کٹھمنڈو: معروف ادیبہ اور بُکر انعام یافتہ اروندھتی رائے نے اتوار کو کٹھمنڈو میں اپنی تازہ تصنیف ’’Mother Mary Comes to Me‘‘ پر نیپالی قارئین کیلئے دستخط کیے۔ یہ تقریب دارالحکومت کٹھمنڈو میں ایکتا بکس کے زیر اہتمام منعقد ہوئی، جہاں بڑی تعداد میں قارئین نے شرکت کی۔
قارئین کی دلچسپی اور نئی کتاب کی پذیرائی
اس موقع پر درجنوں قارئین نے نہ صرف اروندھتی رائے سے ملاقات کی بلکہ تصاویر بنوائیں اور اُن سے کتاب پر دستخط بھی کروائے۔ نئی کتاب کو نیویارک ٹائمز بک ریویو نے سال کی بہترین کتابوں میں شامل کیا ہے، جس کے بعد اس کی مانگ مزید بڑھ گئی ہے۔ انگریزی ادب کی طالبہ پشپا بھنڈاری نے گفتگو میں کہا: ’’اروندھتی رائے کی تحریر روح سے نکلتی ہے۔ ان کی کتاب The God of Small Things نے مجھے ان کی فکر سے متعارف کرایا۔ وہ جذبات کو ان کہے انداز میں بیان کرتی ہیں اور یہی ان کے اسلوب کی وہ خاص بات ہے جو دل میں اتر جاتی ہے۔‘‘ 1997 میں شائع ہونے والی رائے کی پہلی کتاب The God of Small Things کی دنیا بھر میں 60 لاکھ سے زائد کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں اور اسی سال انہیں بُکر پرائز بھی ملا تھا۔
کتاب اور مصنفہ کے اسلوب پر قارئین کے تاثرات
بھنڈاری نے مزید کہا کہ ان کے تحقیقی مقالے کا موضوع بھی رائے کی یہی کتاب تھی، جسے فلم کے طور پر ڈھالنا ممکن نہیں۔ ’’اروندھتی رائے نے خود کہا ہے کہ بعض تحریروں کو بصری صورت میں منتقل کرنا ظلم ہے۔ میں ان کی جسارت، انفرادیت اور اپنے فن پر اختیار کو پسند کرتی ہوں۔‘‘ اروندھتی رائے کی نئی کتاب اُن کی والدہ مریم رائے پر ہے جن کے بارے میں وہ لکھتی ہیں: ’’وہ میرا آسرا بھی تھیں اور میرا طوفان بھی۔‘‘ بیس سال کے وقفے کے بعد رائے کا یہ دوسرا ناول ہے اور پہلی بار انہوں نے اپنی زندگی کو خود نوشت کی صورت میں لکھا ہے۔
ادبی دنیا میں اہم مقام اور فکری اثرات
کٹھمنڈو میں انگریزی ادب کے استاد سشیل پاوڈیل نے کہا: ’’اروندھتی رائے اپنے دور کی سب سے بڑی ادیبہ ہیں۔ وہ صرف متن نہیں بلکہ کئی متنوں کا پس منظر بھی ہیں۔ وہ طاقت اور نظام پر سوال اٹھاتی ہیں، لوگوں کو ان کی جڑوں سے جوڑتی ہیں اور سادہ انداز میں گہری بات لکھتی ہیں۔ وہ نئی نسل کیلئے نمونہ ہیں۔‘‘
سپریم کورٹ نے پابندی کی درخواست مسترد کر دی
کتاب کی اشاعت کے بعد ملک میں اس کے سرورق پر مصنفہ کی سگریٹ پیتے ہوئے تصویر کو لے کر قانونی تنازع کھڑا ہوا تھا۔ تاہم جمعہ کو سپریم کورٹ آف انڈیا نے پابندی کی درخواست مسترد کر دی۔ چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیہ بگچی نے اپنے فیصلے میں کہا: ’’یہ تصویر سگریٹ نوشی کی تشہیر کیلئے نہیں ہے۔ کتاب، تصویر یا مصنفہ کا تمباکو مصنوعات کی ترویج سے کوئی تعلق نہیں۔‘‘ عدالت نے کہا کہ تصویر سی اے ٹی پی اے ایکٹ 2003 کی خلاف ورزی نہیں کرتی اور اس ضمن میں کیرالہ ہائی کورٹ کے فیصلے میں مداخلت کی کوئی بنیاد نہیں ملتی۔ درخواست گزار نے دلیل دی تھی کہ تصویر کے ساتھ صحت سے متعلق انتباہ مناسب نہیں، تاہم عدالت نے کہا کہ کتاب کسی تجارتی اشتہار کا حصہ نہیں بلکہ صرف قارئین کے لئے شائع کی گئی ہے۔ سپریم کورٹ نے دلائل سننے کے بعد درخواست مسترد کر دی اور یوں کتاب کی اشاعت اور فروخت پر کوئی پابندی نہیں رہی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
دہلی کے شالی مار باغ میں مسجد اور اس کے آس پاس کی مبینہ غیر…
قومی آیوروید دن کے موقع پر مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ نے ملک…
مرکزی حکومت کی اہم اور دنیا کی سب سے بڑی صحت بیمہ اسکیم ’آیوشمان بھارت‘…
وزیراعظم مودی نے اپنے پیغام میں قومی شاعر کی عظیم شخصیت کو یاد کرتے ہوئے…
جسٹس دتا نے کہا کہ اگرچہ دونوں ججوں کا نتیجہ مختلف ہے، لیکن ان کا…
سگریٹ کی قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ رواں سال نافذ کیا گیا نیا…