تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنی عظیم ضیافتی روایت کے لیے دنیا بھر میں مشہور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) نے حال ہی میں سر سید ڈے کے موقع پر ’عظیم دعوت طعام‘ کے نام سے ایک تاریخی عشائیہ کا اہتمام کیا۔ یہ دعوت کی روایت گزشتہ 111 برسوں سے جاری ہے اور اسے یونیورسٹی برادری کے لیے باعثِ فخر سمجھا جاتا ہے۔ اس بار اے ایم یو میں زیر تعلیم 37 ہزار طلبہ و طالبات اور 8 ہزار عملے کے افراد و مہمانوں کے لیے اس دعوت کا نظم کیا گیا ۔ اس خاص ضیافت کو اے ایم یو برادری میں ’عظیم دعوت طعام‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس عظیم ضیافت کے لیے کل 890 بکرے استعمال کیے گئے، جن کے گوشت سے 65 کوئنٹل قورمہ اور 35 کوئنٹل بریانی تیار کی گئی۔ جبکہ مٹھائی کے طور پر 90 کوئنٹل شاہی ٹکڑا (جو کہ ڈبل روٹی، ملائی اور چاشنی سے تیار ہوتا ہے) پیش کیا گیا۔ یہ دعوت یونیورسٹی کے تمام 20 ہالز میں منعقد کی گئی، جہاں ملک و بیرونِ ملک سے سابق طلبہ بھی شرکت کے لیے آتے ہیں۔
111 سال پرانی روایت
اس دعوت کی روایت 111 برس قدیم ہے، جو سنہ 1913-14 میں شروع ہوئی تھی۔ ابتدا میں ایس ایس ہال میں اجتماعی دعوت ہوتی تھی، لیکن 1990 کی دہائی میں طلبہ کی تعداد بڑھنے پر یہ دعوت اے ایم یو کے کرکٹ پویلین میں منعقد ہونے لگی، جہاں ہر ہال کے نام سے الگ الگ پنڈال لگائے جاتے تھے۔ طلبہ اور ہالز کی تعداد میں اضافے کے بعد تقریباً 2000 کے بعد سے ہال میں ہی کھانے کی روایت شروع ہو گئی۔
قابلِ فخر روایت کا حصہ
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) میں سر سید ڈے کے موقع پر منعقد ہونے والی ’عظیم دعوت طعام‘ صرف ایک دعوت نہیں، بلکہ یونیورسٹی کی اجتماعی روح اور 111 سال قدیم وراثت کی علامت ہے۔ اس میں کھانے کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے۔ چاہے یہ روایت 1913-14 میں شروع ہوئی ہو یا کورونا کے دور کے بعد اجتماعی کھانے کی بحالی، یہ روایت آج بھی اے ایم یو برادری کو ایک لڑی میں پروتی ہے اور یونیورسٹی کی تاریخی شناخت کا ایک قابلِ فخر حصہ بنی ہوئی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
پونم نے جمعرات کو اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے لکھا، ’’کافی…
اتر پردیش اور بہار سمیت 17 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ووٹر…
دہلی پولیس کی ڈی سی پی پی آر او نیہا یادو نے بتایا کہ این…
موبائل پر کال آتے ہی دکھائی دے گا کال کرنے والے کا نام، نئے نظام…
547 مقدمات درج، 182 کروڑ روپے سے زائد کی منشیات ضبط ہوئی ہیں اور منشیات…
راہل گاندھی کی حامی نیہا بورا نے کہا کہ ’بنگلہ دیش نے ہمیں ایک راستہ…