قومی

Aligarh Muslim University: آٹھ سال بعد اے ایم یو طلبہ یونین کے انتخابات کا اعلان، وعدوں پر عمل اور یونیورسٹی کے مستقبل کا سوال

تحریر: خالد مصطفیٰ (علیگ)

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) میں طویل انتظار کے بعد طلبہ یونین کے انتخابات کا اعلان ہوگیا ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کے اعلان کے مطابق طلبہ یونین کے انتخابات ہوں گے ۔ تقریباً آٹھ سال کے وقفے کے بعد انتخابات کا اعلان طلبہ کی مسلسل جدوجہد اور ان کے جمہوری مطالبے کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔ طلبہ کے احتجاج کے بعد یونیورسٹی کے پراکٹر پروفیسر محمد نوید خان کو بھی عہدے سے ہٹایا گیا ہے اور ان کی جگہ پروفیسر محمد نفیس احمد انصاری کو ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ اب سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا اس مرتبہ انتخابات مقررہ تاریخ پر منعقد ہوں گے؟ طلبہ، اساتذہ، سابق طلبہ اور علیگ برادری کی نظریں انتظامیہ کے اس وعدے پر لگی ہوئی ہیں۔ انتخابات کا اعلان یقیناً ایک مثبت قدم ہے، لیکن اس کی حقیقی کامیابی اسی وقت ہوگی جب اعلان عملی شکل اختیار کرے گا اور طلبہ اپنے نمائندوں کا انتخاب کرسکیں گے۔ طلبہ یونین محض ایک انتخابی ادارہ نہیں، بلکہ طلبہ کی آواز، ان کی قیادت، سیاسی و سماجی شعور اور جمہوری تربیت کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ اس کے ذریعے طلبہ اپنے مسائل انتظامیہ تک پہنچاتے ہیں، تعلیمی ماحول میں بہتری کے لیے تجاویز پیش کرتے ہیں اور مستقبل کی قیادت کے لیے خود کو تیار کرتے ہیں۔ اگر انتخابات وقت پر ہوتے ہیں تو اس کا فائدہ صرف طلبہ کو نہیں بلکہ پوری یونیورسٹی کو پہنچ سکتا ہے۔اے ایم یو کی تاریخ گواہ ہے کہ اس ادارے نے ملک کو سیاست، تعلیم، صحافت، قانون، انتظامیہ اور سماجی خدمت کے میدانوں میں نمایاں شخصیات دی ہیں۔ اس لیے طلبہ کی جمہوری سرگرمیوں کو یونیورسٹی کی علمی و تہذیبی روایت سے الگ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا۔

وائس چانسلرز کی تین دہائیوں کی تاریخ پر ایک نظر

کسی بھی یونیورسٹی کی ترقی میں اساتذہ، طلبہ، غیر تدریسی عملے، سابق طلبہ اور انتظامیہ کا اپنا اپنا کردار ہوتا ہے، لیکن وائس چانسلر کی قیادت ادارے کی سمت متعین کرنے میں خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں گزشتہ تقریباً تین دہائیوں کے دوران مختلف شخصیات نے اس اہم منصب پر خدمات انجام دیں۔ ہر دور کو اس کے حالات، فیصلوں، ترجیحات اور نتائج کی روشنی میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اے ایم یو کے وائس چانسلرز کی سرکاری فہرست کے مطابق اس عرصے میں ڈاکٹر محمود الرحمٰن، محمد حامد انصاری، ڈاکٹر نسیم احمد، پروفیسر پی کے عبدالعزیز، لیفٹیننٹ جنرل ضمیر الدین شاہ، پروفیسر طارق منصور اور پروفیسر نعیمہ خاتون نے اس منصب پر خدمات انجام دیں۔ ان کے ادوار میں تعلیمی نظم و نسق، انتظامی اصلاحات، بنیادی ڈھانچے، نئے تعلیمی مراکز، تحقیق اور طلبہ کی ضروریات سے متعلق مختلف اقدامات سامنے آئے۔

ڈاکٹر محمود الرحمٰن: انتظامی اصلاحات اور زمینوں کے تحفظ کی اہمیت

ڈاکٹر محمود الرحمٰن، آئی اے ایس، نے یکم مئی 1995 سے 28 مئی 2000 تک اے ایم یو کے وائس چانسلر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ ان کا دور اس اعتبار سے اہم سمجھا جاتا ہے کہ یونیورسٹی کے تعلیمی اور انتظامی نظام میں بہتری پر توجہ دی گئی۔ ان کے دور سے متعلق دستیاب سوانحی معلومات میں تعلیمی سیشن بروقت شروع کرانے، ہاسٹلوں کے میس نظام کو بہتر بنانے، داخلوں کے عمل کی نگرانی اور نتائج کے اعلان میں تاخیر کم کرنے جیسے اقدامات کا ذکر ملتا ہے۔ ڈاکٹر محمود الرحمٰن کے حوالے سے یونیورسٹی کی زمینوں کو ناجائز قبضوں سے آزاد کرانے کا معاملہ بھی خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ جامعہ کی زمین صرف ایک جائیداد نہیں، بلکہ اس کے تعلیمی مستقبل، ترقیاتی منصوبوں اور آنے والی نسلوں کے حقوق سے وابستہ اثاثہ ہے۔ اگر کسی انتظامی اقدام کے ذریعے یونیورسٹی کی قانونی ملکیت والی زمین کو ناجائز قبضے سے واپس حاصل کیا جائے تو اسے ادارے کے مفاد میں ایک قابل قدر کامیابی سمجھا جانا چاہیے۔علیگ برادری میں ڈاکٹر محمود الرحمٰن کے اس پہلو کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے کہ انہوں نے یونیورسٹی کے اثاثوں کے تحفظ کو اہمیت دی۔ ان کی خدمات کا مکمل جائزہ لیتے ہوئے زمینوں سے متعلق ہر کارروائی کی تفصیلات، متعلقہ ریکارڈ اور اس سے یونیورسٹی کو حاصل ہونے والے فائدے کو دستاویزی شکل دینا بھی ضروری ہے۔ اس سے ان کے دور کے انتظامی کاموں کو تاریخی اعتبار سے محفوظ کیا جاسکے گا۔

محمد حامد انصاری: سفارتی تجربہ اور تعلیمی قیادت

محمد حامد انصاری نے 28 مئی 2000 سے 30 مارچ 2002 تک یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی ذمہ داری نبھائی۔ وہ ایک تجربہ کار سفارت کار تھے اور بعد میں ہندوستان کے نائب صدر کے منصب پر بھی فائز ہوئے۔ ان کا اے ایم یو سے تعلق اس لحاظ سے اہم ہے کہ جامعہ کی قیادت میں مختلف علمی اور انتظامی پس منظر رکھنے والی شخصیات نے کردار ادا کیا۔ ان کے مختصر دور کا جائزہ لیتے ہوئے تعلیمی پالیسی، یونیورسٹی کے انتظامی فیصلوں اور ادارے کے قومی و بین الاقوامی علمی روابط کو بھی سامنے رکھنا چاہیے۔

ڈاکٹر نسیم احمد: انتظامی تجربے کا دور

ڈاکٹر نسیم احمد، آئی اے ایس، نے 8 مئی 2002 سے 7 اپریل 2007 تک وائس چانسلر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ ان کا پس منظر سول انتظامیہ سے وابستہ تھا، اس لیے یونیورسٹی کے مالی اور انتظامی معاملات کو منظم انداز میں چلانا ان کے دور کی اہم ذمہ داریوں میں شامل تھا۔ کسی بڑے رہائشی تعلیمی ادارے میں مالی وسائل، تدریسی ضروریات، طلبہ کی سہولتوں اور انتظامی معاملات کے درمیان توازن قائم رکھنا آسان کام نہیں۔ ان کے دور کی مکمل قدر پیمائی کے لیے یونیورسٹی کے سالانہ ریکارڈ، ترقیاتی منصوبوں اور انتظامی فیصلوں کا تفصیلی مطالعہ مفید ہوگا۔

پروفیسر پی کے عبدالعزیز: نئے مراکز اور اعلیٰ تعلیم کی توسیع

پروفیسر پی کے عبدالعزیز نے 11 جون 2007 سے 17 جنوری 2012 تک اے ایم یو کی قیادت کی۔ ان کے دور کا نمایاں پہلو یونیورسٹی کے تعلیمی دائرے کو وسعت دینے اور بیرونی تعلیمی روابط کو فروغ دینے کی کوششیں تھیں۔ مرشدآباد، ملاپورم اور کشن گنج میں اے ایم یو کے مراکز کے قیام کا منصوبہ اسی دور میں آگے بڑھا۔ ان مراکز کا بنیادی مقصد اعلیٰ تعلیم کے مواقع کو ان علاقوں تک پہنچانا تھا جہاں طلبہ کو معیاری تعلیمی اداروں تک رسائی میں دشواری پیش آتی تھی۔ مرشدآباد اور ملاپورم کے مراکز نے ان کے دور میں عملی شکل اختیار کی، جبکہ کشن گنج مرکز بعد میں افتتاح کے مرحلے تک پہنچا۔ان مراکز کی اہمیت صرف یونیورسٹی کی جغرافیائی توسیع تک محدود نہیں۔ یہ اس تصور سے بھی وابستہ ہیں کہ معیاری اعلیٰ تعلیم زیادہ سے زیادہ طلبہ تک پہنچنی چاہیے اور کسی طالب علم کا مستقبل صرف اس کے شہر یا علاقے کی وجہ سے محدود نہیں ہونا چاہیے۔

لیفٹیننٹ جنرل ضمیر الدین شاہ: نظم و ضبط، تاریخی عمارتیں اور تعلیمی سرگرمیاں

لیفٹیننٹ جنرل ضمیر الدین شاہ، ریٹائرڈ، نے 17 مئی 2012 سے 16 مئی 2017 تک وائس چانسلر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ ان کا انتظامی پس منظر فوج سے وابستہ تھا، اور ان کے دور میں کیمپس میں نظم و ضبط، تعلیمی سرگرمیوں کے تسلسل اور تاریخی عمارتوں کے تحفظ جیسے موضوعات نمایاں رہے۔ اے ایم یو کی عمارتیں، رہائشی ہال اور تاریخی مقامات محض اینٹ اور پتھر کا مجموعہ نہیں، بلکہ ادارے کی تاریخ اور تہذیبی شناخت کے امین ہیں۔ ان کی مرمت اور حفاظت یونیورسٹی کی علمی میراث کو آئندہ نسلوں تک پہنچانے کے لیے ضروری ہے۔ ان کے دور کے حوالے سے یونیورسٹی میں امن و نظم برقرار رکھنے اور تاریخی عمارتوں کی بحالی کے اقدامات کا ذکر ملتا ہے۔ تاہم کسی بھی وائس چانسلر کے پورے دور کو سمجھنے کے لیے کامیابیوں کے ساتھ اس وقت درپیش انتظامی اور تعلیمی چیلنجوں کو بھی تاریخی تناظر میں دیکھنا چاہیے۔

پروفیسر طارق منصور: طبی تعلیم، نئے شعبے اور تحقیق کے مواقع

پروفیسر طارق منصور نے 17 مئی 2017 سے 2 اپریل 2023 تک اے ایم یو کے وائس چانسلر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ وہ جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج سے وابستہ رہے تھے اور طب، تدریس اور انتظامیہ کا وسیع تجربہ رکھتے تھے۔ ان کے دور میں میڈیکل اور پیرا میڈیکل تعلیم کے نئے مواقع پیدا کرنے، کالج آف نرسنگ کے قیام، شعبۂ امراضِ قلب اور بایومیڈیکل انجینئرنگ، مصنوعی ذہانت اور سبز و قابل تجدید توانائی جیسے شعبوں میں مراکز اور تعلیمی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے اقدامات سامنے آئے۔ اس دور میں نئے کورسز، ڈیجیٹل تدریسی سہولتوں، اسمارٹ کلاس رومز اور تحقیقی سرگرمیوں کو بھی اہمیت دی گئی۔ کووڈ-19 وبا کے دوران آن لائن تعلیم اور ڈیجیٹل وسائل کی ضرورت نے یونیورسٹیوں کے روایتی نظام کو نئے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی اہمیت واضح کی۔ پروفیسر طارق منصور کے دور میں اے ایم یو کو قومی تشخیصی و منظوری کے ادارے، این اے اے سی، سے A+ گریڈ بھی حاصل ہوا۔ یہ ادارے کے تعلیمی معیار کے سلسلے میں ایک اہم پیش رفت تھی۔ نئے تعلیمی شعبوں، تحقیق اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق اقدامات کا مستقل فائدہ اسی وقت سامنے آتا ہے جب ان سہولتوں سے طلبہ اور محققین بھرپور استفادہ کرسکیں۔

پروفیسر نعیمہ خاتون: موجودہ دور اور طلبہ کی توقعات

پروفیسر نعیمہ خاتون نے 23 اپریل 2024 کو اے ایم یو کی وائس چانسلر کی حیثیت سے ذمہ داری سنبھالی۔ وہ یونیورسٹی کی پہلی خاتون وائس چانسلر ہیں۔ ان کے سامنے تعلیمی معیار کو بہتر بنانے، انتظامی امور کو مؤثر بنانے، طلبہ کے مسائل سننے اور جامعہ کی تاریخی شناخت کے ساتھ جدید تعلیمی تقاضوں کو آگے بڑھانے کی ذمہ داریاں ہیں۔ ان کے دور میں طلبہ یونین کے انتخابات کا اعلان ایک اہم پیش رفت ہے۔ طلبہ ایک طویل عرصے سے انتخابات کا مطالبہ کررہے تھے۔ مسلسل احتجاج کے بعد انتظامیہ کا انتخابات کے لیے تاریخ مقرر کرنا اس بات کی علامت ہے کہ طلبہ کے جمہوری مطالبات کو ادارہ جاتی عمل میں جگہ دینا ضروری ہے۔ تاہم اعلان اور عمل درآمد کے درمیان فرق کو ختم کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ اگر 5 نومبر کو انتخابات مقررہ پروگرام کے مطابق منعقد ہوتے ہیں تو یہ طلبہ اور انتظامیہ کے درمیان اعتماد کی بحالی کی سمت ایک اہم قدم ہوگا۔ اس کے برعکس کسی غیر ضروری تاخیر سے طلبہ میں مایوسی پیدا ہوسکتی ہے۔

وائس چانسلر کا اصل امتحان: ادارے کے مفاد میں دیرپا کام

گزشتہ تین دہائیوں کے مختلف ادوار پر نظر ڈالنے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یونیورسٹی کی ترقی کسی ایک شعبے یا ایک شخصیت کی کوششوں کا نتیجہ نہیں ہوتی۔ کہیں تعلیمی مراکز کی توسیع اہم ہوتی ہے، کہیں طبی تعلیم اور تحقیق کو فروغ دینا ضروری ہوتا ہے، کہیں تاریخی عمارتوں کی حفاظت تو کہیں انتظامی اصلاحات اور طلبہ کے جمہوری حقوق کا تحفظ بنیادی مسئلہ بن جاتا ہے۔وائس چانسلر کی کامیابی کا ایک اہم پیمانہ یہ بھی ہونا چاہیے کہ ان کے دور میں کیے گئے اقدامات ان کے عہدے سے سبک دوشی کے بعد بھی یونیورسٹی کے کام آتے رہیں۔ نئے شعبے، بہتر تعلیمی سہولتیں، شفاف داخلہ نظام، تحقیق کے مواقع، محفوظ زمینیں اور مضبوط انتظامی ڈھانچہ کسی بھی جامعہ کا دیرپا سرمایہ ہوتے ہیں۔اسی لیے ضروری ہے کہ اے ایم یو کے ہر وائس چانسلر کے دور کی کامیابیوں اور مشکلات کا جائزہ مستند ریکارڈ کی بنیاد پر لیا جائے۔ اس سے نہ صرف اچھی مثالیں سامنے آئیں گی بلکہ آئندہ آنے والی قیادت کے لیے بھی رہنمائی میسر ہوگی۔

طلبہ یونین کی بحالی سے یونیورسٹی کو کیا فائدہ ہوگا؟

اے ایم یو طلبہ یونین کی بحالی کو صرف طلبہ کی نمائندگی کا معاملہ سمجھنا کافی نہیں۔ ایک فعال اور ذمہ دار طلبہ یونین انتظامیہ اور طلبہ کے درمیان رابطے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ ہاسٹلوں کی سہولتیں، لائبریریوں کے اوقات، تعلیمی ماحول، اسکالرشپ، کھیلوں کی سرگرمیاں، طلبہ کی حفاظت اور دیگر بنیادی مسائل پر منتخب نمائندے منظم انداز میں بات کرسکتے ہیں۔ انتخابات طلبہ کو اختلافِ رائے کے باوجود مکالمہ، برداشت، نظم و ضبط اور جمہوری طریقۂ کار سیکھنے کا موقع بھی فراہم کرتے ہیں۔ یونیورسٹی سے فارغ ہونے والے طلبہ جب عملی زندگی میں جاتے ہیں تو یہی تجربات انہیں سماجی اور قومی معاملات کو سمجھنے میں مدد دے سکتے ہیں۔البتہ طلبہ یونین کی افادیت اسی وقت برقرار رہ سکتی ہے جب منتخب نمائندے ذاتی مفادات سے بلند ہوکر طلبہ کی فلاح، علمی ماحول اور یونیورسٹی کے وقار کو ترجیح دیں۔ اسی طرح انتظامیہ کو بھی طلبہ کے جائز مطالبات سننے اور ان کے ساتھ بامعنی مکالمہ قائم رکھنے کا رویہ اختیار کرنا ہوگا۔

علیگ برادری کے نام ایک پیغام

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سر سید احمد خان کے تعلیمی خواب کی علامت ہے۔ اس ادارے کی عظمت صرف اس کے ماضی میں نہیں، بلکہ اس مستقبل میں بھی پوشیدہ ہے جسے آج کے طلبہ اور اساتذہ مل کر تشکیل دے رہے ہیں۔ گزشتہ تین دہائیوں کے وائس چانسلرز نے مختلف حالات میں یونیورسٹی کی قیادت کی۔ ان کے ادوار میں کیے گئے تعلیمی، انتظامی اور ترقیاتی اقدامات کا منصفانہ جائزہ لینا ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔ جس نے ادارے کے لیے اچھا کام کیا، اس کی خدمات کو تسلیم کیا جانا چاہیے، اور جہاں بہتری کی گنجائش باقی رہی، وہاں سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ ڈاکٹر محمود الرحمٰن جیسے سابق وائس چانسلرز کے انتظامی اقدامات ہوں، نئے تعلیمی مراکز کا قیام ہو، طبی تعلیم اور تحقیق میں پیش رفت ہو یا تاریخی عمارتوں کا تحفظ، ہر دیرپا کامیابی کو دستاویزی شکل دینا ضروری ہے۔ اس سے اے ایم یو کی تاریخ محض شخصیات اور عہدوں کی فہرست نہیں رہے گی بلکہ ادارے کی تعمیر و ترقی کی ایک بامعنی داستان بن سکے گی۔آج طلبہ یونین کے انتخابات کا اعلان ایک نئی امید لے کر آیا ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ انتظامیہ اپنے وعدے کو پورا کرے، طلبہ ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور علیگ برادری جامعہ کی علمی روایت کو مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کرے۔ اے ایم یو انتخابات کا انعقاد صرف ووٹ ڈالنے کا دن نہیں ہوگا؛ یہ طلبہ کی نمائندگی، جمہوری روایت اور انتظامیہ پر اعتماد کی بحالی کا امتحان بھی ہوگا۔ اے ایم یو کا مفاد اسی میں ہے کہ وعدے پورے ہوں، تعلیمی ماحول مضبوط ہو اور طلبہ کی آواز کو احترام کے ساتھ سنا جائے۔ علی گڑھ کی یہ درس گاہ ہمیشہ علم، تہذیب اور روشن مستقبل کی علامت رہی ہے۔ اس کی عظمت کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ماضی کی اچھی روایات کو محفوظ رکھا جائے، حال کے مسائل حل کیے جائیں اور مستقبل کے لیے ایسے فیصلے کیے جائیں جن کا فائدہ آنے والی نسلوں تک پہنچے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Bharat Express

Recent Posts

Yogi Challenges Akhilesh: ’میں تیار ہوں، آپ بھی ایودھیا سے الیکشن لڑ کر دکھائیں‘، یوگی آدتیہ ناتھ کا اکھلیش یادو کو کھلا چیلنج

وزیر اعلیٰ نے ایودھیا کے حوالے سے اکھلیش یادو کے سیاسی بیانات کا جواب دیتے…

5 minutes ago

Dhruv Rathi Detained by Delhi Police: دہلی پولیس کی بڑی کارروائی، سی جے پی کے احتجاج سے پہلے یوٹیوبر دھروو راٹھی حراست میں

کروڑوں فالوورز والے یوٹیوبر کو گروگرام میں ان کی رہائش گاہ سے حراست میں لیے…

29 minutes ago

Mamata Accuses Delhi Police of Abduction: ممتا بنرجی کا دہلی پولیس پر ’اغوا‘ کرنے کا الزام، تھانے میں دھرنے پر بیٹھیں

ٹی ایم سی کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ ممتا بنرجی کو دہلی پولیس…

1 hour ago

PM Modi’s Visit to Chennai: وزیر اعظم نریندر مودی کا چنئی دورہ، 13 ہزار کروڑ روپے سے زائد کے ترقیاتی منصوبوں کا دیں گے تحفہ

وزیر اعظم چنئی میٹرو ریل منصوبے کے دوسرے مرحلے میں پوناملّی-وڈاپالنی سیکشن کا افتتاح کریں…

1 hour ago