قومی

Anil Ambani in trouble: انل امبانی مشکل میں، ای ڈی نے تفتیش کا دائرہ وسیع کیا، بینکوں سے قرض کی مکمل تفصیلات طلب

نئی دہلی: ریلائنس گروپ کے چیئرمین انل امبانی ایک بار پھر مرکزی تحقیقاتی اداروں کے نشانے پر آ گئے ہیں۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے نہ صرف انہیں منی لانڈرنگ کے ایک اہم معاملے میں5اگست کو طلب کیا ہے، بلکہ اب ان کے گروپ کی تین اہم کمپنیوں ریلائنس ہاؤسنگ فائنانس، ریلائنس کمیونکیشنز اور ریلائنس کمرشیل فائنانس کو دیے گئے بینک قرضوں کی مکمل تفصیلات بھی درجنوں بینکوں سے طلب کر لی گئی ہیں۔ اس تازہ قدم سے ان کی قانونی مشکلات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

درجنوں بینکوں کو ای ڈی کے نوٹس

ای ڈی نے کم از کم 13 سرکاری و نجی بینکوں کو خط لکھ کر ان کمپنیوں کو دیے گئے قرضوں کی مکمل تفصیلات مانگی ہیں۔ ان بینکوں میں اسٹیٹ بینک آف انڈیا (SBI)، ایکسس بینک، ICICI، HDFC، یوکو بینک اور پنجاب اینڈ سندھ بینک جیسے بڑے نام شامل ہیں۔ ای ڈی ان قرضوں کے منظور ہونے، جاری ہونے اور بعد میں این پی اے (ناقابل وصول قرض) بننے کے عمل پر بھی روشنی چاہتی ہے۔

بینک افسران بھی تفتیش کے دائرے میں

رپورٹوں کے مطابق ای ڈی ان بینک افسران کو بھی پوچھ گچھ کے لیے بلا سکتی ہے جنہوں نے ان قرضوں کی منظوری دی۔ ایجنسی نے قرض کی منظوری کے عمل، ضوابط کی پاسداری اور بعد ازاں قرض کی وصولی کے لیے کی گئی کارروائی کے ریکارڈ کی بھی تفصیلات طلب کی ہیں۔

قرض دھوکہ دہی معاملے میں پہلی گرفتاری

ای ڈی نے گزشتہ ہفتے اس معاملے میں پہلی گرفتاری کی، جس میں بسوال ٹریڈ لنک پرائیویٹ لمیٹیڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر پارتھ سارتھی بسوال کو گرفتار کیا گیا۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے 68.2 کروڑ روپے کی فرضی بینک گارنٹی جمع کی جو مبینہ طور پر ریلائنس پاور کی طرف سے تھی۔

یس بینک اور قرض کا مشکوک لین دین

ای ڈی کی تفتیش کا ایک اہم پہلو یس بینک کے ذریعے 2017 سے 2019 کے درمیان ریلائنس گروپ کی کمپنیوں کو دیے گئے 3000 کروڑ روپے کے قرض پر مرکوز ہے۔ ایجنسی کے مطابق، بینک کی طرف سے قرض منظور ہونے سے قبل کچھ مشتبہ ادائیگیاں ہوئی تھیں، جو ممکنہ لین دین کے غیر شفاف سلسلے کی نشاندہی کرتی ہیں۔

چھاپے اور لک آؤٹ نوٹس

ای ڈی نے گزشتہ مہینے اس کیس سے جڑی 50 سے زائد کمپنیوں پر چھاپے مارے تھے اور انل امبانی کے خلاف لُک آؤٹ سرکلر بھی جاری کر دیا گیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ ملک چھوڑنے کی کوشش نہیں کر سکتے۔ یہ معاملہ نہ صرف ملک کی مالیاتی سالمیت پر سوال کھڑے کرتا ہے بلکہ کارپوریٹ شفافیت اور بینکنگ ضوابط کی خلاف ورزی پر بھی گہری تشویش پیدا کرتا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس کیس کی پیش رفت پر سب کی نظریں جمی ہوں گی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Mecca Drone Attack: مکہ کی فضائی حدود میں داخل ہوا حوثی ڈرون، باغیوں نے مکہ پر حملے سے کیا انکار

یمن میں حوثی باغیوں نے سعودی حمایت یافتہ فورسز کے خلاف لڑائی کی ایک ویڈیو…

54 minutes ago

Delhi Weather Today: دہلی-این سی آر میں آج بونداباندی کے امکانات، جانئے محکمہ موسمیات کا تازہ اپ ڈیٹ

آئی ایم ڈی کے مطابق منگل (15 ستمبر) کو دہلی کے کچھ علاقوں میں بونداباندی…

2 hours ago

India v Afghanistan Second T20: دوسرا ٹی20، سنجو-ابھیشیک کی 88 رن کی طوفانی شراکت، بھارت نے افغانستان کو 7 وکٹ سے دی شکست

سیریز کا آخری مقابلہ 17 ستمبر کو اسی میدان پر کھیلا جائے گا۔ ٹاس ہار…

11 hours ago