ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (APCR) نے آج بروز منگل نئی دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب آف انڈیا میں ایک ہنگامی عوامی ٹریبونل کا انعقاد کیا، جس میں سابق ججز، اعلیٰ سرکاری افسران، محققین اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے آسام میں بنگالی مسلم کمیونٹی کے خلاف ہو رہے ظلم و ستم پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
اس ٹریبونل میں جسٹس اقبال انصاری، شری گوپال کے پِلّی، وجاہت حبیب اللہ، جاوید حامد، پروفیسر اپوروانند، ہرش مندر، پرشانت بھوشن، فواز شاہین اور سیدہ حامد جیسے نمایاں نام شامل ہوئے۔ مقررین نے انکشاف کیا کہ کس طرح آسام میں ریاستی سرپرستی میں مسلمانوں کو غیر ملکی قرار دے کر گھروں سے بے دخل کیا جا رہا ہے اور حراستی مراکز میں اذیت ناک زندگی گزارنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔
شرکا نے اٹھائے سنگین سوالات
پروفیسر اپوروانند نے اس عوامی ٹربیونل میں شرکت کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ’’ہم ہندوستانی ہونے کے ناطے آسام کے لوگوں کے کیا مقروض ہیں؟ سرکار ان کے گھر توڑ رہی ہے، ووٹ کا حق چھین رہی ہے اور انھیں باہر کا بتا رہی ہے۔‘‘ وہیں آسام کے سماجی کارکن عبدالصمد نے کہا کہ ’’ہمارے آبا و اجداد نے 150 سال پہلے یہ خطہ آباد کیا، لیکن آج ہمیں ’میاں‘ کہہ کر ختم کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔‘‘ انسانی حقوق کے کارکن ہرش مندر نے آسام کے حراستی مراکز کو ’’براہِ راست فسطائیت‘‘ قرار دیا۔ ان کے مطابق لوگوں کو معمولی غلطیوں، حتیٰ کہ کاغذات میں ہجے کی کمی بیشی پر بھی غیر ملکی قرار دے کر جیلوں میں ڈال دیا جا رہا ہے، جہاں عورتیں برسوں سے سورج کی روشنی نہیں دیکھ پاتیں۔
وہیں پرشانت بھوشن نے کہا کہ ’’یہ صرف آئینی خلاف ورزی نہیں بلکہ زمینوں پر قبضہ کرنے کی منظم سازش ہے۔ مسلمانوں کی زمینیں عدالتی عمل کے بغیر چھینی جا رہی ہیں اور بڑی کمپنیوں جیسے اڈانی اور پتنجلے کے حوالے کی جا رہی ہیں۔‘‘ وجاہت حبیب اللہ نے خبردار کیا کہ اگر آسام میں مساوی شہری حقوق خطرے میں ہیں تو یہ پورے ملک کے لیے خطرہ ہے۔ جسٹس اقبال انصاری نے کہا کہ ’’ہمیں شرم آنی چاہیے کہ آسام کا وزیر اعلیٰ آئین کے پرخچے اڑا رہا ہے۔ اگر آج ہم خاموش رہے تو کل یہ پورے ملک میں ہوگا۔‘‘
ٹربیونل نے آسام کے مظلوموں کی آواز بلند کرنے کا کیا عہد
اس موقع پر سیدہ حامد نے کہا کہ ’’اگر کچھ غیر دستاویزی مہاجر ہیں تو ان کے لیے انسانی اور قانونی طریقے موجود ہیں۔ لیکن آج جو ظلم ہو رہا ہے وہ خون جما دینے والا ہے۔ لفظ ’میاں‘ کو گالی بنا دیا گیا ہے۔ ہمیں امید نہیں کھونی چاہیے اور آسام کے لوگوں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔‘‘ اس کے ساتھ ہی ٹریبونل کے اختتام پر یہ عہد کیا گیا کہ آسام کے مظلوم اور بے گھر عوام کی آواز کو بلند کیا جائے گا اور یاد دلایا جائے گا کہ ان کے شہری حقوق آئین ہند کی ضمانت ہیں، چاہے حکومت اس سے لاکھ انکار کرے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بینک یونینوں کے اعلان کے مطابق 28، 29 اور 30 ستمبر کو بینک ملازمین ملک…
نوئیڈا میں ایپل اسٹور کے باہر ایک شخص نے دعویٰ کیا کہ اس نے بیوی…
ایس پی وشواجیت دیال کو مںجھوے ریت گھاٹ پر غیر قانونی کان کنی اور ریت…
دو بار کی اولمپک تمغہ جیتنے والی پی وی سندھو نے کمیلا سماگولووا کو یکطرفہ…
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ 48000 کروڑ روپے کی لاگت والا یہ منصوبہ آسام میں…
سپر ال نینو الرٹ: 180 سے زائد سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ شدید…