بھارت میں منعقدہ انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ کے دوران جہاں امریکی مصنوعی ذہانت کمپنی Anthropic کے سی ای او Dario Amodei نے بھارت کو عالمی ٹیکنالوجی منظرنامے کی بنیاد قرار دیا، وہیں بھارتی اسٹارٹ اپ ’این تھروپک سافٹ ویئر‘ کے بانی محمد ایاز ملا نے اپنے برانڈ کے تحفظ کے لیے حکومت سے مدد کی اپیل کی ہے۔ محمد ایاز ملا کا کہنا ہے کہ امریکی کمپنی کی جانب سے مبینہ ٹریڈ مارک خلاف ورزی کے باعث ان کی کمپنی کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ انہوں نے نیوز ایجنسی آئی اے این ایس کو بتایا کہ انہوں نے سال 2017 میں مرکزی وزارتِ کارپوریٹ امور کے تحت ’این تھروپک سافٹ ویئر‘ کو رجسٹر کرایا تھا اور اسی سال ’اسٹارٹ اپ انڈیا‘ اور ’اسٹارٹ اپ کرناٹک‘ پروگراموں میں بھی اپنی کمپنی کا اندراج کروایا تھا۔انہوں نے بتایا کہ ان کی کمپنی کو ایک پیٹنٹ شدہ تعلیمی ٹیکنالوجی پروڈکٹ کے لیے سرکاری فنڈنگ بھی حاصل ہوئی، 2018 میں پیٹنٹ منظور ہوا ،جب کہ 2021 میں سرکاری آرڈر بھی ملا۔ کمپنی دیہی علاقوں کے طلبہ کو مسابقتی امتحانات کی تیاری کرا کے انہیں مرکزی دھارے میں لانے کے لیے ایجوکیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں سرگرم عمل ہے۔
کرناٹک عدالت میں مقدمہ زیر سماعت، اگلی سماعت 9 مارچ کو مقرر
رواں ہفتے کرناٹک کے شہر بیلگاوی کی ایک کمرشل عدالت نے امریکی کمپنی کو ٹریڈ مارک خلاف ورزی کے مقدمے میں نیا سمن جاری کیا۔ یہ حکم پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج منجوناتھ نائک نے اس وقت جاری کیا جب کمپنی کے نمائندے 16 فروری کو جاری سابقہ سمن کے باوجود عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔ بیلگاوی میں قائم اینتھروپک سافٹ ویئر نے عدالت سے عبوری حکم امتناع کی درخواست کی ہے تاکہ امریکی کمپنی کو ’این تھروپک‘ یا اس سے مشابہ نام استعمال کرنے اور کسی بھی قسم کی وابستگی ظاہر کرنے سے روکا جا سکے۔
محمد ایاز ملا کے مطابق گزشتہ سال 25 اگست کو انہیں براہ راست نہیں بلکہ اپنے کلاؤڈ سروس فراہم کنندہ کے ذریعے قانونی نوٹس موصول ہوا تھا، جس میں کمپنی کو فوری طور پر اینتھروپک نام استعمال بند کرنے کا کہا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ کمپنی نے جواب میں واضح کیا کہ وہ قانونی طور پر رجسٹرڈ ادارہ ہیں اور تمام ضابطوں پر عمل کیا گیا ہے۔ تقریباً ایک ماہ تک مذاکرات جاری رہے جس کے بعد دوسری جانب سے کوئی جواب نہیں آیا۔
بعد ازاں امریکی کمپنی نے دسمبر میں بھارت میں اپنے کاروبار کے آغاز کا اعلان کیا اور جنوری میں بھارتی مارکیٹ کے لیے آئرینا گھوش کو منیجنگ ڈائریکٹر مقرر کیا۔ حال ہی میں کمپنی نے بنگلورو میں اپنا دفتر قائم کرنے کا بھی اعلان کیا ہے، جو ٹوکیو کے بعد ایشیا میں اس کا دوسرا دفتر ہے۔ محمد ایاز ملا کا کہنا ہے کہ نام کی مماثلت کے باعث یوزر میں شدید ابہام پیدا ہو گیا ہے، جس سے ان کی ویب سائٹ کا ٹریفک دوسری کمپنی کی جانب منتقل ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق 500 سے زائد تعلیمی ادارے ان کے کلائنٹس ہیں جبکہ طلبہ اور والدین ان کی ایپس استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم کو مضبوط بنانا چاہتی ہے تو مقامی کمپنیوں کے حقوق کا تحفظ ضروری ہے۔ انہوں نے عدلیہ اور حکومت دونوں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ انصاف ضرور ملے گا۔ مقدمے کی اگلی سماعت 9 مارچ کو ہوگی۔
بھارت ایکسپریس اردو
شنکراچاریہ سوامی اویمکتیشورانند سرسوتی نے نوجوانوں کے احتجاج کا موازنہ تاریخی جے پرکاش نارائن (جے…
دہلی حکومت نے موسمِ سرما میں فضائی آلودگی سے نمٹنے کے لیے ایکشن پلان تیار…
مختلف بائیں بازو کی جماعتوں اور عوامی تنظیموں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے…
46ویں FIDE Chess Olympiad میں بھارت نے اوپن زمرے میں سلور اور خواتین کے زمرے…
وزیر اعظم نریندر مودی نے ’من کی بات‘ میں ملک کے عوام سے مردم شماری…
ایشین گیمز 2026 میں ہندوستانی شوٹر ایشا سنگھ نے خواتین کی 25 میٹر پسٹل انفرادی…