمانت عرضی سے متعلق معاملے پر ہائی کورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہےکہ ان کی ضمانت پر روک جاری رہے گی۔ جسٹس سدھیر کمار جین کی سنگل بینچ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ معاملے میں سن رہی بینچ میں تفصیلی سماعت کی ضرورت ہے۔ اس لئے فی الحال نچلی عدالت کے حکم پر روک جاری رہے گی۔ ای ڈی کی عرضی میں دہلی راؤزایوینیو کورٹ کے حکم کوچیلنج دیا گیا ہے۔

ہائی کورٹ نے ضمانت پر روک برقرار رکھی

ای ڈی کی عرضی پر دہلی ہائی کورٹ نے منگل (25 جون) کو فیصلہ سنایا۔ جج نے کہا، ”ای ڈی نے ہمیں بتایا کہ نچلی عدالت کے جج نے لکھا ہے کہ ان کے پاس سبھی دستاویز دیکھنے کا وقت نہیں ہے۔ جج نے کہا کہ ابھیشیک منو سنگھوی نے انفرادی آزادی کے حقوق کا حوالہ دیا۔ یہ بھی کہا کہ کیجریوال نے عبوری ضمانت پر رہتے ہوئے سبھی شرائط پرعمل کیا، لیکن وہ راحت ایک خصوصی وجہ (انتخابی تشہیر) کے لئے ملی تھی۔ اس دلیل کو یہاں رکھنے کی کوئی بنیاد نہیں۔ جج نے کہا کہ کیجریوال کے وکیل سنگھوی نے کہا کہ کوئی پروسیڈ آف کرائم نہیں ملا۔ یہ دلیل بھی ابھی بے ایمانی ہے۔ معاملے کو سن رہی ہائی کورٹ کی اہم بینچ میں تفصیلی سماعت کی ضرورت ہے۔

کیجریوال کے وکیل نے کیا یہ د عویٰ

اروند کیجریوال کے وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے کہا تھا کہ ضمانت منسوخ نہیں ہونی چاہئے۔ سبھی نکات کو تفصیل سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ پی ایم ایل اے سیکشن 45 میں ضمانت کے لئے دی گئی دوہری شرط پر عمل نہ ہونے کی دلیل کافی مضبوط ہے۔ ہمارا ماننا ہے کہ ہائی کورٹ پہلے ہی گرفتاری کو صحیح ٹھہرانے کا حکم دے چکا ہے۔ ایسے میں نچلی عدالت میں تعطیلاتی جج کو گرفتار کرنے کو غلط ٹھہرانے کا تبصرہ نہیں کرنی چاہئے تھی۔

 نچلی عدالت سے کیجریوال کو ملی تھی ضمانت

سپریم کورٹ کے حکم پر اروند کیجریوال نے نچلی عدالت میں ضمانت عرضی داخل کی تھی۔ اس پر عدالت نے انہیں ضمانت دے دی تھی۔ حالانکہ ای ڈی نے ضمانت کے فیصلے کو دہلی ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ ہائی کورٹ نے پچھلی سماعت پر ضمانت پر روک لگا دی تھی۔ اس روک کے خلاف کیجریوال نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔ حالانکہ سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کا فیصلہ آنے تک انتظار کرنے کے لئے کہا تھا۔ سپریم کورٹ میں اس معاملے کی سماعت اب 26 جون کو ہوگی۔

Nisar Ahmad

Recent Posts

Delhi’s 135-year-old ‘Central Secretariat Library: 135 سال پرانی سنٹرل سیکریٹریٹ لائبریری ہٹانے کی تیاری؟ سپریم کورٹ نے لیا ازخود نوٹس

سنٹرل سیکریٹریٹ لائبریری کی تاریخ 1891 سے جڑی ہوئی ہے۔ اسے ابتدا میں ’امپیریل سیکریٹریٹ…

1 minute ago

Pakistan fast bowler Kainat Imtiaz: پاکستان کی تیز گیند باز کائنات امتیاز کا انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان

کائنات نے گیند کے ساتھ ساتھ بلے سے بھی پاکستان کے لیے اہم کردار ادا…

1 hour ago

Sanjay Dutt: بھارت میں اب پہلے جیسا سکون محسوس نہیں ہوتا، سنجے دت کا بیان وائرل

سنجے دت نے کہا کہ ملک کے لوگ بہت پیارے ہیں اور یہاں امن ہونا…

2 hours ago

Protest Against CEC Gyanesh Kumar: ادھو اور راج ٹھاکرے کی قیادت میں ممبئی میں احتجاجی مارچ، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ

انتخابی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاجی مارچ میں کانگریس، این سی پی…

2 hours ago