قومی

Jauhar University Controversy: جوہر یونیورسٹی کے معاملے پر سیاسی ہنگامہ، اے آئی ایم آئی ایم نے اکھلیش یادو کی خاموشی پر اٹھائے سوال، لگا دیا بڑا الزام

لکھنؤ: رام پور ضلع انتظامیہ کی جانب سے مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو جاری کیے گئے انہدامی نوٹس پر آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ پارٹی نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت کے ساتھ ساتھ سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو پر بھی اقلیتی تعلیمی ادارے کو منہدم کرنے کے لیے ملی بھگت کا الزام عائد کیا ہے۔

AIMIMکا BJP اور SP پر الزام

اے آئی ایم آئی ایم کے ترجمان شاداب چوہان نے کہا کہ سماج وادی پارٹی کی حکومت نے یونیورسٹی کی تعمیر کے دوران ایک ایسی خامی چھوڑ دی تھی، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے موجودہ بی جے پی حکومت اب اسے گرانے پر تلی ہوئی ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ یہ سب اکھلیش یادو کی مکمل رضامندی سے ہو رہا ہے۔

انہوں نے اکھلیش یادو پر الزام لگایا کہ وہ بی جے پی حکومت کے ساتھ ملی بھگت رکھتے ہیں اور اقلیتی برادری سے متعلق اہم مسائل پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق سماج وادی پارٹی نے کبھی بھی اقلیتوں اور ان کے حقوق کے لیے مؤثر آواز نہیں اٹھائی، بلکہ مسلمانوں کو صرف ووٹ بینک کے طور پر استعمال کیا۔

اکھلیش کی غیر موجودگی میں کارروائی

شاداب چوہان نے دعویٰ کیا کہ جوہر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی جان بوجھ کر اس وقت کی جا رہی ہے جب اکھلیش یادو بیرون ملک ہیں، تاکہ انہیں اس معاملے میں بری الذمہ دکھایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ سماج وادی پارٹی کے پاس اسمبلی میں تقریباً 100 اراکین ہیں، لیکن اس کے باوجود وہ اس معاملے پر کوئی احتجاجی تحریک نہیں چلائے گی، کیونکہ یہ کارروائی طور پر دونوں جماعتوں کی ملی بھگت سے ہو رہی ہے۔

اقلیتوں کے مسائل پر خاموشی کا الزام

اے آئی ایم آئی ایم کے ترجمان نے کہا کہ ریاست میں جب بھی اقلیتوں کے خلاف زیادتی، فرضی انکاؤنٹر، موب لنچنگ یا بلڈوزر کارروائیاں ہوتی ہیں، سماج وادی پارٹی نہ تو مؤثر احتجاج کرتی ہے اور نہ ہی متاثرین کے حق میں مضبوط آواز اٹھاتی ہے، حالانکہ اس کے پاس بڑی تعداد میں اراکین پارلیمنٹ اور اراکین اسمبلی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سماج وادی پارٹی کے لیے مسلمان صرف ایک ووٹ بینک ہیں۔

جوہر یونیورسٹی کو انہدامی نوٹس پر تنازع

واضح رہے کہ بدھ کے روز رام پور ضلع انتظامیہ نے اعظم خان کی قائم کردہ مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کی 40 عمارتوں میں سے 38 کو منظور شدہ نقشوں کے بغیر تعمیر شدہ قرار دیتے ہوئے انہیں منہدم کرنے کا نوٹس جاری کیا، جس کے بعد یہ معاملہ مزید گرما گیا۔ شاداب چوہان نے کہا کہ یونیورسٹی کی عمارتوں کو گرانے کا نوٹس اقلیتی برادری پر ایک بڑا حملہ ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ تعمیر کے وقت ذمہ دار افسران اور متعلقہ حکام کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی جا رہی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جن افسران کی نگرانی میں یہ عمارتیں تعمیر ہوئیں، ان کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے۔

اے آئی ایم آئی ایم کے ترجمان نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی حکومت، اکھلیش یادو کی ملی بھگت سے جوہر یونیورسٹی کو ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ جب حکومت نئے تعلیمی ادارے قائم کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی تو پھر موجودہ اقلیتی تعلیمی اداروں کو مسمار کرنے کا مقصد کیا ہے؟ انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ کیا یہ اقدام حکومت کے ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘ کے دعوے سے مطابقت رکھتا ہے؟

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

Union Home Amit Shah: سی ایم دھامی کی سالگرہ پر امت شاہ کا خصوصی پیغام، اتراکھنڈ کی ترقی اور ثقافت کی تعریف

مرکزی وزیرامت شاہ کی جانب سے وزیر اعلیٰ دھامی کو سالگرہ کی مبارکباد سوشل میڈیا…

5 minutes ago