قومی

Anti-India poets will no longer be taught: اب نہیں پڑھائے جائیں گے بھارت مخالف شاعر، دہلی یونیورسٹی کا ہند مخالف نصاب باہر نکالنے کا فیصلہ، اقبال کو پہلے ہی ہٹایا جاچکا ہے

دہلی یونیورسٹی میں اب وہ مواد یا متن نہیں پڑھایا جائے گا جو ملک کے مفاد کے خلاف ہو۔ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر یوگیش سنگھ نے منگل کو ایک بیان دیتے ہوئے کہا کہ تمام شعبہ جات کے سربراہان سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے اپنے کورسز کا جائزہ لیں اور ان میں سے پاکستان کے کسی مصنف، شاعر یا دیگر شخصیات کی “غیر ضروری تعریف”  والے متون کو حذف کریں۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ تاریخ میں پاکستان کا تذکرہ ضروری ہے، لیکن اس کے مخالف نظریات کو فروغ نہیں دیا جا سکتا۔

غیر ضروری تعریف قابل قبول نہیں

وائس چانسلر یوگیش سنگھ نے کہا: “پاکستان ایک حقیقت ہے اور جب ہم تقسیم یا اپنی تاریخ کی بات کرتے ہیں تو اس کا ذکر ناگزیر ہے، لیکن ایسے شاعر یا مصنف جو بھارت مخالف خیالات رکھتے ہیں، انہیں نصاب میں پڑھانے کی ضرورت نہیں۔ غیر ضروری تعریف کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہے۔”

محمد اقبال کی جگہ سردار پٹیل

یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب حال ہی میں دہلی یونیورسٹی کی اکیڈمک اسٹینڈنگ کمیٹی نے تاریخ کے آٹھویں سیمسٹر کے نصاب سے معروف شاعر محمد اقبال کا نام نکالنے اور اس کی جگہ سردار ولبھ بھائی پٹیل کو شامل کرنے کی سفارش کی تھی۔ یہ تبدیلی اکیڈمک کونسل اور پھر ایگزیکٹو کونسل سے بھی منظور ہو چکی ہے۔

وائس چانسلر نے بتایا کہ اگر دیگر شعبے بھی اس قسم کی تبدیلیوں کی سفارش کرتے ہیں تو ان پر آئندہ اکیڈمک کونسل کی میٹنگ میں غور کیا جائے گا۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ یہ ایک طویل اور چیلنج بھرا عمل ہے جس میں وقت لگے گا۔

آپریشن سندور کو بھی نصاب میں جگہ مل سکتی ہے

اسی دوران یونیورسٹی انتظامیہ “آپریشن سندور” کو بھی نصاب میں شامل کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ اگرچہ اس سلسلے میں مشاورت جاری ہے، لیکن اس اقدام پر تنقید بھی شروع ہو چکی ہے۔

روزنامہ ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، کروڑی مل کالج کے انگلش ڈیپارٹمنٹ کے ایسوسی ایٹ پروفیسر رودراشیش چکرورتی کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی کا کام طلبا کو ہر موضوع پر غیر جانب دار، متوازن اور تنقیدی سوچ سکھانا ہے۔ یہاں ہر زاویے کو سمجھنا اور اس کا تجزیہ کرنا سکھایا جانا چاہیے۔

وہیں، راجدھانی کالج کے پروفیسر راجیش جھا نے بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہر شعبے میں متعلقہ مضمون کے ماہرین موجود ہوتے ہیں جو سلیبس تیار کرتے ہیں، اس لیے انہیں مکمل خودمختاری ملنی چاہیے تاکہ طلبا کسی بھی موضوع کی گہرائی تک پہنچ سکیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

LK Advani admitted to Apollo Hospital: لال کرشن اڈوانی اسپتال میں داخل، سینے میں انفیکشن کی شکایت، اپولو اسپتال میں علاج جاری

بھارت کے سابق نائب وزیراعظم لال کرشن اڈوانی کو جمعہ کے روز اسپتال میں داخل…

5 hours ago

SC Allows PFI Chief Abubaker Treatment: پی ایف آئی کے سربراہ ابو بکر کو میکس اسپتال میں علاج کی اجازت، سپریم کورٹ کی ہدایت

عدالت نے علاج اور پولیس سکیورٹی کا پورا خرچ خود برداشت کرنے کو کہا، طبی…

6 hours ago

Gold-Sivler Price: سونے اور چاندی کی چمک پھر لوٹ آئی! بازار کھلتے ہی قیمتوں میں زبردست اچھال، جانیے تازہ قیمتیں

سونے کی درآمد میں بھاری گراوٹ کے باوجود گھریلو اور عالمی بازار میں تیزی، ملٹی…

6 hours ago