آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا سرما۔ (فائل فوٹو)
اپوزیشن کے سخت اعتراضات اور سماجی کارکنا کے خدشات کے درمیان آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنتا بسوا سرما نے جمعرات کے روز ریاست میں اسلحہ لائسنس خدمات کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔ انھوں نے اس کا آغاز کرتے ہوئے واضح کیا کہ حکومت صرف اور صرف لائسنس جاری کرے گی، اسلحہ فراہم نہیں کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام ریاست کے حساس اور سرحدی علاقوں میں بسنے والے مقامی اور قبائلی افراد کو تحفظ کا احساس دلانے اور خود کے دفاع کے لیے بااختیار بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ یہ نئی سہولت ’’سیوا سیتو‘‘ پورٹل پر دستیاب ہوگی، جہاں سے اہل افراد آن لائن درخواست دے سکیں گے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان علاقوں میں گزشتہ برسوں کے دوران آبادیاتی تبدیلیوں، نسلی کشیدگی اور دیگر خطرات کے سبب مقامی باشندوں میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوا ہے۔ حکومت کا مقصد ہے کہ وہ ان شہریوں کو قانونی طور پر اسلحہ رکھنے کا حق دے کر انھیں خود کا دفاع کرنے کا اختیار دے، تاکہ وہ کسی بھی ناخوشگوار صورت حال میں اپنی حفاظت کر سکیں۔
لائسنس یافتہ افراد کی باقاعدہ نگرانی کی جائے گی: ہیمنتا بسوا سرما
اس پیش رفت کے حوالے سے اپوزیشن کے خدشات دور کرنے کی کوشش کرتے ہوئے سی ایم بسوا سرما نے وضاحت کی کہ لائسنس کے اجرا کے لیے سخت شرائط رکھی گئی ہیں۔ درخواست دہندہ کا آسام کا مقامی اور دیسی باشندہ ہونا لازمی ہے اور وہ کسی ایسے علاقے میں مقیم ہو جہاں خطرات درپیش ہوں۔ ساتھ ہی ہر درخواست گزار کی مکمل سکیورٹی جانچ، پس منظر کی تصدیق اور قوانین کی مکمل پابندی کو یقینی بنایا جائے گا۔ اس کے علاوہ لائسنس کسی اور کو منتقل نہیں کیا جا سکے گا اور لائسنس یافتہ افراد کی باقاعدہ نگرانی بھی کی جائے گی تاکہ اس کا غلط استعمال نہ ہو۔
بھارت ایکسپریس اردو
انڈیا اتحاد کے ارکان پارلیمنٹ نے پارلیمنٹ کے مکر دوار سے مارچ شروع کیا تھا۔…
احتجاج کے دوران انڈیا اتحاد کے لیڈران نے الیکشن کمیشن پر ووٹر لسٹ میں گڑبڑی…
دہلی پولیس نے حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ شیئر کی، جس کے…
عام آدمی پارٹی، ڈی ایم کے اور بی جے ڈی کے انڈیا بلاک کی جانب…
پارلیمنٹ میں وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا تھا کہ اپوزیشن کے کچھ رہنما دعویٰ…
محکمہ موسمیات نے بتایا کہ 4200 میٹر اور اس سے زیادہ بلندی والے علاقوں میں…