قومی

Oversleeping Side Effects: کہیں آپ ضرورت سے زیادہ تو نہیں سو رہے؟ ماہرین کی وارننگ

کیا آپ حد سے زیادہ نیند لے رہے ہیں اور آپ کو اس کا احساس بھی نہیں؟ عام طور پر بالغ افراد کے لیے 7 سے 9 گھنٹے کی نیند کی سفارش کی جاتی رہی ہے، لیکن نئی تحقیق ایک مختلف تصویر پیش کر رہی ہے۔ اب ماہرین کا ماننا ہے کہ زیادہ تر بالغ افراد کے لیے مسلسل 7 گھنٹے کی نیند نہ صرف صبح تروتازہ اٹھنے کے لیے بلکہ طویل مدت تک جسمانی اور ذہنی صحت برقرار رکھنے کے لیے بھی سب سے بہتر ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ کتنی نیند نقصان دہ ہو سکتی ہے۔

آخر 7 گھنٹے کی نیند ہی کیوں بہترین ہے؟

جریدے نیچر ایجنگ میں شائع ایک بڑی تحقیق میں 38 سے 73 سال کی عمر کے قریب 5 لاکھ افراد کی نیند کا تجزیہ کیا گیا۔ اس تحقیق میں سامنے آیا کہ جو لوگ باقاعدگی سے 7 گھنٹے سوتے تھے، ان کی یادداشت، فیصلہ لینے کی صلاحیت اور سوچنے سمجھنے کی طاقت بہتر تھی۔ ان کا موڈ بھی زیادہ متوازن رہتا تھا اور ذہنی مسائل کم دیکھے گئے۔ تحقیق میں یہ بھی پایا گیا کہ بہت کم یا بہت زیادہ نیند لینے والوں میں اینگزائٹی، ڈپریشن اور ذہنی صلاحیت میں کمی کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔اسی طرح جرنل آف کلینیکل سلیپ میڈیسن بھی 18 سے 60 سال کے بالغ افراد کو روزانہ کم از کم 7 گھنٹے سونے کا مشورہ دیتا ہے۔ اس سے کم نیند لینے پر دل کی بیماری، موٹاپا، ٹائپ-2 ذیابیطس، کمزور مدافعتی نظام اور ڈپریشن جیسے مسائل کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔

کیا 9 گھنٹے سونا زیادہ ہے؟

بیماری یا شدید تھکن کے بعد زیادہ سونا نقصان دہ نہیں ہوتا، لیکن اگر آپ کو روزانہ 9 گھنٹے یا اس سے زیادہ نیند کی ضرورت پڑ رہی ہے تو یہ کسی اندرونی مسئلے کی علامت ہو سکتی ہے۔ کچھ تحقیقات کے مطابق، طویل عرصے تک ضرورت سے زیادہ سونے والوں میں جسمانی سوزش، سوچنے کی رفتار میں کمی اور ڈپریشن کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جو لوگ عادتاً 9 گھنٹے سے زیادہ سوتے ہیں، ان میں طویل مدت میں موت کا خطرہ معمولی حد تک زیادہ پایا گیا ہے۔ اگر آپ 9 گھنٹے سونے کے بعد بھی تھکن محسوس کرتے ہیں تو اس کی وجہ نیند کا ناقص معیار یا کوئی چھپی ہوئی بیماری ہو سکتی ہے۔

کم نیند لینے والوں کو کیا نقصان ہوتا ہے؟

جو لوگ روزانہ صرف 5 سے 6 گھنٹے سوتے ہیں، ان پر اس کے منفی اثرات آہستہ آہستہ ظاہر ہوتے ہیں۔ کم نیند سے یادداشت کمزور ہوتی ہے، توجہ مرکوز کرنے میں مشکل پیش آتی ہے، موڈ میں اتار چڑھاؤ آتا ہے اور مدافعتی نظام کمزور پڑ جاتا ہے۔ طویل عرصے تک نیند کی کمی رہنے سے میٹابولک بیماریاں، دل کے مسائل اور موٹاپے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔کئی لوگ ویک اینڈ پر زیادہ سو کر نیند پوری کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن تحقیق بتاتی ہے کہ بے قاعدہ نیند بھی نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ اگر روز سونے اور جاگنے کا وقت بدلتا رہے تو جسم کی اندرونی گھڑی، یعنی سرکیڈین ردھم، متاثر ہو جاتی ہے۔ اس سے جگر، دل کی بیماریوں کے ساتھ ساتھ فالج اور دل کے دورے کا خطرہ بھی تقریباً 26 فیصد تک بڑھ سکتا ہے۔

نیند میں سب سے ضروری ہے باقاعدگی

ماہرین کا کہنا ہے کہ نیند کی مقدار جتنی اہم ہے، اتنی ہی اہم اس کی باقاعدگی بھی ہے۔ روز ایک ہی وقت پر سونا اور جاگنا جسم کو متوازن رکھتا ہے، جس سے موڈ، مدافعتی نظام اور مجموعی صحت بہتر رہتی ہے۔ اگرچہ 7 سے 9 گھنٹے کی نیند دونوں درست مانی جاتی ہیں، لیکن موجودہ شواہد کے مطابق مسلسل، بغیر رکاوٹ 7 گھنٹے کی معیاری نیند دماغی تیزی اور طویل عمر کے لیے سب سے زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

PM Modi Boosts Morale of Para-Athletes: وزیراعظم مودی نے پیرا ایتھلیٹس کا حوصلہ بڑھایا، کہا-عزم ہو تو کوئی بھی ہدف ناممکن نہیں

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ عالمی کھیلوں کے میدان میں ہندوستان کی شناخت مسلسل…

7 hours ago

PM Modi to visit Vaishali: بہار میں این ڈی اے حکومت کا ایک سال مکمل، 21 نومبر کو وزیر اعظم مودی کا ویشالی دورہ ممکن، بڑے جشن کی تیاریاں

وزیر اعظم کے مجوزہ بہار دورے اور پروگرام کی تیاریوں کے سلسلے میں جمعرات کو…

7 hours ago

Nepal’s Prime Minister Balen Shah Praises PM Modi: نیپال کے وزیر اعظم بالیندر شاہ نے پی ایم مودی کی ستائش کی، بھارت کے تعاون پر ادا کیا شکریہ

نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو میں جمعرات کے روز بھارت کے خارجہ سکریٹری وکرم مسری نے…

8 hours ago